مشرق وسطیٰتازہ ترین

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں کی تعداد مزید کم ہو گئی

آبنائے ہرمز سے گزشتہ ویک اینڈ یعنی ہفتہ 19 ستمبر اور اتوار 20 ستمبر کو گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں کی تعداد مزید کم ہو کر صرف 17 رہ گئی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ

ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کے تنازعے کی شدت ابھی تک کم نہیں ہوئی، اور گزشتہ ویک اینڈ پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار تجارتی بحری جہازوں کی تعداد ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں مزید کم ہو گئی۔

کمرشل شپنگ کے لیے عالمی اہمیت کے ‌حامل ملک سنگاپور سے پیر 21 ستمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق بین الاقوامی منڈیوں کو خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز سے گزشتہ ویک اینڈ یعنی ہفتہ 19 ستمبر اور اتوار 20 ستمبر کو گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں کی تعداد مزید کم ہو کر صرف 17 رہ گئی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ویک اینڈ پر ہی اس آبنائے سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی مجموعی تعداد 37 رہی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے سنگاپور سے پیر کے روز ملنے والے تازہ ترین کمرشل شپنگ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو بحری جہازوں کی تعداد میں یہ کمی اس امر کا ثبوت ہے کہ ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں  پائی جانے والی کشیدگی اور خاص طور پر خلیج فارس کے خطے میں امریکہ اور ایران کے مابین عسکری تناؤ اور اس میں پایا جانے والا مسلسل جمود بحری مال برداری کی صنعت کو ابھی تک بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو مال بردار بحری جہازوں کی اس سال جولائی کے وسط میں لی گئی ایک فائل فوٹو
گزشتہ ویک اینڈ پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی تعداد صرف سترہ رہیتصویر: AFPTV/AFP

کمرشل شپنگ کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والے ادارے Kpler کی طرف سے عالمی وقت کے مطابق پیر کی صبح جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ ابھی تک اس انتہائی اہم سمندری تجارتی راستے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جہاں سے فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ کے آغاز سے قبل دنیا بھر کے لیے خام تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزرا کرتا تھا۔

روئٹرز کے مطابق یہ صورت حال نہ صرف توانائی کی عالمی منڈیوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ اس کی وجہ سے خلیج کی عرب ریاستوں سے تیل اور گیس کی برآمدات کو بحرانی حالات کا سامنا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button