
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، تہران نے ٹرمپ کے مکمل کنٹرول کے دعوے کو مسترد کردیا
حسین طائب نے مزید کہا کہ ایران کی مرضی کے بغیر کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سید واطف ندیم – ادارت
ایران کا دوٹوک مؤقف: آبنائے ہرمز کا انتظام اور کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہے
تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ کا انتظام اور کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کا نام لیے بغیر کہا کہ جو لوگ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہ حقیقت کے برعکس بات کر رہے ہیں۔
حسین طائب نے مزید کہا کہ ایران کی مرضی کے بغیر کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حسین طائب: ایران کی مرضی کے بغیر بحری آمدورفت نہیں ہوگی
بسیج فورس کے سربراہ نے اپنے بیان میں آبنائے ہرمز پر ایران کے مؤقف کو انتہائی سخت انداز میں پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو عناصر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، ان کے دعوے درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے اختیار اور سکیورٹی مؤقف پر قائم ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے نتیجے میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
حسین طائب کے مطابق کسی بھی سفارتی پیش رفت یا مذاکرات کے باوجود آبنائے ہرمز کی صورتحال میں ایران کا بنیادی مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔
عمان کے ساتھ مذاکرات کے باوجود آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار
حسین طائب نے کہا کہ اگر عمان کے ساتھ مذاکرات طے بھی پا جاتے ہیں تو اس کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھولا نہیں جائے گا اور اس پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا۔
یہ بیان اس اعتبار سے اہم ہے کہ عمان ماضی میں بھی ایران اور دیگر ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے لیے ایک اہم واسطے کے طور پر سامنے آتا رہا ہے۔
ایرانی مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے معاملے کو محض سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل ہونے والا معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے اپنی قومی سلامتی اور تزویراتی مفادات سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔
امریکا سے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کا مطالبہ
بسیج فورس کے سربراہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکا کو جون میں کی گئی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف کو سابقہ مفاہمتوں اور وعدوں سے بھی جوڑ رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے پہلے ان شرائط اور مفاہمتوں پر عملدرآمد ضروری ہے جن پر فریقین کے درمیان اتفاق ہوا تھا۔
ٹرمپ کے دعوے اور تہران کا سخت ردعمل
ایرانی مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز پر اختیار، بحری آمدورفت اور سمندری سکیورٹی کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن آبنائے پر ایرانی اختیار کو تسلیم نہیں کرتا تو تہران بھی امریکی دعوے کو قبول نہیں کرے گا۔
یوں آبنائے ہرمز کا معاملہ اب صرف بحری آمدورفت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان وسیع تر سیاسی، فوجی اور تزویراتی کشیدگی کا ایک مرکزی محور بن گیا ہے۔
امریکا: ایران کو جہازرانی روکنے کا یکطرفہ اختیار نہیں
امریکا کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس آبی راستے میں یکطرفہ طور پر جہازوں کی آمدورفت روکنے یا تجارتی بحری جہازوں پر اضافی شرائط عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
واشنگٹن آبنائے ہرمز میں بحری جہازرانی کی آزادی کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے۔
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی اور آبنائے میں جہازرانی کی آزادی یقینی بنانے کے لیے فوجی اقدامات بھی کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان بحری محاذ پر براہِ راست تصادم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تزویراتی آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
آبنائے اپنے تنگ ترین مقام پر تقریباً 21 ناٹیکل میل چوڑی ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے نہ صرف تجارتی جہازرانی بلکہ علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی کے نظام کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت فراہم کرتی ہے۔
اس راستے میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ بھی عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی، شپنگ انشورنس، سمندری تجارت اور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت بھی پیچیدہ
اس تنازع کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت ہے۔ آبنائے کے مختلف حصے ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں آتے ہیں، جس کے باعث ساحلی ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی جہازرانی کے حقوق دونوں معاملات ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔
اسی لیے قانونی طور پر یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ آبنائے کے متعلقہ علاقوں میں ایران اور عمان کو ساحلی ریاستوں کی حیثیت سے خودمختاری حاصل ہے، جبکہ آبنائے بین الاقوامی جہازرانی کے لیے استعمال ہونے والی اہم گزرگاہ بھی ہے۔
یہی قانونی پیچیدگی ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کو مزید حساس بناتی ہے۔
ایران اور امریکا کے مختلف قانونی مؤقف
ایران اور امریکا دونوں آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے اپنے قانونی اور سکیورٹی مؤقف پیش کرتے رہے ہیں۔
تہران اپنی ساحلی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی سکیورٹی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے، جبکہ واشنگٹن بین الاقوامی جہازرانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے تسلسل پر زور دیتا ہے۔
ان مختلف مؤقف کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا معاملہ محض ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، سمندری حقوق، علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت کا پیچیدہ معاملہ بن چکا ہے۔
تجارتی جہازرانی پر جنگی خطرات کے اثرات
حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی خطرات نے شپنگ کمپنیوں اور مال بردار جہازوں کے لیے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں کو ایرانی حملوں، امریکی ناکہ بندی اور مجموعی جنگی خطرات کے باعث اپنے راستوں کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بعض کمپنیوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا فیصلہ اب صرف تجارتی لاگت کا معاملہ نہیں بلکہ عملے، جہاز اور سامان کی سلامتی سے بھی براہِ راست منسلک ہو چکا ہے۔
عالمی توانائی کی منڈی کے لیے خطرے کی گھنٹی
آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک رکاوٹ یا شدید کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
خطے سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک ترسیل میں اس آبی راستے کی اہمیت کے باعث کسی بڑے بحران کی صورت میں عالمی سطح پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی میں رکاوٹ اور شپنگ اخراجات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے عالمی منڈیاں ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ہر بیان اور فوجی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کا دباؤ، امریکا کی بحری موجودگی
تازہ صورتحال میں ایک طرف ایران آبنائے ہرمز پر اپنے اختیار کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا اپنی بحری موجودگی اور فوجی اقدامات کے ذریعے جہازرانی کی آزادی یقینی بنانے پر زور دے رہا ہے۔
دونوں فریقوں کے سخت مؤقف نے آبنائے کو ممکنہ تصادم کے ایک انتہائی حساس مقام میں تبدیل کر دیا ہے۔
اگرچہ سفارتی سطح پر رابطوں اور مذاکرات کی باتیں بھی جاری ہیں، تاہم بحری محاذ پر دونوں ممالک کے بیانات اور اقدامات کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کا تاثر دے رہے ہیں۔
عمان کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا
آبنائے ہرمز کے جغرافیائی اور سفارتی تناظر میں عمان کا کردار بھی اہم ہے۔ عمان آبنائے کے دوسرے کنارے پر واقع ہے اور ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں۔
ایران کی جانب سے عمان کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران خطے میں موجود سفارتی چینلز کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔
تاہم حسین طائب کے بیان سے یہ بھی واضح ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ مذاکراتی پیش رفت کو آبنائے ہرمز پر اپنے بنیادی مؤقف میں تبدیلی کے مترادف نہیں سمجھتا۔
پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے بھی اہم صورتحال
آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج فارس، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے متعدد ممالک براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس آبی گزرگاہ کی سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل سے منسلک ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی آبنائے ہرمز میں امن اور بحری آمدورفت کا تسلسل اہم ہے کیونکہ خطے میں توانائی کی قیمتوں، تجارتی راستوں اور علاقائی سکیورٹی میں بڑی تبدیلیاں پاکستانی معیشت اور تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
سفارت کاری یا تصادم؟ اگلا مرحلہ اہم
ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز پر جاری تنازع اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں سفارتی کوششیں اور فوجی دباؤ بیک وقت نظر آ رہے ہیں۔
تہران آبنائے پر اپنے اختیار کو تسلیم کرانے کے لیے سخت زبان استعمال کر رہا ہے جبکہ واشنگٹن جہازرانی کی آزادی اور سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے اپنی طاقت استعمال کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
ایسی صورتحال میں معمولی غلط فہمی یا کسی بحری واقعے کے بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
آبنائے ہرمز کا مستقبل عالمی توجہ کا مرکز
آبنائے ہرمز پر ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ تنازع کا مستقبل نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے اہم ہوگا۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے کا انتظام اور کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے اور کسی بیرونی طاقت کو ایرانی مؤقف نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب امریکا بین الاقوامی جہازرانی کے حق اور عالمی تجارت کے تسلسل کو بنیاد بنا کر اپنے اقدامات کا دفاع کر رہا ہے۔
اس کشیدہ ماحول میں عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا دونوں فریق سفارتی راستہ اختیار کرتے ہیں یا آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بڑے بحری بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
فی الحال تہران کا پیغام واضح ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران اپنے اختیار سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، جبکہ واشنگٹن بھی عالمی جہازرانی کے راستے کو ایرانی دباؤ کے تحت محدود کرنے کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ یہی متضاد مؤقف موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ اور عالمی سطح پر انتہائی حساس بنا رہا ہے۔



