پاکستان پریس ریلیزاہم خبریںتازہ ترین

خضدار میں 10 اور خاران میں 7 دہشت گرد مارے گئے، متعدد زخمی، اسلحہ و گولہ بارود برآمد

کارروائی کے دوران فتنہ الہندستان سے وابستہ 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف دو الگ الگ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 17 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کردیا۔ کارروائیاں ضلع خضدار کے پہاڑی علاقے شور پارود اور جنوب مغربی ضلع خاران میں کی گئیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق خضدار میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ خاران میں ایک دوسری کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج سے وابستہ 7 دہشت گرد مارے گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا۔

خضدار کے شور پارود میں 10 دہشت گرد ہلاک

سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق ضلع خضدار کے پہاڑی علاقے شور پارود میں سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے مصدقہ انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی کی اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر انداز میں آپریشن کیا۔

کارروائی کے دوران فتنہ الہندستان سے وابستہ 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں اور نقل و حرکت کے راستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے۔

خاران میں فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک

دوسری اہم کارروائی بلوچستان کے جنوب مغربی ضلع خاران میں کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج سے وابستہ 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔

سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران جدید ہتھیاروں اور جنگی سامان کے ذخیرے بھی برآمد کیے۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے جدید اسلحہ، بھاری مقدار میں گولہ بارود، دیگر جنگی سامان، دو گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔

یہ برآمدگیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گرد گروہ علاقے میں اپنی کارروائیوں کے لیے اسلحہ اور لاجسٹک سہولیات استعمال کر رہے تھے۔

دہشت گردوں کے خلاف کارروائی انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی

سکیورٹی ذرائع کے مطابق خضدار اور خاران میں کارروائیوں کے لیے موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کو بنیاد بنایا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف موجودہ حکمت عملی میں انٹیلی جنس معلومات، نگرانی، علاقے کی نشاندہی اور بروقت کارروائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سکیورٹی ادارے مشتبہ نقل و حرکت اور دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کے بارے میں موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں۔

حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کو منظم ہونے سے پہلے ہی توڑنا اور شہری علاقوں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانا ہے۔

خاران اور لاجے میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا انکشاف

سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خاران میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد خاران اور لاجے کے علاقوں میں لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

ذرائع کے مطابق دہشت گرد گروہ مختلف جرائم اور پرتشدد سرگرمیوں کے ذریعے علاقے میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں ایسے عناصر کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

بھاری مقدار میں اسلحہ اور جنگی سامان برآمد

خاران آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے جدید اسلحہ، بھاری مقدار میں گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان برآمد ہونا بھی کارروائی کا اہم پہلو ہے۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق برآمد ہونے والا سامان دہشت گردوں کی آپریشنل صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ دو گاڑیوں اور ایک موٹر سائیکل کی برآمدگی بھی دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور لاجسٹک سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

برآمد شدہ سامان کو مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور رابطوں کا سراغ لگایا جاسکے۔

ایک دن قبل بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملے

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے ایک روز قبل دہشت گردوں نے بھی دو مختلف حملے کیے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق جمعہ کو بلوچستان میں دہشت گردی کے دو مختلف واقعات میں کم از کم 11 افراد زخمی ہوئے، جن میں 6 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

حکام کے مطابق ان حملوں کے بعد سکیورٹی اداروں نے مختلف علاقوں میں نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کیا۔

دہشت گردی کے واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی کو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بلوچستان میں سکیورٹی آپریشنز کا دائرہ وسیع

بلوچستان کا جغرافیہ، دشوار گزار پہاڑی علاقے اور وسیع رقبہ سکیورٹی اداروں کے لیے مختلف نوعیت کے چیلنجز پیدا کرتا ہے۔ ایسے علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے نہ صرف زمینی فورسز بلکہ مؤثر انٹیلی جنس اور نگرانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

خضدار اور خاران میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک رسائی حاصل کی گئی، جس کے بعد کارروائی کرکے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

حکام کے مطابق دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ایسے آپریشنز کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور لاجسٹک نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے۔

24 گھنٹوں میں 17 ہلاکتیں، سکیورٹی فورسز کی اہم کامیابی

گزشتہ 24 گھنٹوں میں بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سکیورٹی فورسز کی اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

خضدار میں 10 جبکہ خاران میں 7 دہشت گردوں کی ہلاکت سے دہشت گرد گروہوں کی کارروائی کی صلاحیت کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ بالخصوص خاران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تباہی اور بھاری مقدار میں جنگی سامان کی برآمدگی کو اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

سکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو عوامی زندگی، معاشی سرگرمیوں اور امن و امان کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

قومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری

بلوچستان میں حالیہ آپریشنز ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان کو مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔ سکیورٹی ادارے ملک بھر میں دہشت گرد گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

حالیہ کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ عوام کا تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔ مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت اطلاع، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون اور قومی سطح پر اتحاد دہشت گردی کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

امن کے قیام کے لیے کارروائیاں ناگزیر

بلوچستان میں پائیدار امن نہ صرف صوبے کے عوام بلکہ پورے ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ امن و امان بہتر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔

خضدار اور خاران میں ہونے والی کارروائیوں کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے میں مزید کلیئرنس اور نگرانی کا عمل جاری رہنے کا امکان ہے تاکہ دہشت گردوں کے ممکنہ باقی ماندہ نیٹ ورک، سہولت کاروں اور رابطوں کا سراغ لگایا جاسکے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں خضدار اور خاران میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت اور متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی کارروائیاں بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی مہم کی ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button