پاکستاناہم خبریںکاروبار

پاکستان میں مالی سال 2027-2026 کے لیے 18 کھرب 77 ارب سے زائد کا بجٹ پیش

دفاعی بجٹ 3000 ارب روپے، تنخواہ داروں کے ٹیکس میں کمی: وزیر خزانہ

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعے کو مالی سال 2027-2026 کے لیے 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ بجٹ میں دفاع کے لیے 3000 ارب روپے جب کہ تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی بجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن بھی بجٹ تقریر کے دوران مسلسل نعرہ بازی کرتے رہے۔ بجٹ تقریر سے قبل تحریک انصاف کے ارکان مختلف پوسٹرز لے کر قومی اسمبلی میں داخل ہوئے جن پر عمران خان کی رہائی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافے کے مطالبات درج تھے۔
ارکان نے ’صوبوں کے حقوق کا خاتمہ نامنظور آئی ایم ایف کا بجٹ نا منظور‘ کے پلے کارڈ اڈا رکھے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہیں۔
بجٹ دستاویز میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے آٹھ ہزار ارب اور دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی وفاقی بجٹ کا حجم 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد جبکہ سابق ملازمین کی پینشن میں بھی اتنا ہی اضافہ تجویز کیا ہے۔
مزدور کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں بینکوں کے جاری کردہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرونِ ملک استعمال پر ہر ٹرانزیکشن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔
’اس ٹیکس کی وجہ سے رقم کی منتقلی کے لیے غیر روایتی ذرائع کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کی حوصلہ شکنی کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی اس شرح کو 0.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے تاکہ اسے معمول کی فنانشل ٹرانزیکشن کی سطح پر لایا جا سکے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکومتی کوششوں کو تقویت مل سکے۔‘
بجٹ تقریر کے مطابق حکومت نے آمدنی کی چار سلیبز کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے کے درمیان سالانہ کماتے ہیں، ان کے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
32 سے 41 لاکھ روپے کے درمیان آمدن والے تنخواہ داروں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
41 سے 56 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کی تجویز ہے۔
اسی طرح 56 سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے علاوہ ہم نے ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
فنانس بِل 2025-26 میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کری ایکٹرز) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے موصول ہونے والی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت بینکاری اور مالیاتی ادارے ایسی وصولیوں پر ٹیکس کٹوتی کریں گے۔
ایف بی آر حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو ٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں آٹھ کھرب پانچ ارب 40 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔
پینشن کی ادائیگیوں کے لیے ایک کھرب 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ تین کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے مجوزہ مالی اہداف اور اخراجات کا خاکہ تیار کیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 15 کھرب 26 ارب 40 کروڑ روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ غیر ٹیکس آمدنی کی مد میں پانچ کھرب 33 ارب 60 کروڑ روپے حاصل ہوں گے، جبکہ نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ چار کھرب ایک ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
دفاعی خدمات کے انتظامی امور کے لیے ایک کھرب سات ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مالی سال 2027-2026 کے دوران سبسڈیز کی مد میں ایک کھرب نو ارب 10 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے حکومتی اتحادی جماعتوں کی قیادت بالخصوص نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک مستحکم اور باوقار ملک کے طور پر ابھرا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button