
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے یوکرین اور پولینڈ کی سرحد کے قریب ایک مسافر ٹرین پر روسی ڈرون حملے کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے سوچا سمجھا اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد یورپ میں خوف پیدا کرنا ہے۔
پیر کو شمال مشرقی جرمنی کے شہر وولگاسٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پسٹوریئس نے کہا کہ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ یورپی ممالک تحمل برقرار رکھیں اور خود کو اشتعال دلانے کی کوششوں کا شکار نہ ہونے دیں۔
ان کے بقول، اس کے ساتھ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ یورپی ممالک اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور صورتحال مزید بگڑنے کی صورت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
جرمن وزیر دفاع نے کہا، ’’ولادیمیر پوٹن جو کچھ کر رہے ہیں، وہ خطرناک ہے۔ وہ یہ بات جانتے ہیں اور اسی لیے ایسا کر رہے ہیں۔‘‘
اتوار کو ایک روسی ڈرون نے یوکرین میں نیٹو رکن پولینڈ کی سرحد کے قریب ایک مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ حملہ اس مقام سے ایک سفارتی ٹرین کے گزرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہوا، جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور متعدد یورپی سفارت کار سوار تھے۔



