انٹرٹینمینٹتازہ ترین

سعودی تخلیق کار مزنہ بنت عقاب کا منفرد سفر، اونٹوں کو سوشل میڈیا کے عالمی ستارے بنا دیا، بدوی ثقافت کا نرم اور خوبصورت رخ دنیا کے سامنے پیش

میں پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ اونٹ نرم دل، خوبصورت اور محبت کے قابل مخلوق ہیں

ریاض: سعودی عرب کی نوجوان ڈیجیٹل تخلیق کار مزنہ بنت عقاب نے روایتی بدوی ثقافت کو جدید سوشل میڈیا سے جوڑتے ہوئے ایک منفرد مثال قائم کر دی ہے۔ انہوں نے اپنے اونٹوں کے ساتھ روزمرہ زندگی کی دلچسپ اور جذبات سے بھرپور ویڈیوز کے ذریعے نہ صرف لاکھوں ناظرین کی توجہ حاصل کی بلکہ اونٹوں کو بھی سوشل میڈیا کے مقبول ترین "سٹارز” میں شامل کر دیا ہے۔

سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مزنہ کی ویڈیوز لاکھوں اور بعض اوقات کروڑوں افراد تک پہنچتی ہیں، جہاں ناظرین انہیں صرف ایک کانٹینٹ کریئیٹر کے طور پر نہیں بلکہ سعودی ثقافت، صحرائی زندگی اور جانوروں سے محبت کی ایک نئی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

بدوی ثقافت کو نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش

عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مزنہ بنت عقاب نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ اونٹ صرف صحرائی زندگی کا حصہ یا معاشی اثاثہ نہیں بلکہ انتہائی حساس، ذہین، وفادار اور محبت کرنے والے جانور ہیں۔

انہوں نے کہا:

"میں پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ اونٹ نرم دل، خوبصورت اور محبت کے قابل مخلوق ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ انہیں صرف صحرا یا سخت زندگی کی علامت کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ ان کی شخصیت اور جذبات کو بھی سمجھیں۔”

ان کے مطابق سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ بن چکا ہے جس کے ذریعے سعودی عرب کی قدیم بدوی روایات کو جدید انداز میں نوجوان نسل اور عالمی سامعین تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

اونٹ، صرف جانور نہیں بلکہ خاندان کا حصہ

مزنہ کے لیے اونٹ صرف مویشی یا کاروباری سرمایہ نہیں بلکہ خاندان کے افراد کی طرح ہیں۔

وہ جب اپنے ریوڑ کے درمیان جاتی ہیں تو صرف معمول کے مطابق معائنہ نہیں کرتیں بلکہ ہر اونٹ کے مزاج، صحت اور رویے پر خصوصی توجہ دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک نظر ڈال کر اندازہ لگا لیتی ہیں کہ کون سا اونٹ بیمار ہے، کون اداس ہے، کون خوش ہے، کون کسی بات پر ناراض ہے یا کون صرف توجہ چاہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر اونٹ کی اپنی الگ شخصیت، عادات اور مزاج ہوتا ہے، جسے مسلسل ساتھ رہنے سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔

"میں ان سے بگڑے ہوئے بچوں جیسا سلوک کرتی ہوں”

مزنہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اونٹوں سے اسی طرح پیش آتی ہیں جیسے والدین اپنے لاڈلے بچوں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

انہوں نے کہا:

"میں ان سے ایسے سلوک کرتی ہوں جیسے وہ چھوٹے بگڑے ہوئے بچے ہوں، اور جب میں بگڑا ہوا کہتی ہوں تو واقعی ہر لحاظ سے یہی مطلب ہوتا ہے۔”

ان کے مطابق جانور بھی محبت، توجہ اور جذبات کو محسوس کرتے ہیں، اسی لیے وہ ہر اونٹ کے ساتھ انفرادی وقت گزارنے کی کوشش کرتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر منفرد انداز

مزنہ بنت عقاب کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب ان کا منفرد تخلیقی انداز بھی ہے۔

ان کی ویڈیوز میں اونٹ صرف صحراؤں میں چلتے ہوئے نظر نہیں آتے بلکہ جدید طرزِ زندگی کے دلچسپ مناظر میں دکھائی دیتے ہیں۔

کبھی اونٹ کافی تیار کرنے کے دوران مزنہ کے ساتھ ہوتے ہیں، کبھی مختلف کھانوں کا ذائقہ چکھتے دکھائی دیتے ہیں، کبھی سوشل میڈیا کے وائرل ٹرینڈز میں حصہ لیتے ہیں، تو کبھی محبت، حسد، تجسس یا شرارت بھرے انداز میں ردِعمل دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یہ منفرد انداز دنیا بھر کے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے اور لاکھوں افراد روزانہ ان کی نئی ویڈیوز کا انتظار کرتے ہیں۔

طلائی تاج بن گیا پہچان

مزنہ کی ہر ویڈیو میں ایک اور چیز ناظرین کی توجہ حاصل کرتی ہے، وہ ہے ان کا مخصوص سنہری تاج۔

انہوں نے بتایا کہ یہ تاج صرف فیشن کا حصہ نہیں بلکہ ان کی شخصیت کی علامت ہے۔

ان کے مطابق:

"یہ تاج میرے لیے اعتماد، طاقت، وقار اور خود اعتمادی کی نمائندگی کرتا ہے، اسی لیے میں اسے تقریباً ہر ویڈیو میں پہنتی ہوں۔”

یہ تاج اب ان کی برانڈ شناخت بن چکا ہے اور مداح انہیں اسی انداز میں پہچانتے ہیں۔

ملینز ویوز اور عالمی مقبولیت

مزنہ بنت عقاب کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

ان کی متعدد سنیپ چیٹ اسپاٹ لائٹ ویڈیوز پر ایک ملین سے لے کر 8.4 ملین تک ویوز اور بھرپور عوامی ردِعمل سامنے آ چکا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ ان کے منفرد انداز، اونٹوں سے محبت اور سعودی ثقافت کی خوبصورت جھلک کو سراہ رہے ہیں۔

اونٹوں کے بارے میں غلط تصور بدلنے کی کوشش

مزنہ کا کہنا ہے کہ عرب معاشرے میں ایک پرانا تصور پایا جاتا ہے کہ اونٹ انسان کے دل کو سخت بنا دیتے ہیں، لیکن وہ اس خیال کو غلط ثابت کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا:

"میں چاہتی ہوں کہ لوگ اس پرانے تصور کو بھول جائیں۔ اونٹ دل کو سخت نہیں کرتے بلکہ یہ انتہائی نرم مزاج جانور ہیں۔ میں انہیں خوبصورت، فنکارانہ اور محبت بھرے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہوں تاکہ ہر عمر کے لوگ ان سے محبت کریں۔”

اونٹوں کی ذہنی خوشی کا بھی خیال

مزنہ صرف خوراک اور دیکھ بھال تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ اونٹوں کی ذہنی خوشی کا بھی خصوصی خیال رکھتی ہیں۔

وہ ان کے لیے مختلف سرگرمیاں ترتیب دیتی ہیں، نئی خوراکیں متعارف کراتی ہیں، شدید گرمی میں انہیں ٹھنڈک پہنچانے کے انتظامات کرتی ہیں اور ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ:

"جیسے انسان تفریح چاہتے ہیں، ویسے ہی جانور بھی نئی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جب آپ اونٹوں کے لیے کچھ منفرد کرتے ہیں تو ان کی خوشی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔”

مزاین مقابلے میں شرکت کا خواب

مزنہ بنت عقاب کا اگلا بڑا ہدف سعودی عرب کے عالمی شہرت یافتہ اونٹوں کے مقابلۂ حسن "مزاین” میں شرکت کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے چند بہترین اونٹوں کو اس مقابلے میں شامل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق یہ مقابلہ صرف خوبصورت اونٹ رکھنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے برسوں کی محنت، بہترین نگہداشت، نسل، تربیت اور وسیع تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ سال اپنے اونٹوں کو اس باوقار مقابلے میں پیش کریں گی۔

ثقافت، محبت اور ڈیجیٹل دنیا کا حسین امتزاج

ثقافتی ماہرین کے مطابق مزنہ بنت عقاب کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ روایتی ثقافت کو جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی سطح پر مؤثر انداز میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

ان کی ویڈیوز نہ صرف سعودی عرب کے صحرائی ورثے، بدوی روایات اور اونٹوں کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کر رہی ہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت اور انسان و فطرت کے درمیان مضبوط تعلق کا بھی مثبت پیغام دے رہی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مزنہ بنت عقاب نے سوشل میڈیا کو صرف تفریح کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے ثقافتی سفارت کاری، مثبت سوچ اور سعودی شناخت کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا مؤثر پلیٹ فارم بنا دیا ہے، جس کے باعث وہ آج لاکھوں افراد کے لیے ایک متاثر کن شخصیت بن چکی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button