
کرسٹوف اشٹراک
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں یہودیوں کی ایک نئی اکیڈمی کا افتتاح ہو گیا ہے۔ جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل نامی نمائندہ تنظیم نے اس ادارے کی بنیاد رکھی ہے، جس کا مقصد نفرت کے خلاف جدوجہد، مکالمت کے فروغ اور ملک بھر میں تعلیم و آگاہی کو وسعت دینا ہے۔
اس نئی اکیڈمی کے لیے مغربی جرمن شہر فرینکفرٹ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ یہ شہر تاریخی طور پر یہودی علمی اور فکری سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور آج بھی برلن، میونخ اور ڈسلڈورف کے ساتھ ساتھ جرمنی میں یہودی زندگی کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
شہر کی سب سے بڑی یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) سے دس منٹ سے بھی کم پیدل فاصلے پر واقع یہودی اکیڈمی تاریخی ‘تہوار ہال‘ کی عمارت کے قریب بھی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں 1938 میں نازیوں نے مقامی یہودی مردوں کو جمع کیا اور انہیں حراستی کیمپوں میں منتقل کیا تھا۔
یہیں 1950 میں جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل قائم ہوئی تھی، جس کا موجودہ صدر دفتر برلن میں ہے۔ فرینکفرٹ میں جرمنی کے یہودیوں کا مرکزی فلاحی ادارہ (ZWST) اور 1988 میں قائم ہونے والا یہودی میوزیم بھی موجود ہے۔
فرینکفرٹ کی علمی اور تعلیمی تاریخ میں یہودی مفکرین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس شہر کی یہودی برادری نے 1914 میں گوئٹے یونیورسٹی کے قیام میں بھی حصہ لیا تھا۔
یہودی علمی روایت کا ایک اہم ورثہ یہودی ‘لیہر ہاؤس‘ (Lehrhaus) یا درس گاہ بھی ہے، جس کی بنیاد 1920 میں رکھی گئی تھی۔ یہ ادارہ جلد ہی نمایاں حیثیت اختیار کر گیا اور آج فلسفی فرانس روزن سوائیگ (1886 تا 1929) کے ساتھ وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ نازیوں نے 1938 میں اسے بند کر دیا تھا۔
نئی اکیڈمی خود کو روزن سوائیگ کی قائم کردہ علمی روایت کا تسلسل قرار دیتی ہے۔

تعلیم اور مکالمت کا مرکز
رواں ہفتے پیر کو افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے صدر یوزف شُسٹر نے کہا، ”ہمیں نفرت کا مقابلہ تعلیم، تعلیم اور مزید تعلیم کے ذریعے کرنا ہو گا۔‘‘
شُسٹر نے اس ادارے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرمنی کو اپنا وطن سمجھنے کے یہودی برادری کے عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جرمنی میں یہودی زندگی کو ہولوکاسٹ جیسے انسانیت کے خلاف جرم کے بعد سے آج تک کے شدید ترین خطرات کا سامنا ہے۔
وفاقی جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے بھی یہود دشمنی کو ”بغیر کسی ہچکچاہٹ یا رعایت کے مکمل طور پر مسترد‘‘ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہود دشمنی کے خلاف سیاسی سطح پر بھی جدوجہد ضروری ہے۔
روایت اور جدیدیت کے درمیان پل
یہودی اکیڈمی کی عمارت میں تقریباً 110 سال پرانی جرمن طرز کی تاریخی رہائش گاہ اور چار منزلہ جدید عمارت کو یکجا کیا گیا ہے، جو ماضی اور حال، تاریخ اور جدیدیت کے امتزاج کی علامت ہے۔
اس ادارے کی ڈائریکٹر سبینا ڈوناتھ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہاں ہم خود کو ایک ایسی جگہ سمجھتے ہیں، جہاں ماضی، حال اور مستقبل کو یکساں اہمیت کے ساتھ تلاش کیا جاتا ہے۔‘‘
ڈوناتھ اور ان کے شریک ڈائریکٹر ڈورون کیزل اکیڈمی کو ”علمی دنیا اور عام لوگوں کے درمیان ایک پل‘‘ اور ”اہل علم کے ساتھ ساتھ سوالات کرنے والوں کا گھر‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔
ڈوناتھ کے مطابق اس ادارے میں مذہب کے فلسفے، اخلاقیات اور عصر حاضر کی یہودی زندگی سے متعلق اہم مباحث پر توجہ دی جائے گی۔
سکیورٹی کے سخت اقدامات
اکیڈمی کے داخلی دروازے پر ‘مزوزا‘ (Mezuzah) نصب ہے، جو تورات کی آیات پر مشتمل ایک چھوٹا سا صندوقچہ ہوتا ہے اور خدائی احکامات کی یاد دہانی کے طور پر دروازے پر لگایا جاتا ہے۔
اس نئی عمارت میں سکیورٹی انتظامات بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
سبینا ڈوناتھ نے کہا، ”یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہودی اداروں کی حفاظت کے لیے پہرہ دینا ضروری ہے۔‘‘
ان کے مطابق اکیڈمی کو بھی اسی طرح سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے جس طرح یہودی اسکولوں اور عبادت گاہوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہمارے لیے یہ روزمرہ زندگی کی ایک افسوسناک حقیقت ہے۔‘‘
اکیڈمی کی تعمیر پر تقریباً 45 ملین ڈالر لاگت آئی، جس میں سے نصف رقم جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل نے اور باقی وفاقی اور ریاستی حکومتوں نے فراہم کی۔



