پاکستاناہم خبریں

پنجاب میں کرپشن کے خلاف ’فیصلہ کن جنگ‘، بڑی مچھلیوں کے احتساب پر سوالات

متعدد معاملات میں مبینہ کرپشن کی مجموعی رقم، سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان اور برآمد یا ریکور کی گئی رقم کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

رپورٹ وائس آف جرمنی اردو سروس

لاہور: پنجاب حکومت نے سرکاری اداروں میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف ’فیصلہ کن جنگ‘ کے نام سے کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں رشوت ستانی، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور غیر قانونی وصولیوں کے الزامات میں متعدد سرکاری اہلکاروں، مبینہ فرنٹ مینوں اور ٹھیکیداروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سرکاری طور پر جاری کی جانے والی تفصیلات میں ان کارروائیوں کو کرپشن کے خلاف حکومتی عزم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس مہم کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کارروائیوں کا دائرہ نچلے درجے کے اہلکاروں سے آگے بڑھ کر اعلیٰ انتظامی افسران، فیصلہ سازوں اور بڑے مالی معاملات تک کب پہنچے گا۔

دستیاب سرکاری تفصیلات کے مطابق اب تک ہونے والی نمایاں کارروائیوں میں بڑی تعداد میں کلرک، نائب قاصد، کمپیوٹر آپریٹر، چوکیدار، منشی، مبینہ فرنٹ مین اور پارکنگ ٹھیکیدار شامل ہیں۔ بعض افسروں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم متعدد معاملات میں مبینہ کرپشن کی مجموعی رقم، سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان اور برآمد یا ریکور کی گئی رقم کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

مختلف اضلاع میں گرفتاریاں

حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں مبینہ رشوت ستانی اور بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔

بہاولنگر ,وہاڑی ,ڈیرہ غازی خان ,منڈی بہاؤالدین ,جھنگ ,شیخوپورہ ,فیصل آباد ,گوجرانوالہ ,چکوال ,مظفرگڑھ ,لاہور میں یہ تمام کارروائیاں حکومت کی جانب سے جاری مہم کے تحت کی جانے والی مختلف کارروائیوں کی نمائندگی کرتی ہیں، تاہم کسی بھی ملزم کی گرفتاری کو عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

پارکنگ فیس کی اوورچارجنگ پر بھی کارروائی

کرپشن کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں سرکاری اسپتالوں کی پارکنگ فیس بھی شامل ہے۔

بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال ,چیچہ وطنی کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں پارکنگ کے ٹھیکے سے متعلق کارروائی کرتے ہوئے ٹھیکہ منسوخ کرنے اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا۔

تاہم ان معاملات میں یہ تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں کہ مبینہ اوورچارجنگ کب سے جاری تھی، کتنے شہریوں سے اضافی رقم وصول کی گئی، مجموعی مالی نقصان کتنا ہوا اور پارکنگ ٹھیکوں کی نگرانی کے ذمہ دار افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔

یہی وہ پہلو ہے جسے شفاف احتساب کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ صرف کسی ٹھیکیدار یا نچلے درجے کے اہلکار کے خلاف کارروائی اس وقت تک مکمل تصویر فراہم نہیں کرتی جب تک نگرانی، منظوری اور معاہدوں کے ذمہ دار متعلقہ حکام کے کردار کا بھی جائزہ نہ لیا جائے۔

رشوت دینے والوں کے خلاف بھی مقدمات

حکومتی مہم کا ایک منفرد پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض معاملات میں رشوت لینے کے مبینہ الزام کے ساتھ ساتھ رشوت دینے کی کوشش کرنے والے شہریوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔

لاہور میں دو شہریوں کے خلاف پولیس اہلکاروں کو بالترتیب ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے رشوت دینے کی کوشش کے الزام میں الگ الگ مقدمات درج کیے گئے۔

قانونی طور پر رشوت کی پیشکش یا ادائیگی بھی قابلِ گرفت عمل ہو سکتی ہے، تاہم اس طرح کے مقدمات نے یہ سوال بھی پیدا کیا ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں فریقوں کے کردار کو کس طرح یکساں معیار کے تحت جانچا جا رہا ہے۔

’بڑی مچھلیوں‘ کے احتساب کا سوال

پنجاب حکومت کی کارروائیوں کے حوالے سے بنیادی تنقید یہ سامنے آ رہی ہے کہ سرکاری طور پر نمایاں کی جانے والی کارروائیوں کی ایک بڑی تعداد نچلے درجے کے ملازمین سے متعلق ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کرپشن کے خاتمے کو واقعی ایک جامع حکومتی پالیسی کے طور پر نافذ کرنا ہے تو کارروائیوں کا دائرہ ان افراد تک بھی پہنچنا چاہیے جو بڑے مالی فیصلوں، ترقیاتی منصوبوں، سرکاری ٹھیکوں، بھرتیوں، تبادلوں اور انتظامی منظوریوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق محض کلرک، نائب قاصد یا کمپیوٹر آپریٹر کو گرفتار کرنے سے کسی ادارے میں موجود پورے بدعنوانی کے نظام کا خاتمہ ممکن نہیں، اگر اس نظام کو چلانے یا اس کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ افسران کا احتساب نہ ہو۔

کابینہ اور ارکان اسمبلی کے حوالے سے سوالات

حکومتی احتسابی مہم پر تبصرہ کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کرپشن کے خلاف واقعی غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرنا چاہتی ہے تو احتساب کا معیار عہدے یا سیاسی حیثیت کے بجائے مبینہ جرم اور شواہد ہونے چاہییں۔

اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی وزیر، رکن اسمبلی یا بااثر سیاسی شخصیت پر بدعنوانی، ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال یا کمیشن وصول کرنے کے الزامات موجود ہیں تو ان معاملات کی بھی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔

تاہم کسی فرد پر بدعنوانی کا الزام ثابت ہونے سے پہلے اسے مجرم قرار دینا مناسب نہیں۔ کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کے خلاف کارروائی بھی قابل اعتماد شواہد اور قانون کے مطابق تحقیقات کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

اعلیٰ بیوروکریسی کے احتساب کا معاملہ

تجزیہ کاروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم میں اعلیٰ انتظامی عہدوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

خاص طور پر بڑے ترقیاتی منصوبوں، سرکاری خریداری، اراضی، ٹینڈرز، ٹھیکوں، ریونیو معاملات اور سرکاری فنڈز کے استعمال میں فیصلہ سازی کے پورے عمل کا آڈٹ اور تحقیقات زیادہ مؤثر احتساب کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

بیرون ملک جائیدادوں کے دعوے

ملک میں اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں اور بیرون ملک جائیدادوں کا معاملہ بھی وقتاً فوقتاً سیاسی بحث کا موضوع بنتا رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف اس سے قبل یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ بیوروکریسی کے بعض افسران نے پرتگال میں جائیدادیں خرید رکھی ہیں اور کچھ وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایسے افراد میں معروف بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔

تاہم ایسے دعووں کی قانونی حیثیت اور حقیقت کا تعین متعلقہ اداروں کی باقاعدہ تحقیقات اور قابل تصدیق ریکارڈ سے ہی ممکن ہے۔ کسی بھی شخص کے بیرون ملک اثاثے یا جائیداد ہونا بذات خود غیر قانونی عمل نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ اثاثے قانونی آمدن سے حاصل کیے گئے، ان کا اعلان کیا گیا یا نہیں اور متعلقہ قوانین کی پابندی کی گئی یا نہیں۔

’دبئی ان لاکڈ‘ کے انکشافات

بیرون ملک پاکستانی شہریوں کی جائیدادوں کے حوالے سے مئی 2024 میں عالمی صحافتی تنظیم آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (OCCRP) اور اس کے میڈیا پارٹنرز نے ’دبئی ان لاکڈ‘ کے عنوان سے تحقیقات شائع کی تھیں۔

ان تحقیقات میں لیک ہونے والے 2022 کے اعدادوشمار کی بنیاد پر بتایا گیا تھا کہ دبئی میں تقریباً 23 ہزار رہائشی جائیدادیں 17 ہزار پاکستانی شہریوں کی ملکیت تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان جائیدادوں کے مالکان میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، جن میں سیاست دان، بیوروکریٹس، بینکار اور سابق فوجی افسران بھی شامل تھے۔

تاہم بیرون ملک جائیداد رکھنے والے ہر فرد کو بدعنوان قرار دینا درست نہیں۔ کسی بھی کیس میں غیر قانونی اثاثے، آمدن سے زائد اثاثے یا منی لانڈرنگ کا تعین متعلقہ مالی ریکارڈ، اثاثہ جات کے گوشواروں اور قانونی تحقیقات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

گرفتاری سے آگے احتساب کے نتائج اہم

تجزیہ کاروں کے مطابق کرپشن کے خلاف کسی بھی مہم کی کامیابی کا اندازہ صرف گرفتاریوں کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔

اصل سوال یہ ہے کہ:

  • کتنے مقدمات درج کیے گئے؟
  • کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں؟
  • کتنے مقدمات عدالتوں میں ثابت ہوئے؟
  • سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا حجم کتنا تھا؟
  • کتنی رقم واپس حاصل کی گئی؟
  • کتنے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل ہوئی؟
  • کتنے بڑے مالی اسکینڈلز منطقی انجام تک پہنچے؟
  • اور کیا بدعنوانی کے طریقہ کار کو ختم کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کی گئیں؟

یہ تفصیلات عوام کے سامنے آنے سے احتسابی مہم کی حقیقی کارکردگی کا زیادہ واضح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

’2025 میں کتنے بڑے مقدمات منطقی انجام تک پہنچے؟‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو موجودہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ برسوں کی کارکردگی بھی سامنے رکھنی چاہیے۔

مثلاً یہ بتایا جانا چاہیے کہ 2025 میں پنجاب میں کتنے سرکاری افسران کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات درج ہوئے، کتنے مقدمات کی تحقیقات مکمل ہوئیں، کتنے افراد کو سزا ہوئی اور کتنی سرکاری رقم واپس حاصل کی گئی۔

اسی طرح اگر موجودہ مہم کے دوران گرفتاریاں کی جا رہی ہیں تو ہر کیس کے قانونی انجام، برآمدگی اور عدالتی پیش رفت سے متعلق معلومات بھی مرحلہ وار جاری کی جانی چاہییں۔

اس طرح عوام کو یہ اندازہ ہو سکے گا کہ کارروائیاں صرف وقتی کریک ڈاؤن ہیں یا واقعی ادارہ جاتی احتساب کی ایک مستقل پالیسی کا حصہ ہیں۔

احتساب میں شفافیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق گرفتاری، معطلی یا مقدمہ درج ہونا کسی شخص کے جرم کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔ جرم کا حتمی تعین عدالت کرتی ہے۔

اسی لیے شفاف احتساب کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ہر کیس میں قانون کے مطابق کارروائی کے ساتھ ساتھ جہاں ممکن ہو، الزام کی نوعیت، مالی نقصان، تحقیقاتی پیش رفت، عدالتی نتیجے اور ریکوری سے متعلق معلومات بھی عوام کے سامنے رکھیں۔

یہ طریقہ نہ صرف احتسابی عمل کو مضبوط کرے گا بلکہ بے گناہ افراد کو غیر ضروری طور پر بدنام کیے جانے کے خدشے کو بھی کم کرے گا۔

نیب اور احتسابی اداروں کی مؤثریت پر بھی بحث

ملک میں احتساب کے نظام کی مجموعی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مختلف ادوار میں قانونی ترامیم اور ادارہ جاتی تبدیلیوں نے احتسابی اداروں کے کردار اور اختیارات کو متاثر کیا ہے۔

اس لیے کرپشن کے خلاف مؤثر پالیسی کے لیے صرف ایک وقتی مہم کافی نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، اینٹی کرپشن محکموں، آڈٹ نظام، پراسیکیوشن اور عدالتی عمل کو بھی مؤثر اور سیاسی مداخلت سے محفوظ بنانا ضروری ہے۔

’فیصلہ کن جنگ‘ کا اصل امتحان

پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ’فیصلہ کن جنگ‘ بظاہر سرکاری اداروں میں رشوت اور بدعنوانی کے خلاف ایک سخت مہم کا تاثر دیتی ہے۔ مختلف اضلاع میں کارروائیوں اور گرفتاریوں سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اس مسئلے کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے۔

لیکن اس مہم کا اصل امتحان گرفتاریوں کی تعداد نہیں بلکہ اس کے طویل المدتی اور قابلِ پیمائش نتائج ہوں گے۔

اگر کارروائیاں صرف کلرکوں، نائب قاصدوں، کمپیوٹر آپریٹروں، منشیوں، فرنٹ مینوں اور چھوٹے ٹھیکیداروں تک محدود رہیں تو ناقدین کے لیے یہ سوال برقرار رہے گا کہ بڑے مالی فیصلوں اور انتظامی منظوریوں کے ذمہ دار افراد کہاں کھڑے ہیں۔

اس کے برعکس اگر شفاف تحقیقات کے ذریعے بدعنوانی کے بڑے معاملات کی نشاندہی ہو، ذمہ دار افراد خواہ ان کا عہدہ کچھ بھی ہو قانون کے سامنے جواب دہ ہوں، سرکاری خزانے کو پہنچنے والا نقصان واپس لیا جائے اور مقدمات منطقی انجام تک پہنچیں تو یہ مہم واقعی ایک مؤثر احتسابی عمل میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

عوامی اعتماد کی بحالی سب سے بڑا چیلنج

کرپشن صرف مالی نقصان کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ جب شہری یہ محسوس کریں کہ سرکاری خدمات کے حصول کے لیے رشوت ضروری ہے یا بااثر افراد قانون سے بالاتر ہیں تو اداروں کی ساکھ کمزور ہوتی ہے۔

اسی لیے ماہرین کے مطابق کرپشن کے خلاف پائیدار جنگ کے لیے احتساب کا معیار عہدے، سیاسی وابستگی، اثرورسوخ یا ادارہ جاتی حیثیت کے بجائے شواہد اور قانون ہونا چاہیے۔

حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ موجودہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ان کے نتائج بھی عوام کے سامنے لائے۔ کتنی رقم واپس آئی، کتنے مقدمات عدالتوں تک پہنچے، کتنے کیسز میں سزائیں ہوئیں اور کیا اداروں میں وہ خامیاں دور کی گئیں جنہوں نے بدعنوانی کے مواقع پیدا کیے؟

آخرکار پنجاب حکومت کی ’فیصلہ کن جنگ‘ اسی وقت اپنے دعوے کے مطابق مؤثر ثابت ہوگی جب احتساب نچلے درجے کے اہلکاروں سے آگے بڑھ کر پورے نظامِ فیصلہ سازی اور نگرانی تک پہنچے، ہر کارروائی شفاف قانونی عمل کے تحت ہو اور بڑے مقدمات کے نتائج بھی عوام کے سامنے آئیں۔

کرپشن کے خاتمے کے لیے محض گرفتاریاں کافی نہیں؛ مستقل ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف تحقیقات، مؤثر پراسیکیوشن، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد اور سرکاری خزانے کے نقصان کی واپسی ہی وہ پیمانے ہیں جن سے کسی بھی احتسابی مہم کی حقیقی کامیابی کو جانچا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button