اداریہ

ان شاء اللہ سے الحمد للہ …….پیر مشتاق رضوی

ٹرمپ کی سیاست کا ایک ہی فارمولا تھا: خوف بیچو، ووٹ خریدو۔ مسلمانوں کو خطرہ بنا کر پیش کرو، دیوار بناؤ، ایران سے جنگ کا ڈر دکھاؤ، اور سفید فام انجیلیکل ووٹر کو اپنے پیچھے متحد کر لویہ فارمولا 2016ء اور 2024ء میں چل گیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

امریکی تاریخ کے اوراق الٹائے جائیں تو ایک باب مسلسل خوف اور تعصب سے لکھا گیا نظر آتا ہے۔ یہ وہ باب ہے جس میں اسلام کو اجنبی، مسلمان کو خطرہ، اور "اللہ” کے نام کو واشنگٹن کے ایوانوں کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اسی باب کے سب سے بڑے مصنف بنے۔ انہوں نے 2017ء میں مسلم بین لگایا، حجاب کو نشانہ بنایا، "ان شاء اللہ” کہنے والوں کا مذاق اڑایا۔ مگر 2026ء کے وسط مدتی انتخابات نے اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ٹرمپ جس مسلم امیدوار کا نام لینا پسند نہیں کرتے تھے، وہ آج ان شاء اللہ سے الحمد للہ کی منزلِ مراد پر پہنچ چکے ہیں۔ امریکی عوام نے ووٹ کی طاقت سے ثابت کیا ہے کہ نفرت ہار گئی ہے اور جمہوریت جیت گئی ہے۔وہ خواب جو ان شاء اللہ سے شروع ہوا تھا 2018ء میں جب الہان عمر پہلی بار کانگریس میں پہنچی تو ایک صومالی پناہ گزین بچی کے سر پر حجاب تھا اور زبان پر ان شاء اللہ تھا۔ امریکی میڈیا نے کہا یہ ایک حادثہ ہے۔ ٹرمپ نے کہا "یہ عورت امریکہ سے نفرت کرتی ہے، اسےواپس بھیج دینا چاہیے”۔ مگر وہ حادثہ نہیں تھا، وہ آغاز تھا۔ آج 2026ء میں اسی الہان عمر نے مینیسوٹا کی پانچویں ڈسٹرکٹ سے جان نیگل جیسے سخت گیر ٹرمپ حامی کو شکست دے کر مسلسل پانچویں بار جیت حاصل کی ہے۔ مینیسوٹا وہ ریاست ہے جہاں ٹرمپ نے خود تین جلسے کیے، جہاں سفید فام اکثریت 80 فیصد ہے۔ وہاں ایک سیاہ فام، مسلم، حجاب والی خاتون کا پانچویں بار جیتنا اس بات کا اعلان ہے کہ امریکہ بدل چکا ہے۔اور اس بار صرف الہان نہیں۔ اللہ کے فضل سے اس بار 6 مسلم چہرے ایوانِ نمائندگان میں پہنچے ہیں۔ رشیدہ طلیب مشی گن سے، آندرے کارسن انڈیانا سے، آدم حماوی نیوجرسی سے، لطیفہ سائمن کیلیفورنیا سے، اور عائشہ وہاب کیلیفورنیا سینیٹ سے اور سب سے بڑھ کر عبدالرحمن السید ڈیٹرائٹ کا وہ ڈاکٹر ہین جسے ٹرمپ نے کبھی نام لینا گوارا نہیں کیا، آج امریکہ کی تاریخ کا پہلا مسلم سینیٹر بن کر سینیٹ میں بیٹھ گیا ہے۔
ٹرمپ کی تعصب آمیز سیاست کیوں ناکام ہوئی
ٹرمپ کی سیاست کا ایک ہی فارمولا تھا: خوف بیچو، ووٹ خریدو۔ مسلمانوں کو خطرہ بنا کر پیش کرو، دیوار بناؤ، ایران سے جنگ کا ڈر دکھاؤ، اور سفید فام انجیلیکل ووٹر کو اپنے پیچھے متحد کر لویہ فارمولا 2016ء اور 2024ء میں چل گیا، مگر 2026ء میں پٹ گیا۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔پہلی وجہ معیشت ہے۔ جب ٹرمپ نے ایران پر حملے کی دھمکی دی تو ایک ہفتے میں پیٹرول 5 ڈالر فی گیلن تک چلا گیا۔ عام امریکی کو سمجھ آ گیا کہ نفرت کی قیمت اس کی اپنی جیب سے نکل رہی ہے۔ وہ گھر کا کرایہ دے یا نفرت کا ٹیکس دے؟دوسری وجہ نسلِ نو ہے۔ امریکہ میں Gen-Z مسلم ووٹر کا ٹرن آؤٹ اس بار 62 فیصد رہا۔ 2022ء میں یہ صرف 38 فیصد تھا۔ یہ بچے ٹک ٹاک پر الہان عمر کو سنتے ہیں، انسٹاگرام پر عبدالسید کو فالو کرتے ہیں۔ ان کے لیے مسلم ہونا خطرہ نہیں، فخر ہےتیسری وجہ خود ڈیموکریٹ پارٹی کا بدلنا ہے۔ اب ڈیموکریٹ پارٹی صرف کینیڈی اور کلنٹن کی پارٹی نہیں، یہ الہان اور رشیدہ کی بھی پارٹی ہےجب ڈیمو کریٹس کو ایوان میں 263 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت ملی تو اس کا مطلب ہے کہ اب 6 مسلم ووٹ کسی بھی بل کو پاس یا فیل کرانے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔داخلی سیاست پر اس کے گہرے اور دیرپا اثرات ہوں گے یہ جیت صرف علامتی نہیں،یہ قانون سازی کی جیت ہے۔حالیہ الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کےاسلاموفوبیا کے خلاف یہ اراکین اب ہاؤس جوڈیشری کمیٹی میں بیٹھ کر "مسلم سول رائٹس ایکٹ” لائیں گے۔ اس قانون کے تحت مساجد کی وفاقی نگرانی، حجاب پر ریاستی پابندیاں اور ائیر پورٹ پر نسلی پروفائلنگ غیر قانونی قرار پائے گی۔عبدالرحمن السید خود ایک ڈاکٹر اور پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ ہیں۔ وہ سینیٹ میں یونیورسل ہیلتھ کیئر اور طلبہ کے قرضوں کی معافی کا بل لائیں گے، جس سے لاکھوں مسلم اور سیاہ فام طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ ان اراکین کی سفارش پر اب وفاقی ججوں میں پہلی بار حجاب والی ججز، مسلم ناموں والے اٹارنی نظر آئیں گے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو اگلے 30 سال تک امریکی انصاف کے نظام کو بدلے گی۔خارجہ پالیسی: واشنگٹن سے تل ابیب اور تہران تک یہی وہ میدان ہے جہاں سب سے بڑا سیاسی زلزلہ آیا ہے۔پہلے امریکہ کی خارجہ پالیسی ٹویٹر پر بنتی تھی، ٹرمپ ایک ٹویٹ کرتے تھے اور پینٹاگون حرکت میں آ جاتا تھا۔ اب یہ پالیسی کانگریس میں بنے گی،اور وہ کانگریس زیادہ رنگدار ہے۔رشیدہ طلیب جن کا خاندان اب بھی مغربی کنارے میں رہتا ہے، کھلے عام کہتی ہیں کہ اسرائیل کو دی جانے والی 3.8 ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد کو انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کیا جائے۔ پہلے یہ بات کہنا سیاسی خودکشی تھی۔ آج ڈیموکریٹ اکثریت میں یہ بل قابلِ بحث ہے۔جب ٹرمپ نے ایران پر حملے کا عندیہ دیا تو سب سے پہلے مخالفت انہی 6 اراکین نے کی۔ الہان عمر نے کہا "ایک اور بے مقصد جنگ امریکی ماؤں کے بیٹے چھین لے گی”۔ امریکی عوام نے اسی موقف کو ووٹ دیا۔ اب ایران ڈیل کی بحالی، پابندیوں میں نرمی، اور براہ راست مذاکرات کا راستہ کھلے گا عائشہ وہاب اور آدم حماوی جیسے پاکستانی نژاد اراکین کی موجودگی سے پاکستان کے طلبہ کے ویزوں کی پابندیاں اور تجارت میں نرمی آئے گی۔ یہ لوگ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان وہ پل ہیں جو جنرل نہیں، عوام بناتے ہیں۔میں اکثر اپنے کالم "آوازِ دوست” میں لکھتا ہوں کہ تاریخ میں کچھ نشستوں کی جیت سے نہیں بلکہ جیت ہمیشہ نظریے کی ہوتی ہیں۔یہ الیکشن نشستوں کی جیت سے بڑھ کر نظریے کی جیت ہے۔ یہ اس امریکہ کی جیت ہے جس کا خواب مارٹن لوتھر کنگ نے دیکھا تھا، جہاں کردار کو رنگ پر پرکھا نہیں جاتا۔ٹرمپ نے جس مسلم امیدوار کا نام لینا پسند نہیں کیا تھا، تاریخ نے آج اس کا نام سینیٹ کے دروازے پر سنہری حروف میں لکھ دیا ہے۔کیونکہ جو قافلہ ان شاء اللہ سے روانہ ہوتا ہے، اللہ تعالی’ اسے الحمد للہ تک ضرور پہنچاتا ہے#۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button