پاکستانتازہ ترین

دانش سکول غریب اور مستحق بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے مساوی مواقع کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد دانش سکول کا افتتاح، ملک بھر میں 27 دانش سکول زیر تعمیر، 360 ہونہار طلبہ کو سو فیصد میرٹ پر داخلہ دیا گیا، جدید تعلیم کے لیے آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریاں قائم کرنے کی ہدایت

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مالی وسائل کی کمی پاکستان کے لاکھوں ذہین اور باصلاحیت بچوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، دانش سکولوں کے قیام کا بنیادی مقصد غریب، مستحق اور محروم طبقات کے بچوں کو معیاری تعلیم کے وہی مواقع فراہم کرنا ہے جو صاحبِ ثروت خاندانوں کے بچوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دانش سکولوں میں بچوں کو ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ہم پلہ بلکہ ان سے بہتر معیار کی تعلیم فراہم کرنے کا وژن لے کر کام کیا گیا ہے تاکہ یہ بچے اپنی محنت، قابلیت اور صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکیں بلکہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں بھی بھرپور کردار ادا کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکولوں کا دائرہ اب پنجاب سے نکل کر پورے ملک تک وسیع کیا جا رہا ہے اور آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 27 دانش سکول زیر تعمیر ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ کسی بچے کا مستقبل محض غربت یا مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے محدود نہ ہو۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اتوار کو اسلام آباد میں دانش سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزرا، متعلقہ حکام، اساتذہ، طلبہ اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

مالی مشکلات ذہین بچوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ تقریب میں صرف وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے نہیں بلکہ عوام کے ایک خادم کی حیثیت سے شریک ہوئے ہیں۔ تقریب میں دکھائی جانے والی دستاویزی فلموں، طلبہ کے تاثرات اور دانش سکولوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی کامیابیوں نے انہیں بے حد متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں ذہین لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں جو محنت، مسلسل جدوجہد اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر زندگی میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی بچے مستقبل میں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بہت سے بچوں کو صرف مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مناسب مواقع نہیں مل پاتے۔

وزیراعظم نے غریب خاندانوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ والدین شدید گرمی اور سردی میں کھیتوں، کھلیانوں اور کارخانوں میں محنت مزدوری کرکے حلال روزی کماتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے لیے بچوں کی تعلیم، علاج اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں باصلاحیت بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی اہم ذمہ داری ہے، تاکہ وہ معاشی مشکلات کے باوجود آگے بڑھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بچے کی قابلیت کا تعین اس کے خاندان کی مالی حیثیت سے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک غریب گھرانے کا بچہ ذہین، محنتی اور باصلاحیت ہے تو اسے بھی وہی تعلیمی مواقع ملنے چاہئیں جو کسی امیر خاندان کے بچے کو حاصل ہوتے ہیں۔

2010 میں دانش سکولوں کے قیام کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

وزیراعظم نے دانش سکولوں کے قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب وہ پنجاب کے خادم تھے تو ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ امیر خاندانوں کے بچے ایچی سن کالج اور دیگر ممتاز تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، لیکن ملک کے دور دراز علاقوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے غریب ترین خاندانوں کے ذہین بچے ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اسی احساس اور وژن کے تحت 2010 میں ان کی ٹیم نے دانش سکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا، تاکہ معاشرے کے محروم طبقات کے بچوں کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

وزیراعظم کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صرف ایسے سکول قائم کرنا نہیں تھا جہاں غریب بچوں کو تعلیم دی جائے، بلکہ ان کے لیے ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا تھا جو ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے معیار کا مقابلہ کر سکے۔ دانش سکولوں کے قیام کے ذریعے یہ کوشش کی گئی کہ طلبہ کو تعلیم کے ساتھ اپنی شخصیت، اعتماد اور مستقبل کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے مواقع بھی میسر آئیں۔

انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم تک رسائی کو چند مخصوص طبقوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے معاشی محرومی بچوں کے خوابوں اور مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

خصوصی صلاحیتوں کی حامل طالبہ اور ڈاکٹر بننے والے نوجوان کی مثالیں

وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کے دوران دانش سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی کامیابیوں کی مثالیں بھی پیش کیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خصوصی صلاحیتوں کی حامل ایک طالبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے زندگی کی مشکلات کے باوجود امید نہیں چھوڑی اور ثابت قدمی سے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

انہوں نے کہا کہ طالبہ کے والد محنتی اور تعلیم دوست پاکستانی ہیں، لیکن ان کے پاس اپنی بیٹی کو تعلیم دلانے کے لیے مطلوبہ مالی وسائل موجود نہیں تھے۔ ایسے حالات میں تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اس بات کی مثال ہے کہ درست سرپرستی اور مناسب تعلیمی سہولیات کسی بچے کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔

وزیراعظم نے بہاولپور سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کا بھی ذکر کیا جس نے بچپن میں اپنے والد کو کھو دیا تھا۔ والد کی وفات کے بعد اسے محسوس ہوا کہ اس کے تمام خواب ختم ہو گئے ہیں، تاہم اسے آگے بڑھنے کے مواقع ملے اور وہ ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کے قابل ہوئی۔

انہوں نے ایک ایسے نوجوان کی کامیابی کا حوالہ بھی دیا جو دانش سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر بنا۔ اس نوجوان کی والدہ بھی تقریب میں موجود تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اگر غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم، مناسب ماحول اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ مشکلات پر قابو پا کر زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

قائداعظم کے پاکستان میں ہر بچے کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں

وزیراعظم نے قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، مشکلات برداشت کیں اور قربانیاں دیں تاکہ برصغیر کے مسلمان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک آزاد ملک میں زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایسا معاشرہ تشکیل دینا تھا جہاں ناانصافی کا خاتمہ ہو اور ہر شخص اپنی محنت، قابلیت، امانت اور دیانت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکے۔

وزیراعظم کے مطابق قائداعظم کے تصورِ پاکستان میں ہر بچے کو مساوی مواقع حاصل ہونے چاہئیں، خواہ اس کا تعلق امیر خاندان سے ہو یا غریب گھرانے سے، وہ یتیم ہو یا کسی مزدور کا بیٹا یا بیٹی۔ جب تک تمام بچوں کو تعلیم اور علاج کی سہولیات تک مساوی رسائی حاصل نہیں ہوتی، اس وقت تک ایک منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کو بااختیار بنانے، معاشی خودمختاری پیدا کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا اہم وسیلہ ہے۔ دانش سکولوں کا تصور بھی اسی اصول پر قائم ہے کہ بچوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔

مختلف صوبوں کے طلبہ میں قومی یکجہتی کا فروغ

وزیراعظم نے دانش سکولوں میں مختلف صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے قومی یکجہتی اور اتحاد کی عملی تصویر ہیں۔

انہوں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کا حوالہ دیا جس نے بتایا کہ جب وہ ڈیرہ غازی خان کے دانش سکول پہنچا تو اسے خدشہ تھا کہ پنجاب میں اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔ تاہم وہاں پہنچنے کے بعد اسے اور دوسرے صوبوں سے آنے والے بچوں کو شفقت، محبت اور اپنائیت ملی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس طالب علم کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دانش سکولوں میں بچوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جہاں ان کے صوبے، علاقے یا معاشی پس منظر کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ یہی اصل پاکستان ہے، جہاں تمام شہری برابر ہیں اور سب ایک قومی شناخت کے حامل ہیں، خواہ ان کا تعلق بلوچستان، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر یا گلگت بلتستان سے ہو۔

وزیراعظم کے مطابق دانش سکولوں میں مختلف علاقوں کے طلبہ کی موجودگی باہمی احترام، بھائی چارے اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مدد دیتی ہے۔ یہ بچے مستقبل میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

دانش سکولوں کے فارغ التحصیل طلبہ مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں

وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکولوں سے ہزاروں طلبہ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں اور وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان میں ڈاکٹرز، انجینئرز، پولیس افسران، بیوروکریٹس، سیلز منیجرز اور اساتذہ سمیت مختلف پیشوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

انہوں نے دانش سکولوں کے ساتھ پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا بھی ذکر کیا، جو اب پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے نام سے کام کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات اس وژن کا حصہ ہیں جس کے تحت کراچی سے پشاور تک ہر باصلاحیت بچے کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

ان کے مطابق تعلیمی وظائف اور مستحق طلبہ کے لیے مالی معاونت کے پروگرام ایسے بچوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں جو تعلیمی قابلیت رکھنے کے باوجود اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ ان اقدامات سے تعلیم کے میدان میں معاشی ناہمواری کم کرنے اور باصلاحیت نوجوانوں کو آگے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ملک بھر میں 27 دانش سکول زیر تعمیر

وزیراعظم نے بتایا کہ دانش سکولوں کا دائرہ اب پنجاب سے نکل کر ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر 27 دانش سکول زیر تعمیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کیے گئے ہیں اور متعلقہ ٹیموں نے ان کی تکمیل کے لیے محنت کی ہے۔ ان سکولوں کے قیام کا مقصد ایسے علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے جہاں معاشی مشکلات اور جغرافیائی فاصلے کے باعث تعلیمی مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے شمالی وزیرستان، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں، بشمول سکردو، سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بچے پاکستان کے خوبصورت گلدستے کی مانند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دانش سکولوں میں مختلف علاقوں کے طلبہ کو ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملنا قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ ان اداروں کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جا رہا ہے کہ ملک کے ہر حصے میں موجود باصلاحیت بچوں کو ترقی کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔

دانش سکول اسلام آباد میں 360 طلبہ کو میرٹ پر داخلہ

افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیراعظم کو دانش سکول اسلام آباد کے تعلیمی ڈھانچے، سہولیات اور داخلوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ دانش سکول اسلام آباد 30 ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ طلبہ اور طالبات کے لیے الگ الگ اکیڈمک بلاکس تعمیر کیے گئے ہیں، جبکہ ہر بلاک میں 24 کلاس رومز کے ساتھ آئی ٹی، سائنس اور روبوٹکس کی لیبارٹریاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

سکول میں ای لائبریری اور آرٹ روم کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، تاکہ طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، تخلیقی سرگرمیوں اور عملی سیکھنے کے مواقع میسر آ سکیں۔

بریفنگ کے مطابق سکول میں چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت سے کلاسز شروع کی گئی ہیں اور ہر کلاس میں 120 طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 360 ہونہار بچوں کو سو فیصد میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا گیا ہے۔

اس ادارے میں تدریسی ضروریات پوری کرنے کے لیے 38 اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں، جبکہ طلبہ کی تعداد اور تعلیمی ضروریات کے مطابق تدریسی عملے میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

جدید علوم، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت پر توجہ دینے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے دانش سکولوں میں جدید علوم اور ٹیکنالوجی تک طلبہ کی رسائی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں کے قیام اور ان کے مؤثر استعمال پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جدید دور کی ضروریات کے مطابق مہارتیں حاصل کر سکیں۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو صرف روایتی نصابی تعلیم تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں سے بھی روشناس کرایا جائے۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان کے نوجوانوں میں غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں اور انہیں مناسب تعلیمی ماحول، جدید سہولیات اور تربیت فراہم کرکے عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ جدید علوم تک رسائی سے طلبہ کو مستقبل میں اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دانش سکولوں میں تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے، تاکہ ان اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ پاکستان اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔

وزیراعظم کا کلاس رومز، سائنس اور روبوٹکس لیبارٹریوں کا دورہ

تقریب سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دانش سکول اسلام آباد کا دورہ کیا اور وہاں قائم کلاس رومز، سائنس لیبارٹریوں، آئی ٹی اور روبوٹکس لیبز سمیت آرٹ روم کا معائنہ کیا۔

انہوں نے طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات کا جائزہ لیا اور ان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے سکول میں زیر تعلیم بچوں سے ملاقات بھی کی اور ان سے شفقت بھرے انداز میں گفتگو کی۔

اس موقع پر انہوں نے مشکل حالات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے جذبے اور عزم کو سراہا۔ بچوں نے بھی وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کو سکول کے تعلیمی نظام، داخلوں، تدریسی عملے اور جدید سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ ادارے میں طلبہ کی تعلیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا

وزیراعظم نے دانش سکولوں کے منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے وفاقی وزرا ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور سیکرٹری تعلیم ندیم محمود سمیت متعلقہ حکام کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

انہوں نے ان وزرا، سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنرز، چیف سیکرٹریز اور وزرائے اعلیٰ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے دانش سکولوں کے لیے زمینوں کے انتخاب اور دیگر انتظامی امور میں تعاون کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تعلیمی منصوبوں کی کامیابی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون، بروقت انتظامی فیصلے اور وسائل کی مؤثر فراہمی ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ زیر تعمیر دانش سکولوں کی تکمیل اور ان میں معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دیں۔

معیاری تعلیم کے ذریعے روشن مستقبل کی بنیاد

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا قومی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ملک کے ہر حصے میں موجود باصلاحیت نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے۔

دانش سکولوں کا ملک بھر میں پھیلتا ہوا نیٹ ورک اس تصور کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے کہ تعلیم تک رسائی کسی بچے کے خاندان کی مالی حیثیت سے مشروط نہیں ہونی چاہیے۔ ان اداروں میں جدید سہولیات، میرٹ پر داخلوں اور مختلف علاقوں کے طلبہ کی شمولیت کے ذریعے تعلیمی مواقع میں مساوات اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ اگر غریب خاندانوں کے ذہین بچوں کو معیاری تعلیم اور جدید مہارتیں فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ قومی معیشت، سائنسی ترقی، انتظامی اداروں اور معاشرتی بہبود میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دانش سکول اسلام آباد کا افتتاح اور ملک کے مختلف علاقوں میں 27 مزید دانش سکولوں کی تعمیر کا منصوبہ اسی تعلیمی وژن کا حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان کے ہر باصلاحیت بچے کو آگے بڑھنے، اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور قومی ترقی میں حصہ لینے کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button