انٹرٹینمینٹتازہ ترین

78ویں ایمی ایوارڈز: ’وڈوز بے‘ اور ’دی پٹ‘ کی بڑی کامیابی کی توقع، جین اسمارٹ تاریخ رقم کرنے کی دوڑ میں

مقبول ترین ٹی وی پروڈکشنز کو اعزازات دیے جائیں گے بلکہ ماضی کے مقبول شوز اور ٹی وی شخصیات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

لاس اینجلس: ٹیلی ویژن کی دنیا کے سب سے بڑے اعزازات میں شمار ہونے والے 78ویں ایمی ایوارڈز کی تقریب میں اس سال نئی ہارر کامیڈی سیریز ’وڈوز بے‘ (Widow’s Bay) اور ہسپتال کے پس منظر میں بننے والے ڈرامے ’دی پٹ‘ (The Pitt) کے چھائے رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ایمی ایوارڈز کی مرکزی تقریب میں ٹیلی ویژن کے معروف ستارے ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہوں گے، جبکہ کئی اہم اداکاری اور ڈرامہ و کامیڈی کیٹیگریز میں مقابلہ انتہائی دلچسپ ہونے کی توقع ہے۔ اس تقریب میں نہ صرف رواں برس کی مقبول ترین ٹی وی پروڈکشنز کو اعزازات دیے جائیں گے بلکہ ماضی کے مقبول شوز اور ٹی وی شخصیات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔

اس سال کی تقریب میں اداکارہ جین اسمارٹ خصوصی توجہ کا مرکز ہیں، جو کامیابی کی صورت میں اداکاری کے شعبے میں مجموعی ایمی ایوارڈز کے اعتبار سے جولیا لوئس ڈریفس اور کلورس لیچمین کے ریکارڈ کی برابری کر سکتی ہیں۔

’وڈوز بے‘ کی دھوم

ایپل ٹی وی کی سیریز ’وڈوز بے‘ اس سال کی سب سے زیادہ زیرِ بحث نئی سیریز میں شامل ہے۔ ہارر اور کامیڈی کے امتزاج پر مبنی اس سیریز میں میتھیو ریس نیو انگلینڈ کے ایک دور افتادہ اور بظاہر آسیب زدہ جزیرے کے سربراہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

سیریز نے مرکزی ایمی تقریب سے قبل ہونے والی مختلف تقریبات میں پہلے ہی آٹھ ایوارڈز حاصل کر لیے ہیں، جس کے بعد اب اس کے لیے مزید کامیابیوں کے امکانات پر توجہ مرکوز ہے۔

ہالی وڈ نیوز آؤٹ لیٹ ’دی اینکلر‘ کے ڈپٹی ایڈیٹر کرسٹوفر روزن کے مطابق ناظرین نے اس سیریز کو غیر معمولی طور پر پسند کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شو کی مقبولیت اور ابتدائی ایوارڈز کی تعداد اسے مرکزی تقریب میں بھی ایک مضبوط امیدوار بناتی ہے۔

اگر ’وڈوز بے‘ مرکزی تقریب میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کرتی ہے تو یہ ایک ہی سال میں سب سے زیادہ ایمی ایوارڈز حاصل کرنے والی کامیڈی سیریز بننے کی دوڑ میں شامل ہوسکتی ہے۔

’دی اسٹوڈیو‘ کا ریکارڈ خطرے میں

’وڈوز بے‘ کی کامیابی کے امکانات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ گزشتہ برس کی کامیاب ترین کامیڈی سیریز ’دی اسٹوڈیو‘ (The Studio) کے ریکارڈ کو چیلنج کرسکتی ہے۔

سیٹھ روگن کی ہالی وڈ کی دنیا پر طنزیہ انداز میں بنائی گئی ’دی اسٹوڈیو‘ نے گزشتہ سال مجموعی طور پر 13 ایمی ایوارڈز حاصل کیے تھے۔

’وڈوز بے‘ پہلے ہی آٹھ ایوارڈز اپنے نام کرچکی ہے، اس لیے مرکزی تقریب میں مزید کامیابیاں اسے ایک ہی سال میں سب سے زیادہ ایوارڈز حاصل کرنے والی کامیڈی سیریز کے ریکارڈ کے قریب لے جا سکتی ہیں۔

تاہم اس ریکارڈ تک پہنچنے کے لیے اسے مرکزی تقریب میں نمایاں تعداد میں مزید اعزازات حاصل کرنا ہوں گے۔

میتھیو ریس کے لیے کامیابی کا امکان

’وڈوز بے‘ کی کامیابی کا ایک اہم مرکز اس کے مرکزی اداکار میتھیو ریس بھی ہیں۔

ریس اس سے قبل 2018 میں ’دی امیریکنز‘ کے لیے بہترین ڈرامہ اداکار کا ایمی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ اب وہ کامیڈی کے شعبے میں اپنی پہلی ایمی کامیابی کے امیدوار کے طور پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

کرسٹوفر روزن کے مطابق ریس کے لیے اس سال کامیابی کا امکان مضبوط ہے۔ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ان کے لیے اداکاری کے مختلف انداز میں اپنی صلاحیتوں کو تسلیم کروانے کا ایک اور اہم موقع ہوگا۔

’ہیکس‘ کے لیے آخری سیزن میں جین اسمارٹ کی امید

جہاں ’وڈوز بے‘ نئی سیریز کی حیثیت سے توجہ حاصل کر رہی ہے، وہیں ’ہیکس‘ (Hacks) کی جانب سے جین اسمارٹ کی کارکردگی اس سال کی اہم ترین کہانیوں میں شامل ہے۔

’ہیکس‘ ایک ایسی اسٹینڈ اپ کامیڈین کی کہانی ہے جو اپنے ڈھلتے ہوئے کیریئر کو دوبارہ بلندی پر لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔ سیریز میں اس کے ساتھ کام کرنے والی نسبتاً نئی نسل کی ایک معاون کا کردار بھی کہانی کو مختلف ذاتی اور پیشہ ورانہ مسائل سے جوڑتا ہے۔

سیریز کے آخری سیزن میں جین اسمارٹ کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا گیا ہے، اور ان کے لیے بہترین اداکارہ کا ایمی ایوارڈ ایک اہم اعزاز تصور کیا جا رہا ہے۔

روزن کے مطابق اگر اسمارٹ آخری سیزن میں بھی کامیاب ہوتی ہیں تو یہ سیریز کے اختتام کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین ہوگا۔

جین اسمارٹ کی ممکنہ کامیابی اس سال کے ایمی ایوارڈز کی سب سے نمایاں انفرادی کہانیوں میں شامل ہے۔

اسمارٹ، جو حال ہی میں 75 برس کی ہوئی ہیں، ’ہیکس‘ کے لیے پہلے ہی چار ایمی ایوارڈز جیت چکی ہیں۔ اگر وہ اس سال بھی کامیاب ہوتی ہیں تو ان کے مجموعی اداکاری کے ایمی ایوارڈز کی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔

اس طرح وہ اداکاری کے شعبے میں سب سے زیادہ ایمی ایوارڈز جیتنے کے حوالے سے جولیا لوئس ڈریفس اور کلورس لیچمین کے ریکارڈ کے برابر پہنچ سکتی ہیں۔

اس دوڑ میں ایلیسن جینی بھی شامل ہیں، جو ’دی ڈپلومیٹ‘ کے لیے اپنے آٹھویں ایمی ایوارڈ کی امیدوار ہیں۔

یوں اداکاری کے شعبے میں سب سے زیادہ ایمی ایوارڈز کا ریکارڈ اس سال ایک بار پھر خصوصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

’دی پٹ‘ بہترین ڈرامہ برقرار رکھنے کا امیدوار

ڈرامہ کیٹیگری میں ’دی پٹ‘ (The Pitt) سب سے مضبوط امیدواروں میں شامل ہے۔

گزشتہ سال بہترین ڈرامہ سیریز کا ایوارڈ جیتنے والی یہ سیریز پٹسبرگ کے ایک ایمرجنسی روم میں کام کرنے والے طبی عملے کی زندگیوں اور پیش آنے والے انتہائی دباؤ والے واقعات کے گرد گھومتی ہے۔

اس شو کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کی ہر قسط کی کہانی حقیقی وقت میں آگے بڑھتی ہے، جس سے ہسپتال کے ماحول میں پیدا ہونے والے دباؤ، ہنگامی فیصلوں اور انسانی جذبات کو زیادہ شدت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

’دی پٹ‘ نے صرف طبی ڈرامے کے طور پر ہی توجہ حاصل نہیں کی بلکہ اس میں معاشرے کو درپیش کئی حساس موضوعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

سیریز میں اسقاطِ حمل کے حقوق، امیگریشن کے حوالے سے سخت پالیسیوں، بڑے پیمانے پر فائرنگ اور دیگر سماجی و سیاسی مسائل جیسے موضوعات کو ہسپتال کے ماحول کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔

کرسٹوفر روزن کے مطابق اگر ’دی پٹ‘ بہترین ڈرامہ سیریز کا اعزاز دوبارہ حاصل نہ کر پائی تو یہ ایک بڑا حیران کن نتیجہ ہوگا۔

25 نامزدگیاں، ابتدائی کامیابیاں

’دی پٹ‘ اس سال 25 نامزدگیوں کے ساتھ تمام شوز میں سب سے آگے رہی۔

مرکزی تقریب سے قبل ہونے والی تقریبات میں بھی سیریز کئی اعزازات حاصل کرچکی ہے، جن میں ڈرامہ سیریز کے لیے بہترین کاسٹنگ کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔

سیریز کے مرکزی اداکار نوح وائل بھی دوبارہ کامیابی کے مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔ وائل گزشتہ سال بھی ایمی سمیت متعدد اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ’دی پٹ‘ کے سات دیگر اداکار معاون اداکاری کی کیٹیگری میں نامزد ہیں، جس سے سیریز کی مجموعی اداکاری کی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بہترین ڈرامہ اداکارہ کی دوڑ

بہترین ڈرامہ اداکارہ کی کیٹیگری میں بھی مقابلہ دلچسپ ہونے کی توقع ہے۔

کرسٹوفر روزن کے مطابق اس کیٹیگری میں ریا سیہورن اور کیری رسل کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

ریا سیہورن ’پلوریبس‘ کے لیے جبکہ کیری رسل سیاسی ڈرامہ ’دی ڈپلومیٹ‘ کے لیے توجہ کا مرکز ہیں۔

یہ کیٹیگری اس لیے بھی اہم ہے کہ دونوں اداکارائیں مختلف نوعیت کے کرداروں کے ذریعے ٹیلی ویژن ڈرامے میں نمایاں کارکردگی دکھا چکی ہیں۔

محدود سیریز میں ’DTF St. Louis‘ مضبوط امیدوار

محدود سیریز کی کیٹیگریز میں HBO Max کی ’DTF St. Louis‘ ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہے۔

یہ سیریز درمیانی عمر کے افراد کے درمیان پیدا ہونے والے ایک ایسے محبت کے مثلث کی کہانی بیان کرتی ہے جو حالات کے پیچیدہ ہونے کے ساتھ غیر متوقع رخ اختیار کر لیتا ہے۔

سیریز نے مرکزی تقریب سے پہلے ہی چھ ایوارڈز اپنے نام کر لیے ہیں، جن میں اس کے اداکار ڈیوڈ ہاربر اور لنڈا کارڈیلینی کے لیے حاصل کیے گئے اعزازات بھی شامل ہیں۔

ابتدائی کامیابیوں نے محدود سیریز کی کیٹیگری میں اس کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

ڈولی پارٹن کو خصوصی خراجِ تحسین

78ویں ایمی ایوارڈز کی تقریب صرف مقابلے اور ایوارڈز تک محدود نہیں ہوگی۔ تقریب میں آنجہانی کنٹری میوزک آئیکن ڈولی پارٹن کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔

ڈولی پارٹن موسیقی کے علاوہ ٹیلی ویژن اور تفریحی صنعت میں بھی طویل اور نمایاں کیریئر رکھتی تھیں اور خود ایمی ایوارڈ کی فاتح بھی رہی تھیں۔

ان کو خراجِ تحسین تقریب کے ان حصوں میں شامل ہوگا جہاں ٹیلی ویژن اور تفریحی دنیا کی ان شخصیات کو یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اس صنعت پر نمایاں اثرات چھوڑے۔

’In Memoriam‘ میں نوح کہان کی پرفارمنس

تقریب کے ’ان میموریم‘ حصے میں ان شخصیات کو یاد کیا جائے گا جو گزشتہ عرصے میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔

اس موقع پر گلوکار نوح کہان پرفارم کریں گے اور ’Bridge Over Troubled Water‘ گائیں گے۔

یہ حصہ عام طور پر ایمی ایوارڈز کی تقریب کے جذباتی لمحات میں شمار ہوتا ہے، جہاں ٹیلی ویژن اور تفریحی صنعت سے وابستہ مرحوم شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

ماریسکا ہارگیٹے کریں گی میزبانی

78ویں ایمی ایوارڈز کی میزبانی ’Law & Order: SVU‘ کی معروف اداکارہ ماریسکا ہارگیٹے کریں گی۔

ہارگیٹے خود بھی ایمی ایوارڈز جیت چکی ہیں اور ان کی دستاویزی فلم ’My Mom Jayne‘ کے لیے بھی انہیں دو ایمی اعزازات حاصل ہوئے ہیں۔

ان کی میزبانی تقریب میں اداکاری، مزاح، ٹیلی ویژن کی تاریخ اور موجودہ دور کی مقبول پروڈکشنز کو ایک ساتھ جوڑنے کا موقع فراہم کرے گی۔

’Buffy the Vampire Slayer‘ سے ’Charlie’s Angels‘ تک پرانی یادیں

اس سال کی تقریب میں ٹیلی ویژن کے ماضی کی مقبول سیریز کو بھی یاد کیا جائے گا۔

’Buffy the Vampire Slayer‘ کے ستارے سارہ مشیل گیلر اور ڈیوڈ بوریاناز تقریب میں بطور پریزنٹرز شریک ہوں گے۔

اسی طرح ’Charlie’s Angels‘ کے معروف ستاروں کیٹ جیکسن، شیریل لڈ اور جیکلن اسمتھ کی شرکت بھی تقریب میں ماضی کی مقبول ٹیلی ویژن ثقافت کی یاد تازہ کرے گی۔

یہ عناصر ایمی ایوارڈز کو صرف موجودہ ٹیلی ویژن پروڈکشنز کی تقریب کے بجائے ٹیلی ویژن کی کئی دہائیوں پر محیط تاریخ سے جوڑیں گے۔

زندایا بھی تقریب کا حصہ ہوں گی

ماضی کی ایمی فاتح اور ’Euphoria‘ کے لیے بہترین ڈرامہ اداکارہ کی موجودہ نامزد امیدوار زندایا بھی تقریب میں بطور پریزنٹر شامل ہوں گی۔

ان کی شرکت ریڈ کارپٹ اور تقریب دونوں حوالوں سے شائقین کی خاص توجہ حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہے۔

یوں 78ویں ایمی ایوارڈز میں ایک طرف ’وڈوز بے‘ اور ’دی پٹ‘ جیسی نئی اور نمایاں سیریز کی کامیابیوں کا امتحان ہوگا، تو دوسری طرف جین اسمارٹ جیسی تجربہ کار اداکارہ کے لیے تاریخ رقم کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔

ٹیلی ویژن کے بدلتے منظرنامے کی عکاسی

اس سال کے ایمی ایوارڈز کی نامزدگیوں اور ممکنہ فاتحین پر نظر ڈالیں تو یہ تقریب ٹیلی ویژن کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

ایک جانب ہارر، کامیڈی اور طنز کے امتزاج سے بننے والی نئی سیریز ناظرین اور ناقدین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں، تو دوسری جانب ہسپتال، سیاست، امیگریشن، اسقاطِ حمل اور معاشرتی بحران جیسے سنجیدہ موضوعات پر مبنی ڈرامے بھی بڑے اعزازات کے امیدوار ہیں۔

’وڈوز بے‘ کی ابتدائی کامیابی، ’دی پٹ‘ کی 25 نامزدگیاں، جین اسمارٹ کا ریکارڈ برابر کرنے کا امکان، ’DTF St. Louis‘ کی محدود سیریز میں پوزیشن اور ڈولی پارٹن کو خراجِ تحسین—یہ تمام عوامل 78ویں ایمی ایوارڈز کو ٹیلی ویژن کی دنیا کی ایک اہم اور یادگار تقریب بنانے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

مرکزی سوال اب یہی ہے کہ آیا ’وڈوز بے‘ ایک ہی سال میں کامیڈی سیریز کے سب سے زیادہ ایمی ایوارڈز کا ریکارڈ توڑ پائے گی، ’دی پٹ‘ بہترین ڈرامہ کا اعزاز برقرار رکھ سکے گی، اور کیا جین اسمارٹ آٹھویں اداکاری ایمی جیت کر جولیا لوئس ڈریفس اور کلورس لیچمین کے تاریخی ریکارڈ تک پہنچ جائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button