
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے نکلنے کی اپیل کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی ایسا نہیں کرے گا۔
جرمن ریڈیو ڈوئچ لینڈ فنک سے گفتگو کرتے ہوئے واڈے فیہول نے آئی سی سی کو ایک ’’اہم ادارہ‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ کی اس اپیل کو سمجھ نہیں سکے اور یہ ان معاملات میں سے ایک ہے جہاں جرمنی کو امریکی انتظامیہ کے ساتھ پالیسی میں ایک افسوسناک اختلاف تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
ٹرمپ نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے بڑے پیمانے پر آئی سی سی سے نکلنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکہ خود عالمی فوجداری عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور حالیہ عرصے میں عدالت اور اس کے عہدیداروں کے خلاف پابندیوں میں اضافہ بھی کر چکا ہے۔
واڈے فیہول نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت دنیا کے قائم کردہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق یہ اختیارات کی تقسیم، قانون کی حکمرانی اور انسانی اقدار کے نفاذ کی نمائندگی کرتی ہے، اس لیے جرمنی واضح طور پر آئی سی سی کی حمایت جاری رکھے گا۔
عالمی فوجداری عدالت کو اس وقت واشنگٹن کی جانب سے خاصے دباؤ کا سامنا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف جاری کیا گیا گرفتاری کا وارنٹ ہے۔
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم آئی سی سی 2002 سے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے سنگین بین الاقوامی جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔ عدالت بنیادی طور پر ان صورتوں میں مداخلت کرتی ہے جب متعلقہ ممالک خود حقیقی طور پر تحقیقات یا قانونی کارروائی کرنے سے قاصر ہوں یا ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔
آئی سی سی کے اس وقت 125 رکن ممالک ہیں۔ امریکہ کے علاوہ اسرائیل، روس اور ترکی بھی ان ممالک میں شامل ہیں جو عدالت کے رکن نہیں ہیں۔



