یورپتازہ ترین

جرمنی کی صنعت میں 5 لاکھ ملازمتیں ختم، گاڑیوں اور مشینری کے شعبے شدید متاثر

2019 سے 2025 کے اختتام تک صنعتی روزگار میں 7.1 فیصد کمی، صحت اور سماجی خدمات میں 22 لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا؛ آئیفو انسٹی ٹیوٹ نے معیشت کے ڈھانچے میں تیز رفتار تبدیلی کی نشاندہی کر دی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
 جواد احمد-ادارت

برلن: یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کے صنعتی شعبے کو روزگار کے حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا ہے، جہاں 2019 کے بعد سے تقریباً پانچ لاکھ ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔ اقتصادی تحقیق کے ادارے آئیفو انسٹی ٹیوٹ (ifo Institute) کے تازہ جائزے کے مطابق، صنعتی کمپنیوں میں ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جرمن معیشت کے روایتی پیداواری شعبے ساختی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب خدمات کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

جائزے کے مطابق، 2019 کے آغاز سے 2025 کے اختتام تک جرمنی کی صنعتی کمپنیوں میں ملازمتوں کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 96 ہزار کم ہوئی، جو مجموعی طور پر 7.1 فیصد کمی بنتی ہے۔ صنعتی روزگار میں یہ گراوٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جرمنی کی معیشت میں گاڑیوں کی تیاری، دھات سازی اور مشینری جیسے شعبے طویل عرصے سے پیداوار، برآمدات، تکنیکی مہارت اور صنعتی ترقی کے بنیادی ستون سمجھے جاتے رہے ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی روزگار میں کمی تمام شعبوں میں یکساں نہیں رہی، بلکہ گاڑیوں کی صنعت اور اس سے وابستہ سپلائرز سمیت دھات سازی اور مشینری کے شعبوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ اس کے برعکس صحت، سماجی خدمات اور سرکاری انتظامیہ میں ملازمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے جرمنی کی معیشت میں روزگار کی نوعیت اور تقسیم تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

گاڑیوں کی صنعت میں ایک لاکھ 23 ہزار سے زائد ملازمتیں ختم

جرمنی کی گاڑیوں کی صنعت صنعتی روزگار میں کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے۔ آئیفو انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 2019 کے بعد سے کار ساز کمپنیوں اور ان کے سپلائرز میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 23 ہزار 500 ملازمتیں ختم ہوئیں، جو اس شعبے میں تقریباً 13 فیصد کمی کے برابر ہے۔

گاڑیوں کی صنعت جرمنی کی صنعتی شناخت اور برآمدی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس شعبے میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کے علاوہ پرزہ جات بنانے والے ادارے، دھات اور پلاسٹک کی مصنوعات تیار کرنے والے کاروبار، الیکٹرانکس فراہم کرنے والی کمپنیاں اور دیگر صنعتی ادارے بھی شامل ہیں۔ چنانچہ گاڑیوں کی صنعت میں روزگار کی کمی کے اثرات صرف بڑی کار ساز کمپنیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان سے منسلک سپلائی چین اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

صنعتی شعبے میں تبدیلی کے پس منظر میں گاڑیوں کی تیاری کے نئے تقاضے، ٹیکنالوجی میں تبدیلی، برقی گاڑیوں کی جانب منتقلی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت جیسے عوامل کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، فراہم کردہ آئیفو جائزے کے اعداد و شمار انفرادی عوامل کے الگ الگ اثرات کی مکمل تفصیل نہیں دیتے، اس لیے تمام ملازمتوں کے خاتمے کو کسی ایک وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔

گاڑیوں کی صنعت میں ملازمتوں کی کمی اس لیے بھی اہم ہے کہ جرمنی میں یہ شعبہ انجینئرنگ، تحقیق، ترقی اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس شعبے میں روزگار کم ہونے سے صنعتی مہارتوں کے تحفظ، کارکنوں کی دوبارہ تربیت اور مستقبل کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کرتے ہیں۔

دھات سازی اور مشینری کے شعبے بھی دباؤ کا شکار

آئیفو انسٹی ٹیوٹ کے جائزے کے مطابق، جرمنی کی دھات سازی کی صنعت میں اسی عرصے کے دوران ایک لاکھ 15 ہزار 600 ملازمتیں کم ہوئیں، جبکہ مشینری کے شعبے میں 64 ہزار 500 ملازمتیں ختم کر دی گئیں۔

دھات سازی جرمنی کے صنعتی نظام میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس شعبے کی مصنوعات گاڑیوں، تعمیرات، مشینری، توانائی اور دیگر صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس شعبے میں روزگار کی کمی وسیع صنعتی سپلائی چین پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اسی طرح مشینری کا شعبہ جرمنی کی برآمدات اور صنعتی مہارت کا اہم حصہ ہے۔ جرمن مشینری دنیا کی مختلف منڈیوں میں صنعتی پیداوار، خودکار نظاموں اور جدید انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس شعبے میں ملازمتوں کی کمی پیداواری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور مستقبل میں صنعتی توسیع کے امکانات کے حوالے سے توجہ طلب صورت حال کی نشاندہی کرتی ہے۔

تاہم، ملازمتوں میں کمی کے اعداد و شمار سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام متعلقہ کمپنیوں کی پیداوار یا کاروبار اسی تناسب سے کم ہوا ہے۔ روزگار میں تبدیلی کے پیچھے پیداواری طریقوں میں بہتری، خودکاری، کمپنیوں کی تنظیمِ نو، طلب میں اتار چڑھاؤ اور دیگر عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

خدمات کے شعبے میں 22 لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں

صنعتی روزگار میں کمی کے برعکس جرمنی کے خدمات کے شعبے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آئیفو انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 2019 کے بعد سے خدمات کے مختلف شعبوں میں 22 لاکھ سے زیادہ نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔

اس اضافے میں صحت، سماجی خدمات اور سرکاری انتظامیہ نے اہم کردار ادا کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، صحت کے شعبے میں تین لاکھ 91 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جبکہ نگہداشت کے مراکز سمیت سماجی خدمات کے شعبے میں مزید تین لاکھ 57 ہزار ملازمتوں کا اضافہ ہوا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جرمنی میں روزگار کے نئے مواقع بڑی حد تک ان شعبوں میں پیدا ہو رہے ہیں جہاں عوامی خدمات، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی معاونت کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ان شعبوں میں ملازمین کی تعداد میں اضافہ ملک کی آبادیاتی تبدیلیوں اور سماجی ضروریات سے بھی منسلک ہے۔

آئیفو انسٹی ٹیوٹ نے خدمات کے شعبے میں روزگار کے اضافے کو جرمنی کی عمر رسیدہ ہوتی آبادی سے بھی جوڑا ہے۔ عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے کے ساتھ طبی سہولیات، طویل مدتی نگہداشت، بحالی اور سماجی معاونت کی خدمات کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسپتالوں، نگہداشت کے مراکز اور سماجی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو مزید افرادی قوت درکار ہوتی ہے۔

اگرچہ خدمات کے شعبے میں روزگار کا بڑھنا مجموعی ملازمتوں کے لیے مثبت پیش رفت ہے، لیکن صنعتی اور خدماتی ملازمتوں کے درمیان فرق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مختلف شعبوں میں اجرتوں، پیداواری صلاحیت، مطلوبہ مہارتوں اور معاشی قدر میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے صرف نئی ملازمتوں کی تعداد کی بنیاد پر معیشت کی مجموعی کارکردگی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

آئیفو ماہر: جرمن معیشت کے ڈھانچے میں تیز رفتار تبدیلی

آئیفو انسٹی ٹیوٹ کی ڈریسڈن شاخ کے منیجنگ ڈائریکٹر یوآخم رگنٹس نے صنعتی روزگار میں کمی اور خدمات کے شعبے میں اضافے کو جرمنی کی معیشت میں تیزی سے آنے والی ساختی تبدیلی قرار دیا۔

ان کے مطابق، یہ صورت حال ایک ایسے تضاد کو نمایاں کرتی ہے جس میں وہ صنعتی شعبے سکڑ رہے ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک جرمنی کی خوش حالی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ نئی ملازمتیں زیادہ تر ان شعبوں میں پیدا ہو رہی ہیں جہاں ملک کی پیداواری صلاحیت اور جدت طرازی کی روایتی قوتیں اتنی نمایاں نہیں۔

رگنٹس نے خبردار کیا کہ اگر روزگار کی یہ تبدیلی جرمنی کی صنعتی پیداواری صلاحیت اور جدت طرازی کے نظام کو متاثر کرتی رہی تو مستقبل میں معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔

اس تشویش کی بنیاد یہ ہے کہ صنعتی شعبے صرف ملازمتیں ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ تحقیق، تکنیکی ترقی، ہنرمند افرادی قوت، برآمدات اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صنعتی کمپنیوں میں روزگار کم ہونے کے طویل مدتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ جرمنی اپنی صنعتی مہارت، سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی میں مسابقت کو کس طرح برقرار رکھتا ہے۔

صنعتی روزگار میں کمی کے ممکنہ اسباب

آئیفو کے فراہم کردہ اعداد و شمار ملازمتوں میں تبدیلی کا حجم ظاہر کرتے ہیں، تاہم صنعتی روزگار میں کمی کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے مزید شعبہ وار تحقیق درکار ہوگی۔ عمومی طور پر جرمن صنعت کو عالمی مسابقت، پیداواری اخراجات، توانائی کی قیمتوں، سرمایہ کاری کے فیصلوں، ٹیکنالوجی میں تبدیلی اور عالمی طلب میں اتار چڑھاؤ جیسے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

گاڑیوں کی صنعت میں برقی گاڑیوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی طرف منتقلی نے پیداوار کے طریقوں اور مطلوبہ مہارتوں کو تبدیل کیا ہے۔ اسی طرح صنعتی کمپنیوں میں خودکاری اور جدید مشینوں کے استعمال سے بعض کاموں کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ ادارے پیداوار کو نئے مقامات پر منتقل کرنے یا اپنے کاروباری ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دینے کے فیصلے بھی کرتے ہیں۔

ان عوامل کے اثرات کمپنیوں اور صنعتوں کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ملازمتوں میں کمی کے اعداد و شمار کو صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری، برآمدات اور پیداواری صلاحیت کے دیگر اشاریوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔

جرمنی کی معیشت اور مستقبل کے معاشی امکانات

جرمنی کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ خدمات کے شعبے میں پیدا ہونے والی نئی ملازمتوں کے ساتھ ساتھ صنعتی بنیاد کو بھی مستحکم رکھا جائے۔ صنعتی شعبے میں روزگار کا تحفظ، کارکنوں کی دوبارہ تربیت، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا اس بحث کے اہم پہلو ہیں۔

صنعتی ملازمتوں میں کمی سے متاثر ہونے والے کارکنوں کے لیے نئے شعبوں میں روزگار حاصل کرنے کی خاطر اضافی تربیت اور مہارتوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب، صحت اور سماجی خدمات میں ملازمتوں کا اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جرمنی کی معیشت میں افرادی قوت کی ضروریات تبدیل ہو رہی ہیں۔

پالیسی سازوں کے لیے یہ بھی اہم ہوگا کہ وہ صنعتی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری اور تحقیق و ترقی کے مواقع کو فروغ دیں، تاکہ جرمنی کی عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خدمات کے شعبے میں پیدا ہونے والی ملازمتوں کے معیار، اجرتوں اور پیداواری صلاحیت پر بھی توجہ دینا ضروری ہوگا۔

صنعتی طاقت سے خدماتی معیشت کی جانب تبدیلی

آئیفو انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار جرمنی کی معیشت میں روزگار کی بدلتی ہوئی تقسیم کو واضح کرتے ہیں۔ 2019 کے آغاز سے 2025 کے اختتام تک صنعتی کمپنیوں میں تقریباً 4 لاکھ 96 ہزار ملازمتوں کی کمی اور خدمات کے شعبے میں 22 لاکھ سے زیادہ نئی ملازمتوں کا اضافہ دو مختلف رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم، ان دونوں اعداد و شمار کا براہِ راست موازنہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ خدمات کے شعبے میں اضافے کی تمام ملازمتیں صنعتی روزگار کا متبادل نہیں ہوتیں۔ مختلف شعبوں کی معاشی اہمیت، پیداواری صلاحیت اور مطلوبہ مہارتیں مختلف ہوتی ہیں۔

جرمنی کی مستقبل کی معاشی کارکردگی اس بات سے بھی وابستہ ہوگی کہ ملک اپنی صنعتی بنیاد کو کس حد تک جدید بنا پاتا ہے اور خدمات کے شعبے میں بڑھتی ہوئی ضروریات کو کیسے پورا کرتا ہے۔ صنعتی روزگار میں کمی کا رجحان اگر طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو اس کے اثرات صرف ملازمین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرمایہ کاری، برآمدات اور معاشی ترقی کے امکانات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آئیفو انسٹی ٹیوٹ کے جائزے سے سامنے آنے والی صورت حال جرمنی کے لیے ایک اہم اقتصادی سوال اٹھاتی ہے: کیا ملک اپنی روایتی صنعتی طاقت کو نئی ٹیکنالوجی اور بدلتی عالمی منڈیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے برقرار رکھ سکے گا، جبکہ خدمات کا شعبہ روزگار کی فراہمی میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہا ہے؟ آنے والے برسوں میں صنعتی سرمایہ کاری، کارکنوں کی مہارتوں اور پیداواری صلاحیت سے متعلق پیش رفت اس سوال کے جواب میں اہم ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button