
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحیت یا محاذ آرائی کے لیے نہیں بلکہ خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے قیام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کوئی اچانک پیش رفت نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں کئی دہائیوں پر محیط باہمی تعلقات اور دفاعی تعاون موجود ہے۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ اسی دیرینہ تعاون کو مزید منظم اور مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام کا فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور دفاعی تعاون کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے امن، سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کیلئے اہم ذمہ داری
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے خصوصی برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے لیے انتہائی اہم فریضہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ روابط موجود ہیں۔ سعودی عرب نے مختلف ادوار میں پاکستان کے ساتھ تعاون کیا جبکہ پاکستان نے بھی سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون کا دائرہ صرف دفاع تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی اور دیگر شعبوں میں بھی باہمی روابط کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
خطے میں امن اور خوشحالی پاکستان کی ترجیح
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ترقی کے لیے اندرونی امن و استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور بدامنی کے خاتمے کے بغیر معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہے، اس لیے حکومت قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی پر اطمینان
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دو مراحل میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور انتخابی عمل کے نتائج کو عوامی رائے کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں عوامی مینڈیٹ کا احترام بنیادی اصول ہے اور سیاسی اختلافات کو جمہوری و آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں لاقانونیت اور تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے، تاہم اس حق کا استعمال آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے۔
بات چیت اور تحمل سے مسائل حل کرنے کی پیشکش
آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ نئی حکومت امن، تحمل اور بردباری کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کا موقع دے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی مسئلے کو طاقت یا تصادم کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور آئینی طریقہ کار کو ترجیح دے گی۔ تاہم قانون کی عمل داری ہر صورت برقرار رکھی جائے گی اور کسی کو بھی ریاستی اداروں یا شہریوں کے خلاف تشدد اور لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
وزیراعظم نے سیاسی قوتوں اور متعلقہ حلقوں پر زور دیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے عوامی زندگی متاثر ہو یا امن و امان کی صورتحال خراب ہو۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ، شہداء کو خراج عقیدت
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاکستان کے بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم، مسلح افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی بدولت ملک میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی اور دہشت گردی کے خلاف قومی عزم مزید مضبوط ہوا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کے اس ناسور سے پاک کیا جائے گا اور ریاست اپنی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کو متحد ہوکر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے شہداء کے خاندانوں کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
یوم آزادی شایان شان طریقے سے منانے کا عزم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ 14 اگست کو یوم آزادی شایان شان طریقے سے منایا جائے گا اور اس موقع پر قوم ایک مرتبہ پھر پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ایک مضبوط، ترقی یافتہ، خوشحال اور اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام ایک عظیم جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ آزادی کی قدر اسی وقت ممکن ہے جب ملک کو معاشی طور پر مضبوط، سیاسی طور پر مستحکم اور سماجی طور پر متحد بنایا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت قائداعظم کے اصولوں اتحاد، ایمان اور تنظیم کی روشنی میں ملک کو ترقی کی راہ پر آگے لے جانے کے لیے کوشاں ہے۔
قومی یکجہتی اور ترقی کیلئے اجتماعی کردار ضروری
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی، معاشی ترقی، دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی استحکام کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں کو مشترکہ قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق معاشی ترقی کے لیے امن و امان، سیاسی استحکام، سرمایہ کاری اور پالیسیوں کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔
کابینہ اجلاس میں شہداء اور مرحوم رکن اسمبلی کیلئے دعا
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے نڈر سپوتوں کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
اجلاس میں بہاولپور سے قومی اسمبلی کے رکن مرحوم ملک اقبال چنڑ کے لیے بھی مغفرت کی دعا کی گئی۔ وزیراعظم اور کابینہ ارکان نے مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
دعا کے موقع پر ملک کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔
دفاعی تعاون کے نئے مرحلے کی جانب پیش رفت
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان کو خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات پہلے ہی مختلف شعبوں میں موجود ہیں، تاہم دفاعی تعاون کو مزید مربوط بنانے سے مشترکہ تربیت، سکیورٹی تعاون، دفاعی ٹیکنالوجی اور باہمی مشاورت کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ ایسے تعاون کا بنیادی مقصد قومی اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا، باہمی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان امن کا خواہاں ہے اور تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام، خودمختاری اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
امن، سلامتی اور ترقی کا قومی ایجنڈا
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب سے حکومت کی جانب سے تین اہم ترجیحات نمایاں ہوئیں: قومی سلامتی کا تحفظ، سیاسی و سماجی استحکام اور معاشی ترقی۔
ایک جانب حکومت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو علاقائی امن کے لیے استعمال کرنے پر زور دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے، آزاد کشمیر میں سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور ملک میں جمہوری و آئینی عمل کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کو ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر آگے لے جانے کے لیے قومی اتحاد اور اجتماعی عزم ناگزیر ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی، معیشت اور جمہوری استحکام کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور ان تمام شعبوں میں بیک وقت پیش رفت ہی پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔



