
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان میں بزرگ شہریوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، لیکن عمر رسیدہ افراد کے لیے محفوظ، صحت مند اور باوقار زندگی یقینی بنانا اب بھی ایک بڑا سماجی اور حکومتی چیلنج ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں معمر افراد کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف اقدامات اور پروگرام تو موجود ہیں، تاہم بزرگ شہریوں کو درپیش معاشی، طبی، سماجی اور رہائشی مسائل سے جامع انداز میں نمٹنے کے لیے اب تک کوئی مؤثر قومی پالیسی موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نسبتاً نوجوان آبادی والا ملک ہے، لیکن آبادی کے عمرانی ڈھانچے میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے۔ زندگی کی اوسط مدت میں اضافہ، صحت کی سہولیات میں بہتری اور آبادی میں مجموعی اضافے کے باعث آئندہ چند دہائیوں میں بزرگ شہریوں کی تعداد نمایاں طور پر بڑھنے کا امکان ہے۔
اس صورت حال میں ماہرین حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ بزرگ شہریوں کو محض خاندان یا فلاحی اداروں کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے انہیں معاشرے کے باقاعدہ شہری حقوق کے حامل طبقے کے طور پر دیکھا جائے اور ان کے لیے سماجی تحفظ، صحت، پنشن، رہائش اور طویل مدتی نگہداشت کا مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔
2050ء تک بزرگ شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع
عمر رسیدگی سے متعلق امور کے بین الاقوامی ماہر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے بتایا کہ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 35 لاکھ ہے۔
ان کے مطابق یہ تعداد 2050ء تک بڑھ کر تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو مستقبل میں ایک ایسی آبادی کا سامنا ہوگا جس میں بزرگ افراد کا حصہ موجودہ دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اگر اس آبادیاتی تبدیلی کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں صحت، پنشن، سماجی تحفظ، رہائش اور نگہداشت کے شعبوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر اصغر زیدی کے مطابق پاکستان میں صرف تقریباً 5.8 فیصد بزرگ شہریوں کو کسی نہ کسی شکل میں رسمی سماجی تحفظ حاصل ہے، جبکہ بڑی تعداد خاندان، محدود ذاتی آمدنی، غیر رسمی روزگار یا دوسروں کی مالی مدد پر انحصار کرتی ہے۔
محدود پنشن بزرگ شہریوں کے لیے بڑا معاشی مسئلہ
پاکستان میں بزرگ افراد کے معاشی تحفظ کا ایک اہم ذریعہ پنشن ہے، لیکن پنشن کا موجودہ دائرہ کار محدود ہے۔
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن یعنی ای او بی آئی کے تحت رجسٹرڈ اداروں کے اہل کارکنوں کو پنشن کی سہولت حاصل ہوتی ہے، تاہم زرعی مزدوروں، دیہاڑی داروں، گھریلو ملازمین، چھوٹے کاروبار کرنے والوں اور بڑی تعداد میں خود روزگار افراد کو باقاعدہ پنشن کی سہولت میسر نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ پوری زندگی محنت اور روزگار میں گزارنے کے باوجود بڑھاپے میں کسی مستقل آمدنی کے بغیر رہ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والے افراد کے لیے سماجی تحفظ کا جامع نظام نہ ہونے کے باعث عمر رسیدگی کے بعد معاشی عدم تحفظ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے علاج، ادویات، خوراک، رہائش اور روزمرہ ضروریات کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
پنشن اصلاحات اور سرکاری ملازمین کی بے یقینی
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک کی پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ عاشق کے مطابق پنشن کے نظام میں حالیہ تبدیلیوں نے مستقبل کے حوالے سے بعض سرکاری ملازمین کی مالی بے یقینی میں اضافہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص اگر کئی دہائیوں تک ایک طے شدہ نظام کے تحت سرکاری ملازمت کرتا ہے تو ریٹائرمنٹ کے قریب اس نظام میں بنیادی تبدیلیاں اس کے مستقبل کی مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ عاشق کے مطابق بہت سے لوگ پوری ملازمت کے دوران یہ تصور رکھتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد حاصل ہونے والی رقم سے وہ بچوں کی شادی، گھر کی تعمیر یا دیگر اہم ضروریات پوری کریں گے، لیکن پنشن کے نظام میں تبدیلیوں کے باعث بعض افراد کے لیے یہ مالی منصوبہ بندی غیر یقینی کا شکار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومت پنشن اصلاحات کی ضرورت کا جواز بڑھتے ہوئے پنشن اخراجات اور سرکاری خزانے پر پڑنے والے مالی دباؤ کو قرار دیتی رہی ہے۔
لوگوں کی اوسط عمر میں اضافہ ہونے کے باعث ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن وصول کرنے کی مدت بھی بڑھ رہی ہے، جس سے حکومت کے لیے پنشن اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت پنشن کے نظام کو مالی طور پر زیادہ پائیدار بنانے کے لیے اصلاحات پر غور کرتی رہی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پنشن اصلاحات کرتے وقت موجودہ اور مستقبل کے بزرگ شہریوں کے معاشی تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت دی



