مشرق وسطیٰتازہ ترین

سری لنکا: ایسٹر بم دھماکوں میں ملوث 15 افراد کو 200 سے 260 سال تک قید کی سزا

سری لنکا: ایسٹر بم دھماکوں میں ملوث 15 افراد کو 200 سے 260 سال تک قید کی سزا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سری لنکا کی ایک عدالت نے 2019 کے ایسٹر بم دھماکوں میں ملوث 15 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے ہر ایک کو کم از کم 200 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان حملوں میں 267 افراد ہلاک اور 574 زخمی ہوئے تھے۔

تین ججوں پر مشتمل ہائی کورٹ بینچ نے منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے مجرموں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ تقریباً پانچ سال تک جاری رہنے والے مقدمے کا فیصلہ سخت سکیورٹی میں سنایا گیا اور اس موقع پر عدالت کے اطراف سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

21 اپریل 2019 کو ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے مختلف علاقوں میں تین گرجا گھروں اور تین ہوٹلوں کو خودکش بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک اور دھماکا ایک موٹل میں ہوا تھا، جہاں ایک حملہ آور نے چوتھے ہوٹل کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ترک کرنے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں 42 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔

ان حملوں کو شدت پسند تنظیم داعش سے متاثرہ کارروائی قرار دیا گیا تھا اور سری لنکا میں سرگرم دو شدت پسند گروپوں پر ان میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ حملوں میں براہ راست حصہ لینے والے تمام افراد پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں۔

سری لنکن حکام نے 2021 میں 25 ملزمان کے خلاف 23 ہزار 270 الزامات عائد کیے تھے، جن میں قتل، دہشت گردی کی سازش اور اسلحہ و دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم شامل تھے۔ ایک ملزم مقدمے کے دوران ہلاک ہو گیا، جبکہ عدالت نے نو ملزمان کو الزامات ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا۔

سزا پانے والے تمام 15 افراد کا تعلق سری لنکا کی مسلم اقلیت سے ہے۔ عدالت نے ان کے کردار اور حملوں کی سازش میں معاونت کی نوعیت کے مطابق مختلف سزائیں سنائیں۔ پانچ افراد کو 200 سال، پانچ کو 220 سال، چار کو 240 سال اور ایک کو 260 سال قید کی سزا دی گئی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button