
سید عاطف ندیم-ادارت
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر (RATS) کونسل کے 46ویں اجلاس میں رکن ممالک نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف عملی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے 2027 میں مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق کے انعقاد کی منظوری دے دی ہے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کے ساتھ ہی پاکستان نے RATS کی صدارت کی ذمہ داریاں مکمل کر لیں، جس کے بعد روس نے اس ادارے کی اگلی صدارت سنبھال لی۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب خطے میں دہشت گردی، انتہا پسندی، شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں اور ان کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص انٹرنیٹ کے استعمال کے چیلنجز پر علاقائی سطح پر تعاون کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کی RATS صدارت کا اختتام
دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی کونسل کے 46ویں اجلاس کی کامیابی سے میزبانی کی۔ اجلاس کے انعقاد کے ساتھ پاکستان کی RATS کی صدارت کا دورانیہ بھی مکمل ہوگیا۔
دفترِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کی صدارت ایس سی او RATS کو مضبوط بنانے اور دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم اور خدمات کی عکاس رہی۔
پاکستان نے اس موقع پر روس کو RATS کی آئندہ صدارت سنبھالنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
2027 میں مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کی اہم پیش رفت 2027 کے لیے ایس سی او کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق کی منظوری ہے۔
اجلاس میں رکن ممالک نے دہشت گردی کے خلاف عملی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔ مشترکہ مشق کا مقصد رکن ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون، تجربات کے تبادلے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک عملی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
ایس سی او کے تحت اس نوعیت کا تعاون رکن ممالک کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کو اہمیت دیتا ہے۔
معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق
اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں معلومات کے تبادلے کے لیے مشترکہ آپریشن پر بھی اتفاق کیا گیا۔
معلومات کا بروقت تبادلہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات کی نشاندہی، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور ممکنہ خطرات کے خلاف مشترکہ ردعمل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایس سی او RATS کے پلیٹ فارم کے ذریعے رکن ممالک دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی سے متعلق خطرات پر تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اسلام آباد اجلاس میں اس تعاون کو مزید عملی سمت دینے پر زور دیا گیا۔
انٹرنیٹ کے ذریعے انتہا پسندی کی روک تھام بھی ایجنڈے میں شامل
اجلاس میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کی روک تھام کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
اس مقصد کے لیے ایس سی او کے رکن ممالک نے ایک عملی سیمینار منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس میں انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے طریقہ کار پر توجہ دی جائے گی۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ کے ساتھ شدت پسند عناصر کی جانب سے آن لائن ذرائع کے ممکنہ استعمال کو عالمی سطح پر بھی ایک اہم سکیورٹی چیلنج تصور کیا جاتا ہے۔ ایس سی او کے تحت اس معاملے پر مشترکہ تجربات اور طریقہ کار کے تبادلے کو علاقائی تعاون کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے دوہری ذمہ داری کا مرحلہ
RATS کی صدارت کا اختتام پاکستان کی وسیع تر ایس سی او صدارت کے دوران ہوا ہے۔ پاکستان 2026-27 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی وسیع تر صدارت بھی کر رہا ہے، جس کی ذمہ داری پاکستان نے بشکیک میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کے بعد سنبھالی۔
یوں پاکستان کے لیے موجودہ دور میں ایس سی او کے دو اہم پہلو نمایاں رہے ہیں: ایک طرف علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے RATS کی ذمہ داری، جبکہ دوسری جانب تنظیم کی مجموعی صدارت کے تحت سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سفارتی اور ثقافتی ایجنڈے کو آگے بڑھانا۔
اسلام آباد میں RATS اجلاس کا انعقاد اسی وسیع تر سفارتی سرگرمی کا حصہ ہے۔
2027 میں اسلام آباد میں ایس سی او سربراہی اجلاس
پاکستان کی ایس سی او صدارت کے دوران سب سے اہم آئندہ سرگرمی 2027 میں اسلام آباد میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے سربراہی اجلاس کی میزبانی ہوگی۔
حکومت اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے لیے مختلف انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں سربراہی اجلاس کا مقام، غیر ملکی وفود کے لیے رہائش، سکیورٹی انتظامات، مالی معاملات، میڈیا مینجمنٹ، ٹرانسپورٹ اور دیگر لاجسٹک ضروریات شامل ہیں۔
یہ سربراہی اجلاس پاکستان کو ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کے ساتھ ساتھ علاقائی تعاون کے مختلف شعبوں میں اپنی ترجیحات اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
لاہور کو ایس سی او کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت بنانے کی تیاری
پاکستان کی ایس سی او صدارت کی سرگرمیوں کا دائرہ صرف اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی اور سرکاری سرگرمیوں تک محدود نہیں۔
اس عرصے کے لیے لاہور کو ایس سی او کا سیاحتی اور ثقافتی دارالحکومت بھی نامزد کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان لاہور میں سال بھر مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا کیلنڈر ترتیب دینے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں بھی بڑے پروگرام منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ان سرگرمیوں کا مقصد پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو ایس سی او کے رکن ممالک کے سامنے اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا ہے۔
لاہور اپنی تاریخی عمارتوں، ثقافتی ورثے، ادبی روایات اور فنونِ لطیفہ کے باعث اس حوالے سے ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آسکتا ہے، جبکہ دیگر شہروں میں منعقد ہونے والی سرگرمیاں پاکستان کے مختلف ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کریں گی۔
’ویژن کو عمل میں بدلنا‘ پاکستان کی ایس سی او صدارت کا مرکزی خیال
پاکستان کی ایس سی او صدارت کی مجموعی سرگرمیاں ’’ویژن کو عمل میں بدلنا: رابطے، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘‘ کے مرکزی خیال کے تحت آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
پاکستان نے اپنی صدارت کے دوران علاقائی امن و استحکام، اقتصادی تعاون، علاقائی رابطوں، تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، جدت، نقل و حمل، انسدادِ دہشت گردی اور سماجی و ثقافتی تعاون کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔
اس پالیسی فریم ورک میں سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ علاقائی امن و استحکام کے بغیر تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور رابطوں کے بڑے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا مشکل ہوسکتا ہے۔
علاقائی سلامتی میں RATS کا کردار
ایس سی او کا ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر تنظیم کے اندر انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کے لیے ایک اہم ادارہ جاتی میکنزم ہے۔ اس کے ذریعے رکن ممالک دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی سے متعلق خطرات کے خلاف باہمی رابطہ کاری اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے 46ویں اجلاس میں 2027 کی مشترکہ مشق، معلومات کے تبادلے اور انٹرنیٹ کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام جیسے معاملات پر اتفاق اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ رکن ممالک روایتی سکیورٹی خطرات کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل چیلنجز پر بھی مشترکہ توجہ دے رہے ہیں۔
روس نے RATS کی صدارت سنبھال لی
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر RATS کی اگلی صدارت روس کے سپرد ہوگئی ہے۔ پاکستان نے ماسکو کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے۔
اس منتقلی کے ساتھ پاکستان کا RATS کی صدارت کا مرحلہ مکمل ہوگیا، تاہم ایس سی او کی مجموعی صدارت کے باعث تنظیم کے دیگر شعبوں میں پاکستان کی سرگرمیاں بدستور جاری رہیں گی۔
2027 کا اجلاس پاکستان کے لیے اہم موقع
2027 میں اسلام آباد میں ہونے والی ایس سی او سربراہی کانفرنس پاکستان کے لیے تنظیم کے اندر اپنی ترجیحات اور علاقائی تعاون کے تصور کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ہوگی۔
پاکستان اپنی صدارت کے ذریعے ایک طرف علاقائی امن و استحکام اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کو آگے بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں، توانائی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش بھی جاری ہے۔
اسلام آباد میں RATS کونسل کا 46واں اجلاس اسی وسیع تر عمل کا ایک اہم حصہ بن کر سامنے آیا ہے، جس میں 2027 کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق کی منظوری، معلومات کے تبادلے اور انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی و انتہا پسندی کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے عملی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
یوں پاکستان نے RATS کی صدارت روس کے حوالے کرنے کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے علاقائی تعاون میں اپنے دورِ صدارت کا ایک مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جبکہ 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والی ایس سی او سربراہی کانفرنس کی صورت میں پاکستان کی وسیع تر صدارت کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی مرحلہ ابھی باقی ہے۔



