مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران پر نئے حملے رکوانے میں خلیجی رہنماؤں کا سب سے زیادہ کردار ہے: صدر ٹرمپ

سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششوں کے بعد ایران پر نیا امریکی حملہ مؤخر، صدر ٹرمپ کا بڑا انکشاف؛ تہران سے مذاکرات آج شروع ہونے کا امکان

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف ایک نئے بڑے فوجی حملے کا منصوبہ اپنے اہم خلیجی اتحادیوں، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر مؤخر کر دیا تاکہ جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔
خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) اور اے ایف پی (AFP) کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیوجرسی سے واشنگٹن روانگی کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف ایک انتہائی بڑے فوجی آپریشن کے لیے مکمل طور پر تیار تھیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ کارروائی کی جاتی تو یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کا سب سے بڑا فوجی حملہ ثابت ہوتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ خطے کے اتحادی ممالک کے رہنماؤں، بالخصوص سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ مشاورت اور ایرانی حکام کی جانب سے سفارتی رابطوں کے بعد انہوں نے حملہ روکنے کا فیصلہ کیا۔
امریکی صدر کے مطابق انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے براہِ راست مشورہ کیا اور دریافت کیا کہ آیا حملہ کیا جائے یا مذاکرات کو موقع دیا جائے۔ ان کے بقول شہزادہ محمد بن سلمان نے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ کسی بڑے حملے کے نتائج غیر متوقع اور پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں، اس لیے معاہدے کی کوششوں کو جاری رکھا جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی سعودی ولی عہد سے ہفتے کے روز ہونے والی گفتگو کے بعد خلیجی اتحادیوں کے درمیان رابطوں میں تیزی آئی، جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کے "بنیادی خدوخال” طے پا گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مؤخر کیا گیا تاکہ مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل تلاش کیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز پیر سے متوقع ہے، اگرچہ انہوں نے مذاکرات کے مقام یا شریک ممالک کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائی سے گریز کرتے ہوئے سفارت کاری کو ایک اور موقع دے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ حملہ کرتا تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جاتے اور عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی تھی۔
دوسری جانب ایران نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے امریکہ سے حملے روکنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی سفارتی عمل میں برابری اور باہمی احترام کو بنیادی شرط سمجھتا ہے۔
ادھر ایرانی حکام نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک نئے متبادل راستے سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کا مقصد خطے میں تجارتی اور توانائی کی ترسیل کو مزید محفوظ بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، گزشتہ کئی ماہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اتوار کے روز بھی آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری جہاز میں دھماکے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تاہم ایران پر حملے مؤخر کیے جانے کے امریکی اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں فوری مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً چار ڈالر فی بیرل تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں نے جنگ کے فوری خطرات میں کمی کی علامت قرار دیا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ تنازع کئی ماہ سے جاری ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد مرتبہ سفارتی کوششیں بھی کی گئیں۔ اگرچہ ماضی میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے مختلف معاہدوں پر بات چیت ہوئی، تاہم وہ مستقل نتائج دینے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دوبارہ کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت نتائج کی دھمکیاں دی تھیں اور امریکی میڈیا میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ واشنگٹن ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ ان اطلاعات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی سفارت خانوں اور فوجی تنصیبات کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔
تاہم تازہ سفارتی پیش رفت نے خطے میں فوری فوجی تصادم کے خدشات کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
دفاعی اور سفارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی پورے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک کی سفارتی کوششیں اس بحران کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ایک اہم کوشش تصور کی جا رہی ہیں، تاہم حتمی نتائج کا انحصار دونوں فریقوں کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button