پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان نے اپنا نیا برانڈ نیم "نیشنل گرڈ پاکستان” متعارف کرادیا

نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان نے اپنا نیا برانڈ نیم "نیشنل گرڈ پاکستان" متعارف کرادیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید قاسم بخاری-پاکستان
نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی)، پاکستان میں بجلی ترسیل کے نظام کی ذمہ دار قومی کمپنی نے اپنے برانڈ کی نئی شناخت (لوگو) ’’نیشنل گرڈ پاکستان‘‘ متعارف کرائی ہے۔ یہ تبدیلی ادارے کے ارتقائی سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نئی شناخت ادارے کے جدید وژن اور بجلی ترسیل کے قومی نظامِ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاس ہے۔
اگرچہ ادارے کا نام اور بصری شناخت تبدیل کی گئی ہے تاہم اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ نئی شناخت واپڈا کی تنظیمِ نو کے نتیجے میں 1998 میں قائم ہونے والی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی) این ٹی ڈی سی(کے 25 سال سے زائد کے ورثے اور تجربے کا تسلسل ہے۔ این ٹی ڈی سی کے قانونی جانشین کے طور پر نیشنل گرڈ پاکستان، ملک بھر میں بجلی ترسیل کی خدمات فراہم کرنے والا قومی ادارہ ہے۔ نیشنل گرڈ پاکستان ملک کے ایکسٹرا ہائی وولٹیج (ای ایچ وی) ترسیلی نظام کی منصوبہ بندی، تعمیر، آپریشنز اور دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے۔ یہ نظام ملک بھر میں بجلی کی قابلِ اعتماد ترسیل اور بجلی پیدا کرنے کے مراکز کو لوڈ سنٹرز سے منسلک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان کا توانائی کا شعبہ اس وقت اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے اور بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں نیشنل گرڈ بجلی کے قومی نظامِ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی ادارہ جاتی اور عملی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا رہا ہے۔ ادارے کی ترجیحات میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا، گرڈ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا، نظم و نسق اور جواب دہی کو مضبوط بنانا اور ایسی جدید ٹیکنالوجیز اپنانا شامل ہے جو ترسیلی نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی میں اضافہ کریں۔
اس حکمتِ عملی میں ڈیجیٹلائزیشن کو اہم مقام حاصل ہے۔ نیشنل گرڈ پاکستان جدید انٹرپرائز سسٹمز، موثر نگرانی، ڈرونز کے ذریعے ٹرانسمیشن لائنوں کی انسپکشن،جدیدSCADA سسٹم، سائبر سکیورٹی کے بہتر انتظامات اور مربوط ڈیجیٹل طریقۂ کار کو فروغ دے رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سسٹم کا بہتر انتظام، نظام کی کارکردگی پر مؤثر نظر رکھنے اور بروقت و بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
ادارہ قومی ترسیلی نظام کو وسعت دینے کے لیے بھی اہم منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ مالی سال 2027ء تا 2029ء کے بزنس پلان کے تحت بجلی کی ترسیلی گنجائش کو تقریباً 70,910 ایم وی اے سے بڑھا کر 96,905 ایم وی اے تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کے لیے 765کے وی، 500کے وی اور 220کے وی کے نئے انفراسٹرکچر، ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (ایچ وی ڈی سی) نظام کے انضمام، نئے گرڈ سٹیشنز اور ہزاروں کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائنوں کی تعمیر شامل ہے۔ اس سرمایہ کاری اور ترقیاتی اقدامات سے نیشنل گرڈ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس سے ملک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے، بجلی پیدا کرنے کے نئے ذرائع کو نظام میں شامل کرنے اور زیادہ مستحکم، قابلِ اعتماد بجلی کے نظام کی تشکیل میں مدد ملے گی۔
نیشنل گرڈ پاکستان کی نئی شناخت ان تمام ترجیحات کو ایک متحد ادارہ جاتی تشخص کے تحت یکجا کرتی ہے۔ یہ شناخت ادارے کے کئی دہائیوں پر محیط تجربے اور بدلتے ہوئے توانائی کے منظرنامے میں اس کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان میں بجلی کا نظام مسلسل ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے اور نیشنل گرڈ پاکستان اپنی بنیادی ذمہ داری پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، اس کا مقصد ایک قابلِ اعتماد قومی ترسیلی نظام کو چلانا اور اسے مزید ترقی دینا ہے تاکہ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں اور معاشی ترقی کو تقویت ملے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button