
دشمنوں کو کسی بھی لمحے نشانہ بنا سکتے ہیں: نتن یاہو کی دھمکی
نتن یاہو نے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ انہوں نے ایک فوجی اڈے کے کمانڈر سے بات کی، تاہم اڈے کا نام ظاہر نہیں کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے عہد کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دشمنوں کو کسی بھی لمحے نشانہ بنانے میں ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب سخت مقابلے کے امکان والی انتخابات میں صرف آٹھ روز باقی ہیں اور وہ ایران کو خبردار بھی کر چکے ہیں۔
نتن یاہو نے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ انہوں نے ایک فوجی اڈے کے کمانڈر سے بات کی، تاہم اڈے کا نام ظاہر نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا:میں اپنے دشمنوں سے کہتا ہوں کہ ہمیں آزمانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ آپ کو اب تک لگنے والی ضربوں سے کہیں زیادہ سخت ضربیں برداشت کرنا پڑیں گی۔
نیا سکیورٹی نظریہ
نتن یاہو نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں ایک نئے سکیورٹی نظریے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ سے یمن اور لبنان سے ایران تک مسلسل جنگ کے نتیجے میں اسرائیل ایک بڑے جوہری خطرے کو ٹالنے اور ایرانی محور کی جانب سے قائم کیے گئے سخت گھیراؤ کو توڑنے میں کامیاب ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث اسرائیل کی روایتی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے کئی بنیادی اصولوں میں تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔ ان میں دفاع اور خطرات کو محدود رکھنے کے بجائے حملے کو ترجیح دینا بھی شامل ہے۔
نتن یاہو نے ایک بار پھر کہا کہ ان کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا اور ایرانی نظام کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق یہ مشن ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن اسے جلد یا بدیر انجام دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بالواسطہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے بھی کچھ اہداف اور کام ابھی نامکمل ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں، جب اسرائیل میں رواں ماہ 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات متوقع ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا کرنے والے نتن یاہو مزید سخت گیر دائیں بازو کے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔



