
چین کی سرکاری کمپنی نے سری لنکا کی مرکزی بندرگاہ پر ایک بڑے لاجسٹکس مرکز کی تعمیر کے لیے 39 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مشترکہ منصوبے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے میں شامل سری لنکن شراکت دار نے پیر کو اس کی تصدیق کی، تاہم کہا کہ منصوبے پر کام جاری رہے گا۔
سری لنکا پورٹس اتھارٹی (ایس ایل پی اے) کے مطابق، چائنا مرچنٹس پورٹ ہولڈنگز نے 2023 میں اعلان کردہ مشترکہ منصوبے پر مزید پیش رفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادارے نے ایک بیان میں کہا، ’’موجودہ بیرونی حالات، تجارتی عوامل اور متعلقہ حصص داروں کے مفادات کا جائزہ لینے کے بعد مجوزہ مشترکہ منصوبے کو آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔‘‘
منصوبے کے تحت چینی کمپنی کے پاس مشترکہ منصوبے کے 70 فیصد حصص ہونا تھے، جبکہ سری لنکا پورٹس اتھارٹی اور سری لنکا کی ایک نجی تعمیراتی کمپنی کو 15، 15 فیصد حصص ملنے تھے۔
سری لنکا پورٹس اتھارٹی نے بتایا کہ اب وہ کولمبو بندرگاہ پر ڈیڑھ لاکھ مربع میٹر رقبے پر مشتمل لاجسٹکس مرکز کی تعمیر کے لیے نئے سرمایہ کار کی تلاش کر رہی ہے۔ چین پہلے ہی اس بندرگاہ پر دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کر چکا ہے۔
اپریل 2023 میں طے پانے والی چائنا مرچنٹس کی سرمایہ کاری سری لنکا کی معیشت کے اپریل 2022 میں بحران کا شکار ہونے کے بعد اعلان کردہ پہلی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری تھی۔
کولمبو بندرگاہ پر چائنا مرچنٹس پہلے ہی 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے گئے گہرے پانی کے کنٹینر ٹرمینل کو چلا رہی ہے۔ کمپنی سری لنکا کے جنوبی ساحل پر واقع ہمبنٹوٹا کی گہرے پانی کی بندرگاہ کے انتظامات بھی سنبھالے ہوئے ہے۔
سری لنکا 2017 میں ہمبنٹوٹا بندرگاہ کی تعمیر کے لیے حاصل کردہ چین کے ایک بڑے قرض کی ادائیگی میں ناکام رہا، جس کے بعد اس نے 99 سالہ لیز کے تحت یہ بندرگاہ 1.12 ارب ڈالر کے عوض چائنا مرچنٹس کے حوالے کر دی۔
کولمبو بندرگاہ کے قریب واقع ’’پورٹ سٹی کولمبو‘‘ کے نام سے 1.4 ارب ڈالر کا رئیل اسٹیٹ منصوبہ بھی چینی سرمایہ کاری سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
بھارت اور امریکہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سری لنکا کی بندرگاہوں تک رسائی کے ذریعے چین بحرِہند میں اپنی بحری برتری بڑھا سکتا ہے۔ تاہم، سری لنکا کا مؤقف ہے کہ اس کی بندرگاہوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔



