کالمزپیر مشتاق رضوی

سیف سٹی راجن پور میں نوجوان کا لرزہ خیز قتل !! …… پیر مشتاق رضوی

شہر کے جائز اور ناجائز معززین نے اپنے لونڈے لپاڑوں کے باقاعدہ گروپ بنا رکھے ہیں جو شہر کے مختلف مقامات، چائے کے ہوٹلوں اور ڈرنک کارنرز پر 125 ہونڈا پرآوارہ کتوں کے غول کی طرح گھومتے ہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

راجن پور شہر میں گزشتہ رات جو کچھ ہوا وہ صرف ایک بہیمانہ قتل کی واردات نہیں تھی، یہ اس شہر کے امن، اس کے سیف سٹی کیمروں کے بڑے بڑے دعوؤں اور انتظامی رٹ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اوباش گینگسٹرز نے پورے فلمی سٹائل میں گلی بند کر کے گھات لگائی، راستہ روک کر 40 سے 50 لڑکوں نے مین روڈ پر چار نوجوانوں کو گھیر لیا اور کھوپڑی میں خنجر گھونپ دیے۔ پورے شہر میں دہشت پھیلا دی گئی اور خوف کی فضا قائم ہو گئی۔ اس سفاک حملے میں ایک غریب بیوہ کے نوجوان بیٹا راؤ حسین موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کا بھائی حمزہ سمیت تین دیگر نوجوان شدید زخمی ہو گئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اصل کہانی ایف آئی آر سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ تھانہ سٹی راجن پور میں ایف آئی آر نمبر 773/26 مورخہ 22 ستمبر 2026 بجرم 302، 324، 109، 148، 149 کے تحت درج تو کر لی گئی ہے، لیکن زمینی حقائق اور عوامی تبصروں نے اس نظام کی بے حسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اتنے سیف سٹی کیمروں کے درمیان یہ سب ہوتا رہا اور کوئی روکنے نہ آیا۔ وقوعہ کی شب راجن پور میں تین سے چار گھنٹے باقاعدہ گینگ وار چلتی رہی۔ اخبار بیٹھک کی خبر کے مطابق ضیاء شہید روڈ پر اسے معمولی تلخ کلامی کا نام دیا گیا، حالانکہ حقیقت میں یہ چھریوں اور تیز دھار آلے سے لیس دو گروہوں کا خونریز تصادم تھا۔

سوال یہ ہے کہ جب شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے تو سیف سٹی کیمرے کہاں تھے؟ عوام میں شدید غم و غصہ ہے کہ یہی کیمرے ہیلمٹ اور نمبر پلیٹ کےچالان میں تو بڑے متحرک ہیں، لیکن جب شہر میں گینگ وار ہو رہی تھی تو انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف شہری بار بار توجہ دلاتے رہے کہ رات کو شہر کی سرکلر روڈ پر ادھم مچانے والے آوارہ گردوں اور 125 پر سوار گینگسٹروں کو لگام دی جائے۔یہ واقعہ اچانک نہیں ہوا، اس کے پیچھے ایک پورا کلچر ہے جس نے راجن پور کے نوجوانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ شہر کے جائز اور ناجائز معززین نے اپنے لونڈے لپاڑوں کے باقاعدہ گروپ بنا رکھے ہیں جو شہر کے مختلف مقامات، چائے کے ہوٹلوں اور ڈرنک کارنرز پر 125 ہونڈا پرآوارہ کتوں کے غول کی طرح گھومتے ہیں، بدمعاشی کی ویڈیوز بناتے ہیں اور ٹک ٹاک پر ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے ہیں جو آخر قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہیں۔ ہر عید اور تہوار پر غل غپاڑہ ہوتا ہے اور کوئی شریف انسان فیملی کے ساتھ باہر نہیں نکل سکتا۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات جو والدین اور اساتذہ نے بتائی ہے وہ یہ ہے کہ یہی گینگز سکولوں اور اکیڈمیوں کے باہر بچوں کو تنگ کرتے ہیں، جو ان کی بات نہ مانے اس پر تشدد کرتے ہیں، انہیں منشیات کی طرف لگاتے ہیں اور ان کے ساتھ زبردستی بدفعلی جیسے گھناؤنے جرائم کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ صرف لڑائی نہیں، یہ ہماری اخلاقی نسل کشی ہے۔ والدین سے بھی ایک کڑوا سوال ہے کہ وہ اپنی اولاد کے کرتوتوں پر نظر کیوں نہیں رکھتے؟ کیا اشرافیہ والدین نے اپنے اوباش بیٹوں کو اپنی دولت، سیاسی پشت پناہی اور آشیر باد سے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے؟ اس ساری بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ مقتول کی نعش کو ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے رات کے چار بجے تک انتظار کرنا پڑا۔ کس کس چیز کو روئیں؟ ایک غریب بیوہ ماں کا بیٹا چلا گیا اور نظام کاغذوں میں الجھا رہا۔مقتول کے جنازے میں پورے شہر کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ پورے راجن پور کا دکھ ہے۔ اسی لیے اب عوام کا مطالبہ بہت واضح ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اس کیس کو عام تفتیش سے ہٹا کر CCD یعنی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا جائے اور مقدمہ قتل میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جائیں، کیونکہ پورے شہر میں دہشت پھیلانا دہشت گردی ہی ہے اور ایسے ہی دہشت گردوں کا صفایا کرنا ہی CCD جیسے ادارے کا اصل مقصد ہے۔ عوام کو کسی ادارے سے جنگ نہیں چاہیے، عوام کو صرف امن، تحفظ اور انصاف چاہیے۔اس افسوسناک صورتحال میں ایک امید کی بات یہ ہے کہ بتایا گیا ہے کہ ڈی پی او راجن پور محمد عمران ذاتی طور پر اس سانحہ کی تفتیش کو خود ہینڈل کر رہے ہیں اور انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ہمیں اپنے ڈی پی او اور اپنے اداروں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے انشاء اللہ۔ راجن پور کے شہری وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آر پی او ڈیرہ غازی خان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ سیف سٹی کی اس رات کی تمام فوٹیج کو فورنزک بنیادوں پر قبضے میں لیا جائے، ان 40 سے 50 افراد کی شناخت کر کے ان کے سرپرستوں سمیت بلا تفریق کارروائی کی جائے اور راجن پور کے شہریوں کو اس 125 گینگ کلچر سے نجات دلائی جائے۔ والدین سے بھی ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے کہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں، انہیں ایسے گروہوں سے دور رکھیں، خود سکول چھوڑ کر آئیں اور واپس خود لے کر جائیں، ورنہ کل کو آپ کا بچہ بھی اس گینگ وار کا ایندھن بن سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button