پاکستانتازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا قیمتی پتھروں کے شعبے میں سست روی پر اظہارِ برہمی، برآمدات بڑھانے کے لیے جامع لائحہ عمل آئندہ ہفتے پیش کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کے پائلٹ پراجیکٹس کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات میں تعطل پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں قیمتی پتھروں اور جواہرات (Gemstones) کے شعبے کی ترقی کے لیے جاری پائلٹ پراجیکٹس کی تیاری میں سست روی اور متعلقہ اقدامات میں تعطل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس شعبے کی ترقی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر واضح اہداف اور مقررہ مدت پر مشتمل جامع لائحہ عمل تیار کرکے آئندہ ہفتے پیش کیا جائے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت، غیر ضروری تاخیر یا سست روی قبول نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی اور ان کی برآمدات میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے قیمتی پتھروں کی تلاش، کان کنی، تراش خراش، ویلیو ایڈیشن، برآمدات کے فروغ اور اس شعبے سے وابستہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان کے قدرتی وسائل کو قومی معیشت کی مضبوطی، صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی سے لے کر ان کی بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت تک ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے، تاکہ خام معدنی وسائل کی بجائے تیار اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات برآمد کرکے زیادہ زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔

قیمتی پتھروں کے منصوبوں میں تاخیر کسی صورت قبول نہیں، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کے پائلٹ پراجیکٹس کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات میں تعطل پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے جاری منصوبوں کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر مکمل کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ اس شعبے میں پاکستان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے محض منصوبہ بندی کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات، مقررہ اہداف اور بروقت عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام زیر التوا معاملات کا جائزہ لے کر رکاوٹیں دور کی جائیں اور ہر منصوبے کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ آئندہ ہفتے پیش کیے جانے والے جامع لائحہ عمل میں قیمتی پتھروں کے سینٹرز آف ایکسیلینس، ماڈل مائنز، پائلٹ پراجیکٹس اور برآمدات میں اضافے کے اقدامات کو شامل کیا جائے۔

وزیراعظم کے مطابق اس شعبے کی ترقی سے نہ صرف ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے بلکہ کان کنی، پتھروں کی تراش خراش، زیورات کی تیاری، پیکجنگ، کاروباری خدمات اور متعلقہ صنعتوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

قیمتی پتھروں کی کان کنی سے برآمدات تک مربوط نظام قائم کرنے کی ہدایت

وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کی کان کنی، پراسیسنگ، تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال کیا ہے، لہٰذا ان وسائل کو جدید طریقوں سے بروئے کار لاتے ہوئے ملکی معیشت کے استحکام اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بنایا جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی دریافت اور نکاسی سے لے کر ان کی درجہ بندی، صفائی، کٹنگ، پالشنگ، ڈیزائننگ، زیورات کی تیاری اور بین الاقوامی مارکیٹنگ تک تمام مراحل کو مربوط کیا جائے۔

پاکستان میں قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ خام پتھروں کو کم قیمت پر فروخت کرنے کے بجائے انہیں جدید مشینری اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی مدد سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔ اس عمل سے مصنوعات کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوگا اور ملکی صنعت کو عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

وزیراعظم نے اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی، تربیت، معیار کی جانچ اور بین الاقوامی تجارتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جو اس شعبے کی طویل مدتی ترقی کی بنیاد بن سکے۔

غیر معیاری کان کنی اور اسمگلنگ سے اربوں ڈالر کے نقصان پر تشویش

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کی غیر معیاری طریقوں سے کان کنی اور ان کی اسمگلنگ کے باعث ملک کو ہونے والے بھاری مالی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان اپنے قدرتی وسائل کی اصل معاشی قدر سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔

وزیراعظم کے مطابق قیمتی پتھروں کی غیر مؤثر کان کنی اور غیر قانونی تجارت کے باعث قومی معیشت کو سالانہ اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے کان کنی کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے، قانونی تجارت کو فروغ دینے اور وسائل کی مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں کان کنی کے مقامات پر بہتر انتظامی نظام، محفوظ اور ماحول دوست طریقوں کے استعمال، پتھروں کی درست درجہ بندی اور سپلائی چین کی نگرانی جیسے اقدامات اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح غیر قانونی نکاسی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور قواعد پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔

قیمتی پتھروں کی قانونی تجارت کو آسان بنانے اور برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے سے کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح قومی وسائل کی بہتر نگرانی، سرکاری آمدن میں اضافے اور مقامی صنعت کے فروغ کے امکانات پیدا ہوں گے۔

قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کے لیے برانڈ پاکستان متعارف کرانے پر زور

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے بھی برانڈ پاکستان کے تصور پر کام کیا جائے، تاکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی الگ شناخت قائم کی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے قیمتی پتھروں کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ اس حکمت عملی میں مصنوعات کے معیار، مستند سرٹیفکیشن، خوبصورت اور معیاری پیکجنگ، مؤثر تشہیر، بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں شرکت اور بیرون ملک خریداروں تک رسائی کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

عالمی منڈی میں کسی ملک کی مصنوعات کی شناخت قائم کرنے کے لیے صرف قدرتی وسائل کی دستیابی کافی نہیں ہوتی بلکہ معیار، قابل اعتماد تجارتی نظام، بروقت ترسیل اور مصنوعات کی مستقل یکسانیت بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں قیمتی پتھروں اور زیورات کی صنعت کو جدید کاروباری تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے عالمی خریداروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ برانڈ پاکستان کے تحت ایک مربوط تشہیری حکمت عملی سے مقامی کاروباری اداروں، برآمد کنندگان اور ہنرمندوں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اس شعبے کی ترقی کے لیے ایسے اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے جن سے ملکی مصنوعات کی قدر میں اضافہ ہو اور برآمدات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی جا سکیں۔

سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا لائحہ عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت

اجلاس میں وزیراعظم کو قیمتی پتھروں کی تلاش، تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن کے لیے قائم کیے جانے والے سینٹرز آف ایکسیلینس کے منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

بریفنگ کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے حسین آباد، اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی ہے، جبکہ منصوبے کے لیے فنڈز بھی دستیاب ہیں۔ حکام نے بتایا کہ اس منصوبے پر تعمیراتی کام جلد شروع کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کو مزید تیز کرنے اور منصوبے کی تکمیل کے لیے تمام ضروری انتظامی اقدامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے مراکز محض عمارتوں تک محدود نہ ہوں بلکہ انہیں جدید تربیت، مشینری، تکنیکی معاونت اور کاروباری سہولتوں کے مؤثر مراکز کے طور پر تیار کیا جائے۔

ان مراکز کے ذریعے مقامی کان کنوں، کاریگروں، ڈیزائنرز اور کاروباری افراد کو جدید مہارتیں فراہم کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ قیمتی پتھروں کی کٹنگ، پالشنگ، درجہ بندی اور معیار کی جانچ کی تربیت سے مقامی افرادی قوت کی صلاحیتیں بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا بنیادی مقصد قیمتی پتھروں کے شعبے میں جدید تکنیک متعارف کرانا اور خام وسائل کو زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے درکار مہارت اور سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں بھی منصوبوں پر پیش رفت

اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

اسلام آباد میں مستقل مرکز کی تعمیر مکمل ہونے تک اسے متبادل جگہ پر مکمل طور پر فعال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تاکہ تربیت، تکنیکی معاونت اور شعبے کی ترقی سے متعلق سرگرمیوں کو مزید تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں اور جہاں زمین، تعمیرات یا دیگر انتظامی معاملات رکاوٹ بن رہے ہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

حسین آباد، اسکردو سمیت آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں مجوزہ مراکز قیمتی پتھروں کے شعبے سے وابستہ افراد کو تربیت اور تکنیکی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے مختلف علاقوں میں دستیاب قدرتی وسائل کو مقامی سطح پر پراسیس کرنے اور تیار مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینے کے امکانات پیدا ہوں گے۔

گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی

اجلاس میں قیمتی پتھروں کے ذخائر کی تلاش اور جیولوجیکل میپنگ سے متعلق پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ قیمتی پتھروں کے حوالے سے نشاندہی شدہ علاقوں کی جیولوجیکل میپنگ مکمل ہو چکی ہے۔

بریفنگ کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں قیمتی پتھروں کی دریافت کے حوالے سے مزید کام کیا جائے گا۔

جیولوجیکل میپنگ معدنی وسائل کی تلاش اور ان کی ممکنہ موجودگی کا اندازہ لگانے کے لیے اہم تکنیکی عمل ہے۔ اس کے ذریعے متعلقہ علاقوں کی زمینی ساخت، معدنی امکانات اور مزید تحقیق کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

ان نئے بلاکس میں مزید تحقیق اور دریافت کے عمل سے قیمتی پتھروں کے ممکنہ ذخائر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور مستقبل میں کان کنی کے منصوبوں کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم ان علاقوں میں تجارتی بنیادوں پر کان کنی کے امکانات کا تعین مزید تکنیکی تحقیق، وسائل کے تخمینے اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگا۔

وزیراعظم کی ہدایات کے تناظر میں ضروری ہوگا کہ دریافت کے عمل کو جدید سائنسی طریقوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے اور جہاں معدنی وسائل کی موجودگی کی تصدیق ہو، وہاں ماحولیات، مقامی آبادی اور محفوظ کان کنی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے۔

رواں مالی سال میں شعبے کی ترقی کے لیے ایک ارب روپے مختص

اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی کے لیے رواں سال پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس رقم کو شعبے کی ترقی، متعلقہ منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم مالی معاونت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم مختص فنڈز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہوگا کہ منصوبوں کی ترجیحات واضح ہوں، فنڈز کا بروقت استعمال یقینی بنایا جائے اور ان کے نتائج کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔

قیمتی پتھروں کے شعبے میں جدید مشینری، تربیتی سہولتوں، تحقیق، معیار کی جانچ اور برآمدی نظام کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ منصوبوں کی نگرانی اور مالی وسائل کے مؤثر استعمال سے ان کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا کہ دستیاب مالی وسائل کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت کی پابندی کی جائے۔

سات شہروں میں دس بینکوں کی 80 شاخوں پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم

اجلاس میں برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق سات شہروں میں دس بینکوں کی 80 شاخوں پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔

ان ڈیسکوں کا مقصد برآمد کنندگان کو برآمدی عمل سے متعلق سہولتیں فراہم کرنا اور کاروباری معاملات میں درپیش مشکلات کم کرنے میں مدد دینا ہے۔

قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کے لیے مالیاتی خدمات، ادائیگیوں کے نظام، دستاویزی تقاضوں اور برآمدی طریقہ کار تک آسان رسائی اہمیت رکھتی ہے۔ مؤثر بینکاری سہولتوں کے ذریعے کاروباری اداروں کو بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ لین دین اور برآمدی سرگرمیوں میں معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔

اس شعبے کی برآمدی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ متعلقہ سہولتوں کے بارے میں کاروباری افراد کو آگاہ کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان بھی ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ماڈل مائنز اور پائلٹ پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے رکاوٹیں دور کرنے کا حکم

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کے پائلٹ پراجیکٹس اور ماڈل مائنز کی تعمیر و ترقی میں حائل رکاوٹیں فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنائی جائے اور ہر مرحلے کی تکمیل کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے۔

ماڈل مائنز کے ذریعے جدید اور نسبتاً محفوظ کان کنی کے طریقوں کو متعارف کرانے، معدنی وسائل کے بہتر استعمال اور کان کنوں کی تکنیکی مہارت میں اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ معیاری طریقہ کار کے استعمال سے پتھروں کے ضیاع کو کم کرنے اور ان کی تجارتی قدر میں اضافہ کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پائلٹ پراجیکٹس کو محض تجرباتی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے عملی نمونوں کے طور پر تیار کیا جائے جن سے مستقبل میں دوسرے علاقوں میں بھی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ منصوبوں کے اہداف، ذمہ دار اداروں، مالی ضروریات اور تکمیل کی تاریخوں کو واضح کیا جائے، تاکہ پیش رفت کا مؤثر انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔

آئندہ ہفتے جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت

وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام، پائلٹ پراجیکٹس، ماڈل مائنز اور شعبے کی مجموعی ترقی کے حوالے سے جامع لائحہ عمل مرتب کرکے آئندہ ہفتے پیش کیا جائے۔

اس لائحہ عمل میں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جانے والے اقدامات، منصوبوں کی ترجیحات، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور برآمدات میں اضافے کے لیے مجوزہ حکمت عملی کو واضح طور پر شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

حکومت کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ قدرتی وسائل کی دستیابی کو عملی معاشی فوائد میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے معدنی ذخائر کی تلاش، جدید کان کنی، مقامی سطح پر پراسیسنگ، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، قانونی تجارت اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو ایک مربوط نظام کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔

اگر منصوبوں پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد، معیار کی بہتری اور برآمدی سہولتوں کو مؤثر بنایا جائے تو قیمتی پتھروں کا شعبہ ملکی معیشت میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافے کے امکانات پیدا ہوں گے بلکہ معدنی وسائل سے مالامال دور دراز علاقوں میں روزگار، کاروبار اور مقامی صنعتوں کے فروغ کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔

اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزراء اور متعلقہ حکام کی شرکت

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی، معدنی وسائل کی تلاش، سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام، برآمدات کے فروغ اور جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ کاری کے ذریعے تمام زیر التوا امور حل کریں اور شعبے کی ترقی کے لیے طے شدہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button