انٹرٹینمینٹتازہ ترین

رسول حمزہ توف کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین، روسی مرکز لاہور میں خصوصی تقریب کا انعقاد

ادب، محبت اور ثقافت کی سرحدیں نہیں ہوتیں، رسول حمزہ توف کی یاد میں روسی مرکز لاہور میں خصوصی تقریب

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

لاہور ( قیصرمغل ) روسی مرکز برائے سائنس تعلیم و ثقافت میں بین الاقوامی شہرت یافتہ روسی شاعر اور ادیب رسول حمزہ توف کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔صدارت رشیئن ایمبیسڈر اف سائنس اینڈ ایجوکیشن ٹو پاکستان اور روسی مرکز کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن نے کی تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر امجد طفیل تھے۔اظہار خیال کرنے والوں میں پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی ،ڈاکٹر مصدق حسین ،ڈاکٹر نجم سحر بٹ اور ڈاکٹر راشد پرویز شامل تھے ۔ڈاکٹر اشرف نظامی نے رسول حمزہ توف کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ان کی شاعری کے 40 سے زائد مجموعے شائع ہوئے اور بہت سے اعزازات سے نوازے گئے۔ رسول حمزہ توف کی پاکستان کے عظیم شاعر فیض احمد فیض سے بھی دوستی تھی۔ فیض نے ان کی متعدد نظموں کے اردو میں منظوم تراجم بھی کیے رسول حمزہ توف نے 1995 میں پاکستان میں بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ ان کی شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پہاڑ، زبانیں اور سرحدیں لوگوں کو تقسیم تو کر سکتی ہیں لیکن ادب اور محبت انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔ ڈاکٹر مصدق حسین نے رسول حمزہ توف کے حوالے سے مقالہ پیش کیا اور کہا کہ وہ ایک عظیم عوامی شاعر تھے ان کی تحریروں کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں وہ عوامی حکایات کہاوتوں ،مقامی روایات اور عوامی دانش کو بڑی اہمیت دیتے تھے ۔حمزہ توف کے نزدیک شاعر کا کام صرف خوبصورت الفاظ لکھنا نہیں بلکہ شاعر کو اپنے معاشرے اپنی قوم اور انسانیت کے مسائل سے بھی وابستہ رہنا چاہیے ۔تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر امجد طفیل نے رسول حمزہ توف کے حوالے سے کہا کہ ان کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قاری کو اندیکھی چیز کا بھی مشاہدہ کروا دیتی ہے۔ وہ اپنی دھرتی اپنی زبان اور اپنی ثقافت کو غیر معمولی اہمیت دیتے تھے ان کا کہنا تھا کہ مادری زبان انسان کی حقیقی شناخت کا سبب بنتی ہے انہوں نے اپنی ذات کو اپنی ثقافت میں ضم کر رکھا تھا کیونکہ ان کے مطابق اپنی دھرتی کو چھوڑ دیں تو پہچان قائم نہیں رہتی انہوں نے یہ سبق دیا کہ اپنی دھرتی سے وابستہ رہتے ہوئے کس طرح عالمی سطح کا ادب تخلیق کیا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر نجم السحر بٹ نے رسول حمزہ توف کی ایک معروف نظم کا اردو میں ترجمہ پیش کیا اور داد سمیٹی ۔ صاحب صدارت ڈاکٹر شاہد حسن نے فیض احمد فیض اور رسول حمزہ توف سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ انتہائی منکسر مزاج ،سادہ طبیعت اور دوستوں سے محبت کرنے والے انسان تھے وہ پاکستان کی حقیقی دوست تھے اور اپنی ثقافت اپنی مادری زبان اور اپنی سرزمین سے بے پناہ محبت کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اپنی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی مادری زبان سے جڑت بہت ضروری ہے ۔ ڈاکٹر شاہد حسن نے معزز مہمانوں اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے اہم شرکاء میں کامریڈ محمد اصف میڈم عظمی مس عائشہ تحسین مس ایمان لطیف میڈم فاخرہ سلطانہ ڈاکٹر رضوانہ خالد میڈم نتالیہ مس ماریہ خان ملک فاروق مقصود احمد فاروقی محمد مقصود اور نواب خان خاص طور پر قابل ذکر ہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button