
ژینس تھوراؤ
حالیہ شدید گرمی کی لہر پر جرمنی میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکومتی تیاریوں پر سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وفاقی جرمن حکومت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں شدید گرمی کے دوران انسانی جانوں اور بنیادی شہری ڈھانچے کا بہتر تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جرمنی میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جسے ماہرین نے خاص طور پر بزرگوں کے نگہداشت مراکز، نرسنگ ہومز اور ایسے ہسپتالوں کے لیے خطرناک قرار دیا جہاں ایئر کنڈیشننگ کا مناسب انتظام موجود نہیں۔
ماہرین کے مطابق جرمنی میں اب تک ایسی کوئی قومی قانون سازی موجود نہیں، جس کے تحت ان اداروں میں کولنگ سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہو۔
شدید گرمی نے نقل و حمل کے نظام کو بھی متاثر کیا۔ کئی علاقوں میں ٹرینیں اور ٹرام سروس متاثر ہوئیں جبکہ سڑکوں پر بچھا اسفالٹ بھی جگہ جگہ پگھلنے لگا۔

شہروں میں گرمی کا مسئلہ زیادہ شدید
جرمن وفاقی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران جرمنی میں روزانہ اوسطاً 50 ہیکٹر قدرتی زمین کو رہائشی، تجارتی یا ٹرانسپورٹ کے مقاصد کے لیے استعمال میں لایا گیا۔ زمین کا کی یہ رقبہ تقریباً 70 فٹ بال میدانوں کے برابر بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر کنکریٹ اور اسفالٹ بچھانے سے بارش کا پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا، جس سے شدید بارشوں کے دوران سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے بخارات بن کر اڑنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں شہری علاقوں کا درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے اور اربن ہیٹ آئی لینڈ کا مسئلہ شدت اختیار کرتا ہے۔
حکومت اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کا معاملہ
جرمنی کے وزیر ماحولیات کارسٹن شنائیڈر نے سرکاری نشریاتی ادارے اے آر ڈی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی بنیادی ذمہ داری وفاقی ریاستوں اور بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ وفاقی حکومت پر۔
انہوں نے کہا، ”میں براہِ راست مالی معاونت بھی فراہم نہیں کر سکتا کیونکہ جرمنی کا بنیادی قانون (آئین) اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
البتہ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ آئین میں ممکنہ ترمیم پر بات کریں گے تاکہ وفاقی حکومت اس شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکے۔

کاربن اخراج کے اہداف کا حصول مشکوک
جرمنی نے 1990 کے مقابلے میں 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 65 فیصد کمی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جس میں اب تک تقریباً 48 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے۔
تاہم متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ رفتار کے ساتھ حکومت اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مؤثر موسمیاتی پالیسیاں ضروری ہیں لیکن گزشتہ برسوں میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اثرات کی وجہ سے آنے والے برسوں میں بھی شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برقرار رہیں گے۔
دریں اثنا چانسلر فریڈرش میرس کی قیادت میں قائم موجودہ حکومت نے ایک مرتبہ پھر تیل اور گیس سے چلنے والے ہیٹنگ سسٹمز کی تنصیب کی اجازت دی ہے ۔

عوامی ترجیحات میں موسمیاتی تبدیلی پیچھے
ادھر حالیہ کئی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمن عوام کی بڑی تعداد اب موسمیاتی تبدیلی کو پہلے جیسی اہمیت نہیں دے رہی۔
جون کے آغاز میں ایک ادارے کی جانب سے کیے گئے ملک گیر سروے کے مطابق صرف 10 فیصد افراد نے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کو اپنی اولین یا دوسری بڑی ترجیح قرار دیا۔
اس کے برعکس معاشی سست روی اور امیگریشن جیسے مسائل عوامی ترجیحات میں سرفہرست رہے۔
تاہم یہ سروے جرمنی میں حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر سے قبل کیا گیا تھا، جس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عوامی بحث دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔



