
پاناما: موسمیاتی تبدیلی اور شدید ال نینو کے باعث پاناما کینال کو ایک مرتبہ پھر پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس سے عالمی بحری تجارت اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لیے نئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ پاناما کینال اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر آنے والے مہینوں میں بارش معمول سے کم رہی تو نہر سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے اہم سمندری راستے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور سکیورٹی خدشات کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاناما کینال میں مزید رکاوٹ عالمی سطح پر شپنگ اخراجات میں اضافے، مال برداری میں تاخیر اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی متاثر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
پاناما میں ال نینو کے باعث ہنگامی صورتحال
پاناما حکومت نے 26 اگست کو ال نینو سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پاناما کینال اتھارٹی نے نہر میں پانی کے استعمال اور بحری جہازوں کی آمدورفت کو مزید محدود کرنے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔
نہر کے نئے ایڈمنسٹریٹر الیا ایسپینو ڈی ماروٹا کے مطابق ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں ہونے والی بارشیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آنے والے مہینوں میں پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پڑے گی یا نہیں۔
ان کے مطابق اگر خشک سالی میں نمایاں بہتری نہ آئی تو جنوری، فروری یا مارچ میں جہازوں کی آمدورفت اور ان کے حجم پر مزید پابندیاں عائد کرنا پڑ سکتی ہیں۔
روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد کم
پانی کی کمی کے باعث پاناما کینال اتھارٹی پہلے ہی روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد کم کر چکی ہے۔
نہر سے روزانہ گزرنے والے بحری جہازوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 36 سے کم کرکے 34 کردی گئی ہے، جبکہ پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ تعداد 15 ستمبر سے 32 جہاز روزانہ تک محدود کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اگر خشک سالی جاری رہی اور آبی ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو مستقبل میں یہ پابندیاں مزید سخت کی جا سکتی ہیں۔
نہر کا نظام میٹھے پانی پر منحصر
تقریباً 80 کلومیٹر طویل پاناما کینال بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملانے والی دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
نہر کا لاک سسٹم بحری جہازوں کو ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک منتقل کرنے کے لیے میٹھے پانی کا استعمال کرتا ہے۔ اس پورے نظام کا انحصار بنیادی طور پر گیٹن اور الہویلا جھیلوں میں موجود پانی پر ہے۔
ہر بحری جہاز کے نہر سے گزرنے کے دوران بڑی مقدار میں میٹھا پانی استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل خشک سالی نہر کے آپریشنز کے لیے براہ راست خطرہ بن جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں کمی صرف جہازوں کی تعداد کو متاثر نہیں کرتی بلکہ بڑے بحری جہازوں کے لیے نہر میں داخلے کی اجازت، ان کے ڈرافٹ اور مجموعی کارگو گنجائش پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
بارش تاریخی اوسط سے نمایاں کم
پاناما کینال کے حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں نہری آب گاہوں میں بارش تاریخی اوسط سے تقریباً 34 فیصد کم رہی ہے۔
دوسرے اندازوں کے مطابق اپریل سے اگست کے دوران نہری طاس میں بارش تاریخی اوسط سے تقریباً 36 فیصد کم رہی۔ اس کے نتیجے میں آبی ذخائر میں پانی کی آمد بھی متاثر ہوئی ہے۔
پاناما کینال کے پانی کے انتظام سے وابستہ حکام نے واضح کیا ہے کہ پانی نہر کے آپریشنز کے لیے سب سے اہم وسیلہ ہے اور قلیل مدت میں صورتحال میں نمایاں بہتری کے آثار محدود ہیں۔
پاناما کینال کے سابق ایڈمنسٹریٹر جارج کوئجانو کے مطابق اگر نومبر تک جھیلوں میں مطلوبہ مقدار میں پانی جمع نہ ہوسکا تو حکام کو بحری جہازوں کی آمدورفت اور ان کے ڈرافٹ پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنا پڑ سکتی ہیں۔
عالمی تجارت کا تقریباً 5 فیصد اسی راستے سے
پاناما کینال عالمی سمندری تجارت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی سمندری تجارت کا تقریباً 5 فیصد اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
نہر کی اہمیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ ایشیا، امریکا اور یورپ کے درمیان بحری سفر کو نمایاں طور پر مختصر کر دیتی ہے۔ اگر پاناما کینال موجود نہ ہو تو بہت سے بحری جہازوں کو جنوبی امریکا کے جنوبی سرے اور کیپ ہارن کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس سے سفر کا وقت اور ایندھن کے اخراجات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
اسی لیے نہر میں جہازوں کی آمدورفت میں کمی عالمی شپنگ انڈسٹری کے لیے ایک اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔
سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق اگر نہر میں مزید پابندیاں عائد ہوئیں تو دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان اشیا کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
ممکنہ طور پر خوراک، گاڑیوں، صنعتی مصنوعات، توانائی اور دیگر اہم سامان کی ترسیل میں تاخیر پیدا ہوسکتی ہے۔ شپنگ کمپنیوں کو متبادل راستے اختیار کرنے پڑ سکتے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کا استعمال اور مجموعی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
اس صورتحال کا اثر بالآخر درآمد کنندگان اور صارفین تک بھی منتقل ہوسکتا ہے، کیونکہ مال برداری کے اخراجات میں اضافہ مختلف اشیا کی قیمتوں پر دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔
شپنگ اخراجات میں اضافے کا خدشہ
نہر میں دستیاب ٹرانزٹ سلاٹس کی تعداد کم ہونے سے شپنگ کمپنیوں کے درمیان مسابقت بڑھنے کا امکان ہے۔
ماضی میں نہر میں گزرنے کی محدود گنجائش کے دوران بعض بڑے بحری جہازوں نے ترجیحی گزرگاہ حاصل کرنے کے لیے نیلامی میں 10 لاکھ ڈالر سے زائد رقم بھی ادا کی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پانی کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو بحری جہازوں کے انتظار کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ ترجیحی ٹرانزٹ کی قیمت، ایندھن، انشورنس اور مال برداری کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے ساتھ ایک اور چیلنج
پاناما کینال کو درپیش یہ بحران عالمی شپنگ انڈسٹری کے لیے اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ دنیا کے دیگر اہم سمندری راستے پہلے ہی سکیورٹی مسائل کا شکار ہیں۔
بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی کے باعث شپنگ کمپنیوں کو پہلے ہی بعض راستوں پر اضافی خطرات اور اخراجات کا سامنا ہے۔
اگر اسی دوران پاناما کینال کی گنجائش بھی مزید کم ہوگئی تو عالمی بحری تجارت کو بیک وقت کئی بڑے راستوں پر رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے خطرہ بڑھا دیا
پاناما کے حکام اور ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف ایک موسمی خشک سالی تک محدود نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خشک سالی کے واقعات کی شدت اور تکرار میں اضافے نے نہر کے مستقبل کے لیے نئے سوالات پیدا کردیے ہیں۔
پاناما کینال کے لیے یہ صورتحال اس لیے زیادہ حساس ہے کیونکہ نہر کا آپریشن بڑی مقدار میں میٹھے پانی پر منحصر ہے، جبکہ یہی پانی مقامی آبادی اور دیگر ضروریات کے لیے بھی اہم ہے۔
اس لیے حکام کو بحری تجارت اور ملک کی پانی کی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
2023 کے بحران کی یاد تازہ
موجودہ صورتحال نے 2023 کے پانی کے بحران کی یاد بھی تازہ کردی ہے، جب شدید خشک سالی کے باعث پاناما کینال میں روزانہ بحری جہازوں کی آمدورفت کو نمایاں طور پر کم کرکے تقریباً 22 جہاز روزانہ تک محدود کرنا پڑا تھا۔
اس بحران کے نتیجے میں بحری جہازوں کو طویل انتظار، زیادہ اخراجات اور بعض صورتوں میں متبادل راستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
موجودہ خشک سالی اگر مزید شدت اختیار کرتی ہے تو عالمی شپنگ انڈسٹری کو ایک بار پھر اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ال نینو کے برقرار رہنے کا خدشہ
موسمیاتی ماہرین کے مطابق موجودہ ال نینو ایونٹ خطے میں بارشوں کے معمول کو متاثر کر رہا ہے۔ عالمی موسمیاتی اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ال نینو کے اثرات آئندہ مہینوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
اگر ستمبر سے نومبر کے دوران متوقع بارشیں نہ ہوئیں تو پاناما کے آبی ذخائر کو مطلوبہ مقدار میں پانی نہ ملنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ایسی صورت میں نہر انتظامیہ کو بحری جہازوں کی تعداد، ان کے ڈرافٹ اور کارگو کی گنجائش پر مزید پابندیاں عائد کرنا پڑ سکتی ہیں۔
عالمی تجارت کے لیے اہم امتحان
پاناما کینال میں پانی کی کمی بظاہر ایک مقامی ماحولیاتی مسئلہ ہے، لیکن اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ دنیا کی بڑی تجارتی منڈیوں کو جوڑنے والی اس اہم گزرگاہ میں رکاوٹ سے شپنگ اخراجات بڑھنے، سپلائی چین میں تاخیر اور مختلف اشیا کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اب سب کی نظریں پاناما میں آنے والے مہینوں کی بارشوں پر مرکوز ہیں۔ اگر آبی ذخائر بحال نہ ہوئے تو پاناما کینال کو جہازوں کی آمدورفت پر مزید پابندیاں عائد کرنا پڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی سمندری تجارت کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہوگا۔



