
سانحہ باغبانپورہ کے بعد پنجاب حکومت کے سخت اقدامات: وزیر تعلیم کا غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کی بندش اور فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے کا اعلان
صوبے بھر میں تمام اکیڈمیوں کو ستمبر سے قبل اپنی رجسٹریشن مکمل کرنے اور متعلقہ محکموں سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے ہوں گے، بصورت دیگر انہیں دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں تعلیمی ادارے کی عمارت کا لینٹر گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد صوبہ بھر میں غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں اور تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام غیر رجسٹرڈ اکیڈمیاں بند کی جائیں گی، جبکہ سکولوں اور اکیڈمیوں کے لیے متعلقہ اداروں سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ بصورت دیگر ایسے اداروں کو سیل کر دیا جائے گا۔
وزیر تعلیم نے سانحہ باغبانپورہ کے مقام کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گرنے والی عمارت کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے ابتدائی تحقیقات اور ریسکیو کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور جاں بحق ہونے والے بچے کے گھر جا کر فاتحہ خوانی بھی کی۔
دورے کے دوران وزیر تعلیم نے اس بچے کے والد سے بھی ملاقات کی جو اس حادثے میں جاں بحق ہوا۔ والد نے اپنے بیٹے کی یادیں اور حادثے سے قبل کے حالات بیان کیے، جنہیں سن کر رانا سکندر حیات جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ حکومت اس سانحے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم نے ریسکیو کارروائی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ستھرا پنجاب پروگرام کے صفائی ورکرز سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے اس ورکر کو خصوصی طور پر سراہا جس نے ملبے تلے دبے بچے کو سب سے پہلے نکالنے کی کوشش کی تھی، اور اس کی بہادری اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس کے لیے تعریفی سند جاری کرنے کا اعلان کیا۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ باغبانپورہ اور کاہنہ میں پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعات نے پوری حکومت کو غمزدہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ حادثے سے تقریباً پندرہ روز قبل متعلقہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر نے مذکورہ سکول کا معائنہ کیا تھا اور انتظامیہ سے عمارت کا فٹنس سرٹیفکیٹ طلب کیا تھا۔ تاہم سکول انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ادارے کی مالکن حج پر موجود ہیں، جس کے باعث مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کی جا سکیں۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ سکول کی عمارت میں توسیع (ایکسٹینشن) کے لیے نہ تو متعلقہ اداروں سے این او سی (No Objection Certificate) حاصل کیا گیا اور نہ ہی عمارت کا فٹنس سرٹیفکیٹ موجود تھا، جو ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اس پہلو کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
رانا سکندر حیات نے اعلان کیا کہ لاہور میں موجود تقریباً 760 غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے بھر میں تمام اکیڈمیوں کو ستمبر سے قبل اپنی رجسٹریشن مکمل کرنے اور متعلقہ محکموں سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے ہوں گے، بصورت دیگر انہیں دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ صرف وہی سکول، اکیڈمیاں اور ٹیوشن سینٹرز کام کر سکیں گے جو بلڈنگ سیفٹی، فائر سیفٹی اور دیگر متعلقہ قوانین کے مطابق تمام لازمی سرٹیفکیٹس حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی تعلیمی ادارے کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو صرف رجسٹرڈ اور محفوظ تعلیمی اداروں میں داخل کروائیں اور ایسی عمارتوں میں قائم سکولوں یا اکیڈمیوں سے گریز کریں جن کے پاس قانونی رجسٹریشن یا فٹنس سرٹیفکیٹ موجود نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سکولوں اور اکیڈمیوں کی رجسٹریشن کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور مربوط بنائے گی تاکہ غیر قانونی یا غیر محفوظ تعلیمی اداروں کی بروقت نشاندہی اور نگرانی ممکن ہو سکے۔
رانا سکندر حیات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیمی اداروں کی نگرانی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا بھی فرض ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر ان کے علم میں کوئی غیر رجسٹرڈ سکول، اکیڈمی یا ٹیوشن سینٹر ہو تو اس کی فوری اطلاع محکمہ تعلیم یا متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
وزیر تعلیم نے یقین دہانی کرائی کہ باغبانپورہ سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات جاری ہیں اور واقعے میں غفلت یا لاپروائی کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دلائی جائے گی، جبکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا جامع سروے اور حفاظتی آڈٹ بھی کیا جائے گا۔



