
گولان شامی سرزمین ہی رہے گا … شامی صدر کا اقوام متحدہ میں خطاب
جنگوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا : صدر احمد الشرع
شام کے صدر احمد الشرع نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ گولان، جس کے کچھ حصوں کو اسرائیل نے ضم کر لیا ہے اور دیگر پر قابض ہے، شامی سر زمین ہی رہے گا۔
الشرع نے آج بدھ کے روز اپنے خطاب میں کہا کہ "کوئی بھی کوششیں ہماری ریاست کی قانونی حیثیت، ہمارے قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ کو متاثر نہیں کر سکتیں، لہٰذا گولان شامی سرزمین ہی رہے گا … شامی صدر کا اقوام متحدہ میں خطابشامی سر زمین ہی رہے گا”۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ضم کرنے کے تمام اقدامات 1981 میں منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کی رو سے باطل اور کالعدم ہیں”۔
اس قرارداد میں شام کے گولان کے پہاڑی علاقے کو اسرائیل کی اراضی میں ضم کرنے کے فیصلے کو کالعدم اور باطل قرار دیا گیا تھا۔
الشرع نے واضح کیا کہ "اسرائیل شامی سرزمین پر اپنی در اندازیوں، فضائی حملوں اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے”۔ انہوں نے اسرائیل سے شامی سرزمین سے انخلا کا مطالبہ کیا۔
الشرع نے مزید کہا کہ "ہم ایک ایسا عادلانہ امن چاہتے ہیں جو سب کے حقوق کا تحفظ کرے”۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ شام "مختلف ممالک کی کشمکش کا شکار ایک بحران سے نکل کر ایک ایسے موقع میں تبدیل ہو رہا ہے جس پر ممالک جمع ہو رہے ہیں”۔
انہوں نے یہ بھی توجہ دلائی کہ شام نے "پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست کا صفحہ پلٹ دیا ہے”، ساتھ واضح کیا کہ ان کا ملک "شامی خود مختاری سے وابستگی کی بنیاد پر شراکت داری کے پل باندھنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے”۔
الشرع نے کہا "ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرق کا امن دمشق میں بُنا جاتا ہے”۔ انھوں نے باور کرایا کہ "ہم اپنے ملک کی خود مختاری پر کاربند ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ "شام ابھر رہا ہے اور ہم نے بحالی اور اتحاد کا سفر شروع کر دیا ہے نیز عبوری انصاف اور تعمیرِ نو کا راستہ بھی شروع ہو چکا ہے”۔
شامی صدر نے کہا "جنگوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا”۔



