پاکستاناہم خبریں

مودی کے لیے تخلیق کیے گئے ایوارڈز شرمناک کہانی ہیں، خواجہ آصف کا سخت ردعمل

وزیر دفاع کے مطابق، ان دستاویزات کی ظاہری شکل اور زبان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں جلد بازی میں تیار کیا گیا اور ان میں بنیادی تدوینی معیارات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو حالیہ دنوں میں دیے گئے ایک بین الاقوامی اعزاز کے حوالے سے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایوارڈز محض تشہیر کے لیے تخلیق کیے گئے اور ان کی حیثیت مشکوک ہے۔ انہوں نے اس عمل کو "من گھڑت اور شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

وزیر دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کی آمد سے چند روز قبل ہی متعلقہ ایوارڈز وجود میں لائے گئے، جبکہ ان کے سرٹیفکیٹس بھی جلد بازی میں تیار کیے گئے دستاویزات معلوم ہوتے ہیں۔

"سرٹیفکیٹس میں املا کی واضح غلطیاں تھیں”

خواجہ محمد آصف نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ان ایوارڈز کے سرٹیفکیٹس میں متعدد املا کی غلطیاں موجود تھیں، جو ان کی تیاری کے معیار پر سوالات اٹھاتی ہیں۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ سرٹیفکیٹس کسی "سستے مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل” کے ذریعے تیار کیے گئے محسوس ہوتے ہیں، جس سے اس اعزاز کی سنجیدگی اور ساکھ متاثر ہوئی۔

وزیر دفاع کے مطابق، ان دستاویزات کی ظاہری شکل اور زبان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں جلد بازی میں تیار کیا گیا اور ان میں بنیادی تدوینی معیارات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔

"مودی پہلے اور واحد وصول کنندہ بن گئے”

خواجہ آصف نے کہا کہ نریندر مودی اس اعزاز کے پہلے اور واحد وصول کنندہ قرار دیے گئے، جس سے ان کے بقول یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ یہ ایوارڈ خصوصی طور پر انہی کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی بین الاقوامی اعزاز کی بنیاد مضبوط اور معتبر ہو تو اس کی ایک تاریخ، ضابطہ کار اور متعدد وصول کنندگان ہوتے ہیں، تاہم اس معاملے میں ایسا دکھائی نہیں دیتا۔

"سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش”

وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے عالمی سطح پر خود کو ایک غیر معمولی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش "سستی شہرت حاصل کرنے” کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف سیاسی اعتبار سے نامناسب ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سنجیدہ حلقوں میں سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق، کسی بھی عالمی اعزاز کی وقعت اس کے شفاف انتخابی عمل، ادارہ جاتی ساکھ اور غیر جانبدارانہ معیار پر منحصر ہوتی ہے، نہ کہ صرف تشہیری مہم پر۔

پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں بیان

سیاسی مبصرین کے مطابق خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک کے رہنما ایک دوسرے کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمیر، سرحدی کشیدگی، سفارتی تعلقات، علاقائی سلامتی اور دیگر معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار رہے ہیں، جبکہ دونوں حکومتیں بین الاقوامی فورمز پر بھی ایک دوسرے کے مؤقف پر تنقید کرتی رہی ہیں۔

بھارتی حکومت کا مؤقف سامنے نہیں آیا

خواجہ آصف کے حالیہ بیان پر خبر لکھے جانے تک بھارتی حکومت یا بھارتی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسی طرح، متعلقہ ایوارڈ جاری کرنے والے ادارے کی جانب سے بھی خواجہ آصف کے الزامات یا دعوؤں پر کوئی عوامی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔

سیاسی حلقوں میں بحث

وزیر دفاع کے بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین خواجہ آصف کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایسے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر کسی بین الاقوامی اعزاز کے اجرا یا اس کے طریقۂ کار کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں تو ان کا جواب متعلقہ ادارے کی جانب سے شفاف وضاحت کے ذریعے دیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جا سکے۔

فی الحال یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی بیانات کا حصہ بن چکا ہے، جبکہ اس حوالے سے مزید ردعمل سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button