بین الاقوامیاہم خبریں

جنوبی افریقہ میں دو الگ فائرنگ کے واقعات، 27 افراد ہلاک، 26 زخمی

جوہانسبرگ اور کیپ ٹاؤن کے قریب مسلح حملوں میں درجنوں افراد نشانہ بن گئے، پولیس کا ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن، ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
روئٹرز، ڈی پی اے اور اے پی کے ساتھ | ادارت سید عاطف ندیم

جنوبی افریقہ میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب فائرنگ کے دو الگ واقعات میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوگئے۔ دونوں حملے ملک کے بڑے شہروں جوہانسبرگ اور کیپ ٹاؤن کے قریب واقع ٹاؤن شپ علاقوں میں پیش آئے۔ پولیس نے متعدد مسلح ملزمان کے خلاف کارروائی اور تلاش شروع کردی ہے، تاہم فوری طور پر کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں دی گئی.

وڈیلا ٹاؤن شپ میں بار پر فائرنگ، 17 افراد ہلاک

پولیس کے مطابق ہفتے کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے جوہانسبرگ کے جنوب مغرب میں واقع وڈیلا (Wedela) ٹاؤن شپ میں ایک بار پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔ واقعے میں 17 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 13 مرد اور چار خواتین شامل ہیں، جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے مختلف مراکز صحت منتقل کیا گیا۔

جنوبی افریقی پولیس سروس کے مطابق حملہ آور مبینہ طور پر اے کے-47 رائفلوں اور پستولوں سے مسلح تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے پہلے بار کے باہر موجود افراد کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں اندر داخل ہوکر بھی فائرنگ کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

مقامی پولیس نے واقعے کے سلسلے میں 17 قتل، 15 اقدامِ قتل اور املاک کو نقصان پہنچانے کے دو مقدمات درج کیے ہیں۔ بعض مقامی رپورٹس کے مطابق حملہ آور دو گاڑیوں میں فرار ہوئے اور مبینہ طور پر بعض افراد کے موبائل فون بھی چھینے گئے، تاہم حملے کا حتمی محرک ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لوانڈلے میں دکان پر فائرنگ، 10 افراد جاں بحق

دوسرا واقعہ اتوار کی صبح تقریباً ایک بجے کیپ ٹاؤن کے قریب واقع لوانڈلے (Lwandle) کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک دکان کو مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق اس حملے میں 10 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حملے میں ایک سے زائد مسلح افراد ملوث تھے، تاہم پولیس نے ابھی تک مشتبہ ملزمان کی حتمی تعداد یا ان کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

پولیس نے دونوں واقعات میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور فائرنگ کے محرکات، حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ باہمی روابط کا تعین کیا جا رہا ہے۔

چند روز میں تیسرا بڑا خونریز واقعہ

جنوبی افریقہ میں تازہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب ملک میں چند روز قبل ایک اور اجتماعی فائرنگ نے شدید تشویش پیدا کی تھی۔ 22 ستمبر کو مشرقی ساحلی شہر ڈربن کے قریب کوا مَخوتھا (KwaMakhutha) میں ایک گھر میں جاری پارٹی پر تین مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ایسی خاتون بھی شامل تھی جس کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ وہ حاملہ تھیں۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں 13 مرد اور ایک خاتون گھر میں موجود تھے جب تین مسلح افراد وہاں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی۔ دس افراد موقع پر ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی نے بعد میں اسپتال میں دم توڑا۔ پولیس نے اس حملے کے محرک کو بھی فوری طور پر واضح نہیں کیا، تاہم ابتدائی تحقیقات میں متحارب گروہوں کے درمیان تنازع کو ممکنہ وجہ کے طور پر خارج نہیں کیا گیا۔

اجتماعی فائرنگ پر تشویش میں اضافہ

تازہ واقعات نے جنوبی افریقہ میں مسلح جرائم اور اجتماعی فائرنگ کے مسئلے پر ایک مرتبہ پھر توجہ مرکوز کردی ہے۔ ملک پہلے ہی بلند شرحِ جرائم اور غیر قانونی اسلحے کے استعمال سے متعلق طویل عرصے سے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ جنوبی افریقہ میں ماضی میں بھی بارز، ٹاؤن شپ علاقوں اور دیگر مقامات پر اجتماعی فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

حالیہ تین بڑے واقعات میں مجموعی طور پر 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک ان واقعات کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ وڈیلا اور لوانڈلے فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف ٹیمیں مشتبہ افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔ پولیس کی جانب سے مزید معلومات تحقیقات میں پیش رفت کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔ فی الحال دونوں واقعات کے محرکات حتمی طور پر معلوم نہیں ہوسکے، اس لیے کسی ممکنہ گروہی یا جرائم پیشہ تنازع کو حتمی وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button