
سید عاطف ندیم-ادارت، وزیر اعظم آفس کے ساتھ
بیجنگ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چینی صدر شی جن پنگ کے دوراندیشانہ اقدام گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (GDI) کا پختہ حامی ہے اور عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اس کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو درپیش بڑھتے ہوئے معاشی، ماحولیاتی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط، مؤثر اور نتیجہ خیز کثیرالجہتی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے نائب صدر ہان ژینگ کی میزبانی میں منعقدہ گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے عالمی ترقی کے ایجنڈے، پائیدار ترقی کے اہداف، ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات اور پاکستان و چین کے درمیان ترقیاتی تعاون پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
GDI 2030 کے اہداف کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے
وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے کووڈ-19 کی عالمی وبا کے عروج کے دوران پانچ سال قبل گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ اپنے وقت سے آگے ایک بصیرت افروز اور دوراندیش اقدام تھا، جس کی اہمیت موجودہ عالمی حالات میں مزید واضح ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ GDI کے اہداف کو 2030 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم اس مدت میں اب صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں۔ دوسری جانب پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کی جانب عالمی پیش رفت مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے درکار مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، مہنگائی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ترقی کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
موسمیاتی آفات اور مہنگائی نے ترقی پذیر ممالک کو مشکلات سے دوچار کردیا
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ شدید موسمیاتی آفات مسلسل ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں اور معاشروں کو متاثر کررہی ہیں۔ بار بار آنے والی قدرتی آفات نے نہ صرف انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ کئی ممالک میں گزشتہ برسوں کے دوران حاصل ہونے والی معاشی اور سماجی ترقی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے ان ممالک پر معاشی دباؤ بڑھا ہے، جبکہ محدود مالی وسائل کے باعث حکومتوں کے لیے عوامی فلاح، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری برقرار رکھنا مشکل ہورہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے بھی عالمی معیشت اور ترقی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ موجودہ حالات میں ترقی پذیر ممالک کی دہائیوں پر محیط کامیابیوں کو محفوظ بنانے اور انہیں مزید آگے بڑھانے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
مضبوط کثیرالجہتی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے
وزیراعظم نے واضح کیا کہ عالمی سطح پر درپیش موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کوئی ایک ملک تنہا نہیں کرسکتا۔ ان مسائل کے حل کے لیے ممالک کے درمیان تعاون، مشترکہ حکمت عملی اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ترقی کے اہداف کو عملی شکل دینے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کرنا ہوگا تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی، غربت، خوراک اور توانائی کے مسائل سمیت دیگر چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکیں۔
چین اور GDI نے ترقی پذیر دنیا کے لیے عملی پیش رفت کی
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے شعبے میں بروقت اور اہم پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ GDI کا فریم ورک اب محض ایک تصور نہیں رہا بلکہ ترقی پذیر دنیا میں اس کے عملی فوائد سامنے آچکے ہیں۔ اس اقدام کے تحت ایسے منصوبوں اور تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے جو ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس نتائج اور عملی فوائد کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ GDI ”سب کے لیے فائدہ” کے اصول کے مطابق عالمی ترقی کے عمل میں زیادہ جامع اور مشترکہ شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔
پاکستان GDI کی مکمل حمایت جاری رکھے گا
وزیراعظم نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق GDI گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان یکجہتی، تعاون اور مشترکہ ترقی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی کے منصوبے کے مقاصد بھی GDI کے بنیادی اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔ پاکستان معاشی ترقی، سرمایہ کاری، روزگار، انسانی وسائل کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔
CPEC پاکستان اور چین کے تعاون کا اہم ستون ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور اقتصادی شراکت داری کا بھی خصوصی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت جاری ہے، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اس شراکت داری کا اہم ترین منصوبہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ CPEC اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے شعبوں کو فروغ دینے اور موجودہ منصوبوں کو مزید وسعت دینے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
CPEC کے دوسرے مرحلے میں نئے شعبوں پر توجہ ہوگی
محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان 2030 کی جانب بڑھتے ہوئے GDI کے تمام شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کامیاب منصوبوں اور تجربات کو بڑے پیمانے پر دہرانے کے ساتھ ساتھ تعاون کے نئے اور جدید شعبوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں، معاشی سرگرمیوں اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرے گا۔
2030 ایجنڈے پر پیش رفت تیز کرنا ہوگی
وزیراعظم نے زور دیا کہ GDI کے 2030 ایجنڈے پر پیش رفت کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے پاس پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے محدود وقت باقی ہے، اس لیے محض وعدوں کے بجائے عملی اقدامات اور قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو درپیش مالی اور معاشی رکاوٹوں کو دور کیے بغیر عالمی ترقی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
عالمی طرز حکمرانی میں ترقی پذیر ممالک کی مؤثر نمائندگی ضروری
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی طرز حکمرانی میں اصلاحات اور زیادہ نمائندہ ڈھانچے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور ضروریات کو مناسب طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔ عالمی فیصلہ سازی کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے مسائل اور ترجیحات کی بہتر عکاسی کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک زیادہ نمائندہ عالمی نظام ہی ترقی پذیر ممالک کو عالمی اقتصادی اور ترقیاتی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی ستون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے 80 اقدامات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے اقوام متحدہ کے ترقیاتی ستون کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ترقیاتی سرگرمیوں کی عملی نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے تاکہ عالمی ترقی کے اہداف کو زمینی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان اہم اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے مؤثر تعاون جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
گلوبل ساؤتھ کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون عالمی ترقی کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو اپنے تجربات، وسائل، ٹیکنالوجی اور ترقیاتی ماڈلز ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے چاہئیں تاکہ مشترکہ مسائل کا مشترکہ حل تلاش کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری نہ صرف معاشی ترقی میں مدد دے سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک زیادہ متوازن اور جامع ترقیاتی نظام کے قیام میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
چین پاکستان کا قریبی دوست اور اہم ترقیاتی شراکت دار ہے
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے ساتھ پاکستان کے خصوصی تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قریبی ترین دوست چین کے ساتھ مسلسل قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان GDI کے تحت چین اور گروپ آف فرینڈز کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر عالمی ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کام کرتا رہے گا۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک ایسے عالمی معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا جہاں ترقی کے ثمرات زیادہ وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچیں اور انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کے وژن کو عملی شکل دی جاسکے۔
مشترکہ مستقبل کے لیے عالمی تعاون ناگزیر
وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی، موسمیاتی تحفظ اور عالمی تعاون ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہداف ہیں۔ موجودہ عالمی حالات میں ان مقاصد کے حصول کے لیے ممالک کو باہمی تعاون مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت عالمی ترقی، ترقی پذیر ممالک کے درمیان یکجہتی اور پائیدار معاشی خوشحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر 2030 کے ترقیاتی ایجنڈے کی تکمیل، پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔



