کاروبار

وزیراعظم شہباز شریف کی لائیوسٹاک شعبے میں اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت، بورڈ کی تنظیم نو اور جدید ویکسین پلانٹ کے قیام کا فیصلہ

نجی شعبے کے ماہرین کو لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ میں شامل کیا جائے، درآمدی مویشیوں سے گوشت اور دودھ کی مصنوعات تیار کرکے برآمدات بڑھائی جائیں، وزیراعظم — نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں ویکسین پلانٹ کی حکمت عملی ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لائیوسٹاک کے شعبے میں جاری اصلاحات کو مزید مؤثر بنانے، مویشیوں کی افزائش اور دودھ و گوشت کی پیداوار میں اضافے اور اس شعبے سے وابستہ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی ہدایت کردی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ بورڈ کو ایک فعال، مؤثر اور نتیجہ خیز ادارہ بنانے کے لیے نجی شعبے کے ماہرین کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ لائیوسٹاک کے شعبے کی ترقی کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت لائیوسٹاک کے شعبے میں جاری اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ حکام نے وزیراعظم کو شعبے کی بہتری، برآمدات میں اضافے اور مختلف اصلاحاتی اقدامات پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو، درآمد شدہ مویشیوں کے بہتر استعمال، گوشت اور دودھ کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور مویشیوں کے لیے جدید ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کا جامع منصوبہ جلد از جلد پیش کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ بورڈ میں نجی شعبے کے تجربہ کار افراد اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو شامل کرکے اسے ایسا ادارہ بنایا جائے جو لائیوسٹاک کی پیداوار، جدید فارمنگ، ڈیری ڈویلپمنٹ اور گوشت کی برآمدات کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کرسکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ لائیوسٹاک کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی ترقی کے لیے نجی شعبے کو آگے آنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر اشتراک کے ذریعے مویشیوں کی افزائش، دودھ اور گوشت کی پیداوار اور ان سے تیار ہونے والی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

درآمدی مویشیوں سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات پر زور

وزیراعظم نے لائیوسٹاک کے لیے قائم کیے جانے والے خصوصی بونڈڈ ویئر ہاؤسز میں لائے جانے والے درآمدی مویشیوں کو ویلیو ایڈیشن کے عمل میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ درآمد شدہ مویشیوں کو محض منڈی میں فروخت کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے ان سے حاصل ہونے والے معاشی امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور گوشت و دودھ کی ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جنہیں برآمدی منڈیوں میں پیش کیا جاسکے۔

وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق گوشت اور ڈیری مصنوعات کی تیاری میں ویلیو ایڈیشن کو اہمیت دی جائے تاکہ خام پیداوار کے بجائے زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے امکانات پیدا ہوں۔ اس مقصد کے لیے خصوصی بونڈڈ ویئر ہاؤسز کے قیام سے متعلق اقدامات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

ویلیو ایڈیشن سے مراد خام پیداوار کو پراسیسنگ، پیکجنگ اور معیار میں بہتری کے ذریعے ایسی مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے جن کی تجارتی قدر زیادہ ہو۔ لائیوسٹاک کے شعبے میں اس حکمت عملی سے گوشت اور دودھ کی پراسیسنگ، محفوظ ترسیل، مصنوعات کے معیار اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

مویشیوں کے لیے جدید ویکسین پلانٹ قائم کرنے کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور لائیوسٹاک کے شعبے میں صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جدید اور مؤثر ویکسین کی مقامی سطح پر پیداوار پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے وسائل سے مویشیوں کے لیے جدید ویکسین تیار کرنے کا قومی سطح کا پلانٹ قائم کرے گی۔

وزیراعظم نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں مویشیوں کی ویکسین تیار کرنے کے پلانٹ کے قیام سے متعلق حکمت عملی ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس اقدام کا مقصد مویشیوں کے لیے معیاری ویکسین کی دستیابی بہتر بنانے اور مقامی سطح پر پیداوار کی صلاحیت پیدا کرنے کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں مویشیوں کے لیے دستیاب ویکسین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے منظور شدہ نہیں ہیں، جس کے باعث مویشیوں کے لیے پیوریفائیڈ ویکسین کی مقامی پیداوار کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

اس تناظر میں مجوزہ ویکسین پلانٹ کو اہمیت حاصل ہے، کیونکہ معیاری ویکسین کی تیاری اور دستیابی مویشیوں کی بیماریوں کی روک تھام، جانوروں کی صحت اور پیداوار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم، منصوبے کی عملی افادیت کا انحصار متعلقہ ضابطہ جاتی تقاضوں، معیار کی جانچ، تحقیقی صلاحیت اور مؤثر نگرانی کے نظام پر ہوگا۔

مذبح خانوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا آغاز

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو لائیوسٹاک کے شعبے میں اصلاحات اور اس سے منسلک برآمدات بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مذبح خانوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

تھرڈ پارٹی آڈٹ کے ذریعے مذبح خانوں کے معیار اور متعلقہ انتظامی و تکنیکی امور کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔ گوشت کی برآمدات کے لیے حفظانِ صحت کے اصولوں، پراسیسنگ کے معیار اور متعلقہ ضوابط کی پابندی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے آڈٹ کے عمل کو مؤثر بنانا شعبے میں معیار کی بہتری کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اجلاس میں درآمد شدہ مویشیوں کے لیے خصوصی بونڈڈ ویئر ہاؤسز کے قیام سے متعلق پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

لائیوسٹاک کے شعبے میں اصلاحات اور برآمدی امکانات

پاکستان میں لائیوسٹاک کا شعبہ زراعت اور دیہی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ مویشیوں کی بہتر افزائش، جانوروں کی صحت کے تحفظ، دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے اور جدید پراسیسنگ کی سہولتوں کی ترقی سے اس شعبے کی معاشی صلاحیت میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے بورڈ کی تنظیم نو، نجی شعبے کے ماہرین کی شمولیت، جدید ویکسین کی مقامی پیداوار اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات پر توجہ اس شعبے میں ادارہ جاتی اور عملی اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

تاہم، ان اقدامات کے نتائج کا انحصار مجوزہ منصوبوں پر بروقت عمل درآمد، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے، مصنوعات کے معیار، بیماریوں کی روک تھام اور بین الاقوامی منڈیوں کے تقاضوں پر پورا اترنے کی صلاحیت پر ہوگا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ لائیوسٹاک کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے اور تنظیم نو، ویکسین پلانٹ کے قیام اور برآمدات کے فروغ سے متعلق منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button