
اسرائیلی الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے کے قومی انتخابات میں مبینہ فراڈ کے دعوے مسترد کر دیے
کمیشن کی طرف سے جائزے کے بعد ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ان انتخابات اور ان کے نتائج کی ساکھ اور درستی پر کوئی سوال اٹھائے جا سکیں
اسرائیل کے قومی الیکشن کمیشن نے بدھ چار نومبر کے روز ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے قومی پارلیمانی انتخابی عمل میں کوئی فراڈ کیا گیا تھا یا کوئی دھوکہ دہی ہوئی تھی۔
ملکی الیکشن کمیشن کے اس موقف سے موجودہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی ان سیاسی کوششوں کو بڑا دھچکہ پہنچا ہے، جن کے تحت وہ اس انتخابی عمل کی ساکھ کو داغ دار ثابت کرنا چاہتے تھے۔
اسرائیلی پارلیمانی الیکشن میں وزیر اعظم نیتن یاہو کی قیادت میں قوم پسند مذہبی سیاسی اتحاد اور اس کی مخالفت کرنے والی اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد میں سے کسی کو بھی نو منتخب پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی، جبکہ عرب اسرائیلی سیاسی جماعتیں غیر متوقع طور پر بہت زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔
ان اسرائیلی عرب سیاسی جماعتوں کو اب نئی ملکی حکومت کی تشکیل کے عمل میں ’’کنک میکر‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ملکی پارلیمان کنیسٹ کے نو منتخب عرب ارکان کی حمایت کے بغیر حکومتی یا اپوزیشن سیاسی اتحادوں میں سے کوئی بھی اکثریتی مخلوط حکومت تشکیل نہیں دے سکتا۔

اس پس منظر میں وزیر اعطم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے سیاسی اتحادیوں کی طرف سے یہ الزامات بھی لگائے گئے تھے کہ اسرائیلی عرب سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے مبینہ طور پر بیرون ملک، خاص طور پر خلیجی عرب ریاست قطر سے مالی وسائل حاصل کیے تھے۔
اس تناظر میں نیتن یاہو کی کابینہ میں اب تک قومی سلامتی کے وزیر کے عہدے پر فائز انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان بن گویر نے تو ’’انتخابی فراڈ اور بیرونی مداخلت‘‘ کے الزامات لگاتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کر دیا تھا کہ اسرائیلی عرب سیاسی جماعتوں کے تمام رہنماؤں کو گرفتار کر لیا جانا چاہیے۔
اس پس منظر میں اسرائیلی الیکشن کمیشن کا بدھ کے روز دیا جانے والا یہ بیان خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے برعکس اسرائیل کی عرب سیاسی جماعتوں نے مبینہ بیرونی مداخلت کے ساتھ حالیہ پارلیمانی الیکشن کو ’’چرانے‘‘ کو کوئی کوشش نہیں کی تھی۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بدھ کے روز کہا گیا، ’’کمیشن کی طرف سے جائزے کے بعد ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ان انتخابات اور ان کے نتائج کی ساکھ اور درستی پر کوئی سوال اٹھائے جا سکیں یا یہ کہ ان پر کسی بیرونی مداخلت کے ساتھ اثر انداز ہونے کی کوئی کوشش کی گئی تھی۔‘‘
اسی دوران اسرائیلی الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کے حتمی نتائج بدھ کے دن ملکی صدر ہرزوگ کو باقاعدہ طور پر پیش کر دیے، جس کے بعد اسرائیلی صدر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کو اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ اس انتخابی عمل کے نتیجے میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوئی، اور ان کا ’’کوئی واضح فاتح‘‘ نہیں ہے۔



