پاکستاناہم خبریں

خیبر پختونخوا اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشتگرد ہلاک، خودکش بمباروں کا تربیتی مرکز بھی تباہ

پاکستانی حکام کے مطابق پیر کے روز ملکی طیاروں نے مشرقی افغانستان میں مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع اور پاک افغان سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے بھارتی پراکسی قرار دی جانے والی تنظیم فتنۃ الخوارج کے 37 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ متعدد دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف منظم اور جامع انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا آغاز کیا۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشتگرد تنظیموں کے ٹھکانوں، محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی مراکز اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنانا تھا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے علاقوں کوہاٹ، ہنگو اور ٹل میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کیں، جبکہ پاک افغان سرحد کے قریب دہشتگردوں کے کیمپوں اور دیگر اہم اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

کوہاٹ اور ہنگو میں 9 دہشتگرد ہلاک

وزارت اطلاعات کے مطابق 20 ستمبر کو کوہاٹ اور ہنگو کے علاقوں میں فتنۃ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی گئیں۔

ان کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 9 دہشتگرد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

حکومت کے مطابق یہ کارروائیاں خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشتگرد حملوں کے تناظر میں کی گئیں، جن کا مقصد دہشتگرد نیٹ ورک کی صلاحیت کو متاثر کرنا اور مستقبل میں ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں ان کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات موجود تھیں۔

پاک افغان سرحدی علاقے میں تین اہم اہداف تباہ

وزارت اطلاعات کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ پاک افغان سرحدی علاقے تک بھی بڑھایا گیا، جہاں فتنۃ الخوارج اور دیگر دہشتگرد عناصر کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق کارروائی کے دوران تین اہداف کو کامیابی سے تباہ کیا گیا۔ ان اہداف میں مبینہ طور پر خودکش بمباروں کی تربیت کا ایک مرکز بھی شامل تھا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق سرحدی علاقے میں کی جانے والی کارروائی کے دوران 28 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جن میں متعدد خودکش بمبار بھی شامل تھے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق دہشتگردوں کے مراکز اور ٹھکانوں میں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا، جس سے دہشتگرد عناصر کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

یوں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں اور پاک افغان سرحدی پٹی میں کی جانے والی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 37 دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔

دہشتگردوں کے نیٹ ورک اور سہولت کاری کے خلاف کارروائیاں

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں صرف دہشتگردوں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ ان کے نیٹ ورک، محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی مراکز، اسلحہ کے ذخائر اور دیگر معاون ڈھانچے کو بھی ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

حکومت کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کے بعد مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ کارروائی کے دوران ممکنہ طور پر شہری آبادی کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

وزارت اطلاعات نے کہا کہ آپریشنز کے دوران زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔

حکومت کا افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر اظہار تشویش

وزارت اطلاعات کے بیان میں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگردی کے خطرے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، تاہم پاکستان کو درپیش دہشتگردی کا خطرہ افغانستان سے پیدا ہو رہا ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق حکومت کے لیے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ اولین ترجیح ہے، اسی لیے دہشتگردوں کے ان مراکز کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا تیاری کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کا دہشتگردی کا مرکز بنے رہنا پاکستان کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے اور سرحد پار موجود دہشتگرد انفراسٹرکچر کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

’’شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے‘‘

وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ملک کے شہریوں کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنا ہے۔

حکومت کے مطابق حالیہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں تاکہ دہشتگردوں کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے جہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی یا معاونت کیے جانے کا خدشہ تھا۔

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران شہری آبادی کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور اہداف کے انتخاب میں بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

’’غضب الحق‘‘ مہم جاری رکھنے کا اعلان

حکومت نے دہشتگردی کے خلاف جاری انسدادِ دہشتگردی مہم ’’غضب الحق‘‘ کو پوری رفتار سے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق اس مہم کا مقصد ملک میں غیرملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک دہشتگرد عناصر اور ان کے معاون نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی۔

حکومت نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

پاک افغان سرحد اور سکیورٹی صورتحال

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کے تناظر میں پاک افغان سرحدی علاقوں کی سکیورٹی پہلے ہی ایک اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔ حکومت پاکستان متعدد مواقع پر افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔

پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود بعض دہشتگرد عناصر پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کرتے ہیں، جبکہ افغان حکام ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور پاکستان پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرے۔

حالیہ کارروائیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر پاک افغان سرحدی سکیورٹی، دہشتگرد گروہوں کی نقل و حرکت اور دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ آپریشنز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی توجہ دہشتگردوں کے روایتی ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ ان کے تربیتی مراکز، اسلحہ ذخائر اور دیگر معاون انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر بھی ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق کوہاٹ، ہنگو اور ٹل میں کارروائیوں کے دوران 9 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ پاک افغان سرحدی علاقے میں تین اہم اہداف کو تباہ کرتے ہوئے مزید 28 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں خودکش بمباروں کی تربیت کے مرکز اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود کی تباہی سے دہشتگرد عناصر کی مستقبل میں کارروائیوں کی صلاحیت کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ’’غضب الحق‘‘ مہم کے تحت دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔

نوٹ: مذکورہ ہلاکتوں، اہداف اور کارروائیوں کی تفصیلات وزارتِ اطلاعات کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں۔ سرحد پار کارروائیوں اور ہلاکتوں سے متعلق بعض تفصیلات کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر مکمل تصدیق ممکن نہیں، اس لیے خبر میں سرکاری مؤقف کو اسی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button