
نئے حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ایرانی سپریم لیڈر
انہوں نے ایران کے ممکنہ اہداف کی فہرست کو ازسرنو مرتب کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں ''امریکی ۔ صہیونی دشمن کے تمام مادی اور غیر مادی اثاثے‘‘ شامل کیے جائیں۔
شکور رحیم
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کو جنگ دوبارہ شروع نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے مخالفین نے ایک بار پھر حملے کیے تو تہران بھرپور جواب دے گا۔
خامنہ ای کی ویب سائٹ پر جاری ایک تحریری بیان کے مطابق، ”اگر دشمن ایک بار پھر فوجی یا دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں تو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور ایرانی قوم ہی یہ طے کریں گے کہ ان حملوں کا خاتمہ کب اور کن شرائط پر ہو گا۔‘‘
یہ بیان مجتبیٰ خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان ایک ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی، بری فوج کے سربراہ امیر حاتمی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی بھی شریک تھے۔ یہ ان کے درمیان پہلی رپورٹ شدہ ملاقات تھی۔
مجتبیٰ خامنہ ای فروری میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بنے تھے اور اس کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔
ایران جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے، ایرانی سپریم لیڈر
بیان کے مطابق خامنہ ای نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی، ”ہر سطح اور ہر نوعیت کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے بالاتر جواب دیا جانا چاہیے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے ایران کے ممکنہ اہداف کی فہرست کو ازسرنو مرتب کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں ”امریکی ۔ صہیونی دشمن کے تمام مادی اور غیر مادی اثاثے‘‘ شامل کیے جائیں۔

یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے نئی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
جمعے کے روز ایک قطری وفد ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے تہران پہنچا، جبکہ اطلاعات کے مطابق ایران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک خط بھی موصول ہوا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے تاحال اس خط کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔
خامنہ ای کے اس بیان سے قبل ایرانی فوج نے ہفتے کے روز ہی ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔
محمد اکرمی نیا نے ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ”اگر امریکی صدر صہیونیوں کو خوش کرنے یا ان کے دباؤ میں آ کر ایک بار پھر خطے میں مہم جوئی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو جنگ کے شعلے یقیناً ایک کہیں زیادہ وسیع جغرافیائی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔‘‘



