
عوامی مسائل سے علیحدگی پسند ایجنڈے تک: نقاب اتر گیا
سرغنہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق کشمیر کے لوگ اپنا جھنڈا ، اپنی اسمبلی اور اپنا پاسپورٹ بھی رکھیں گے اور یہی ہمارا خواب ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
مظفرآباد:عوامی مسائل سے علیحدگی پسند ایجنڈے تک : نقاب اتر گیا۔ابتدا آٹے، بجلی اور مہنگائی کے نعروں سے ہوئی، جلد واضح ہو گیا کہ کچھ عناصر کا اصل ہدف ایک علیحدگی پسند ایجنڈا ہے۔
عوامی مشکلات پر بنائی گئی ہمدردی ایسے بیانیے کی طرف موڑا گیا جو کشمیر اور ریاست کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے۔پاسپورٹ، الگ جھنڈے اور الگ ریاستی شناخت کے مطالبات کا اصل مقاصد انڈیا کے ایجنڈے کو تقویت دینا ہے ۔
گزشتہ چند دنوں کے واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی مطالبات کے پردے میں سیاسی انتشار کا بیانیہ چڑھایا جا رہا ہے۔
سرغنہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق کشمیر کے لوگ اپنا جھنڈا ، اپنی اسمبلی اور اپنا پاسپورٹ بھی رکھیں گے اور یہی ہمارا خواب ہے، جب بھی ہم میں سے ایک بھی زندہ رہے گا وہ حقِ ملکیت، حقِ آزادی، حقِ اختیار کی لڑائی کو آگے بڑھائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ بیانیہ بھارتی بیانے کی عکاسی ہے اور اسکو بھارتی میڈیا، بھارت نواز سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور پاکستان مخالف حلقوں کی غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ماہرین کاکہناہے کہ کشمیر کاز ہمیشہ اتحاد، سیاسی استقامت اور بین الاقوامی قانونی مؤقف کی بنیاد پر آگے بڑھا ہے، تقسیم پیدا کرنا بھارتی خواہش ہے ،جو عناصر آزاد کشمیر میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں، وہ دانستہ طور پر انہی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں جو کشمیر کے بنیادی مقدمے کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔



