پاکستاناہم خبریں

گوادر میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 3 اہلکار شہید، 15 زخمی؛ بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کر لی

ٹرک کے ٹکراتے ہی انتہائی شدید دھماکہ ہوا جس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے باعث چیک پوسٹ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

گوادر: بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی ایک اہم چیک پوسٹ پر خودکش گاڑی کے ذریعے کیے گئے مہلک حملے میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 15 دیگر زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق حملہ آور نے بارودی مواد سے بھرا ٹرک چیک پوسٹ سے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مجید بریگیڈ نے کارروائی انجام دی۔

خودکش حملہ پنوان چیک پوسٹ پر کیا گیا

پولیس حکام کے مطابق یہ خودکش حملہ گوادر کے ساحلی شہر جیوانی سے تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع پنوان چیک پوسٹ پر کیا گیا، جو پاکستان کوسٹ گارڈز اور پاکستان آرمی کی مشترکہ نگرانی میں قائم ایک اہم سکیورٹی چوکی ہے۔ حملہ آور نے بارودی مواد سے بھرا ٹرک تیز رفتاری سے چیک پوسٹ کی جانب بڑھایا اور سکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے چوکی سے ٹکرا دیا۔

ٹرک کے ٹکراتے ہی انتہائی شدید دھماکہ ہوا جس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے باعث چیک پوسٹ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اطراف میں موجود گاڑیاں اور دیگر تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔

تین اہلکار شہید، متعدد زخمی

گوادر کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عطا الرحمٰن خان ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے وقت چیک پوسٹ پر پاکستان آرمی اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے مجموعی طور پر 18 اہلکار تعینات تھے۔

انہوں نے بتایا کہ حملے میں پاکستان آرمی کے دو جوان جبکہ پاکستان کوسٹ گارڈز کا ایک اہلکار شہید ہوا۔ اس کے علاوہ 15 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا جہاں انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ شدید زخمی اہلکار کو بہتر علاج کے لیے بڑے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

امدادی کارروائیاں فوری شروع

دھماکے کے فوراً بعد پولیس، پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور، پاکستان کوسٹ گارڈز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔

حکام کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے ملبے اور دیگر مواد کا فرانزک معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ حملہ آور کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔

بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کر لی

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا کہ حملہ اس کی خودکش یونٹ "مجید بریگیڈ” نے کیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ تھی۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ فدائی یونٹ مجید بریگیڈ اور ہراول دستے فتح اسکواڈ نے گوادر کے ساحلی شہر جیونی میں، پانوان کے مقام پر کوسٹ گارڈز اور خفیہ اداروں کے مشترکہ عسکری کیمپ پر ایک مربوط اور کامیاب فدائی آپریشن سرانجام دیا۔

ترجمان کے مطابق یہ معرکہ بی ایل اے کے وسیع تر عسکری آپریشن ”زرپہازگ” ( سمندر کی حفاظت) کے چھٹے حصے کا تسلسل ہے.

ترجمان کے مطابق کل شام ٹھیک چھ بجکر بتیس منٹ پر ہمارے فدائی دستے مجید بریگیڈ کے فدائی سرمچار عطاء اللہ بلوچ عرف اجمل نے بارود سے بھری ایک مزدا گاڑی کو کامیابی کے ساتھ تمام عسکری رکاوٹوں اور دفاعی لائنوں کو توڑتے ہوئے کیمپ کے اندر لے جا کر ڈیٹونیٹ کیا۔

حکام نے تنظیم کے دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے تاکہ حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور مالی معاونت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

سی پیک کے اہم علاقے میں حملہ

پنوان چیک پوسٹ گوادر کے اس علاقے میں واقع ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اہم ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے۔ گوادر بندرگاہ اور اس سے منسلک شاہراہوں کی حفاظت کے لیے اس علاقے میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گوادر اور اس کے گردونواح میں ہونے والے اس نوعیت کے حملے نہ صرف سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ سی پیک سے وابستہ ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور خطے کے معاشی استحکام پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

بلوچستان میں شورش کی نئی لہر

بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے شورش، دہشت گردی اور علیحدگی پسند حملوں کا سامنا کر رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ان حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سرکاری تنصیبات، مواصلاتی ڈھانچے اور سی پیک سے متعلق منصوبے مسلسل شدت پسند تنظیموں کے نشانے پر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں خاص طور پر ان علاقوں کو ہدف بناتی ہیں جہاں سکیورٹی فورسز کی موجودگی زیادہ ہو یا جہاں بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہوں، تاکہ ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا سکے۔

گزشتہ دو ماہ میں دوسرا بڑا خودکش حملہ

حکام کے مطابق یہ گزشتہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں بلوچستان میں بی ایل اے کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا بڑا خودکش حملہ ہے۔

مئی میں کوئٹہ میں ایک شٹل ٹرین کو بارودی مواد سے بھری گاڑی (وی بی آئی ای ڈی) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد سکیورٹی اداروں نے صوبے بھر میں حساس تنصیبات کی نگرانی مزید سخت کر دی تھی۔

تحقیقات کا آغاز

ایس ایس پی عطا الرحمٰن خان ترین کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور حملے میں سہولت کاری کرنے والوں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں حملے کی منصوبہ بندی انتہائی منظم انداز میں کیے جانے کے شواہد ملے ہیں، تاہم حتمی نتائج فرانزک رپورٹ اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ حملہ آور کو کس نیٹ ورک نے لاجسٹک معاونت فراہم کی، بارودی مواد کہاں تیار کیا گیا اور حملے کی منصوبہ بندی کن افراد نے کی۔

سکیورٹی مزید سخت

واقعے کے بعد گوادر، جیوانی، پسنی اور مکران ڈویژن کے دیگر حساس علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ اہم شاہراہوں، سرکاری تنصیبات، بندرگاہ، کوسٹ گارڈز کی چوکیوں اور سی پیک منصوبوں کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر اضافی چیکنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔

بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال

تجزیہ کاروں کے مطابق گوادر میں ہونے والا یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اب بھی حساس علاقوں میں بڑے حملوں کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد عسکریت پسند نیٹ ورک کمزور ہوئے ہیں، تاہم بلوچستان میں امن و امان کی مکمل بحالی اب بھی ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے ذمہ دار عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور بلوچستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں گے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے حملوں کو روکا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button