
یمن میں ایک مارکیٹ پر تازہ فضائی حملوں میں کم از کم بیس افراد ہلاک، حوثیوں کا موقف
یہ حملے اس وقت کیے گئے جب سعودی قیادت کے فوجی اتحاد نے طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے دو حوثی میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے جمعہ چھ نومبر کے روز دعویٰ کیا کہ جنوب مغربی یمن میں ایک مارکیٹ پر کیے جانے والے تازہ فضائی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ بات حوثیوں کی قیادت میں کام کرنے والی انتظامیہ کی وزارت صحت کے ایک اہلکار کی طرف سے بتائی گئی۔
اگر ان ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق ہو گئی تو یہ یمن کی خانہ جنگی میں حوثی باغیوں اور ان کے خلاف یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عسکری اتحاد کے مابین ایک دوسرے پر حملوں میں آنے والی حالیہ شدت کے دوران اب تک کی سب سے ہلاکت خیز کارروائیوں میں سے ایک ہو گی۔
صنعاء میں حوثیوں کی وزارت صحت کے ترجمان انیس الاصباحی نے یمنی باغیوں کے زیر انتظام کام کرنے والے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ سعودی عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں کی طرف سے یہ حملے صوبے تعز میں کیے گئے۔
یہ حملے اس وقت کیے گئے جب سعودی قیادت کے فوجی اتحاد نے طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے دو حوثی میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

الاصباحی کے مطابق جنوب مغربی صوبے تعز کے ضلع الوازعیہ میں ایک پرہجوم مارکیٹ پر کیے گئے ان فضائی حملوں میں کم ا زکم 20 افراد کے ہلاک ہو جانے کے ساتھ ساتھ 15 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔
الوازعیہ میں مقامی حکام نے بھی ہلاکتوں کی تعداد بتائے بغیر تصدیق کر دی کہ جمعے کے روز تعز کے اس ضلع کی ایک مارکیٹ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن میں بہت سے افراد ہلاک یا زخمی ہو گئے۔
ضلعی حکام نے متاثرہ علاقے میں فضائی حملوں کی تصدیق نہیں کی جبکہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی طرف سے بھی حوثی باغیوں کے دعووں کی سچائی جاننے کے لیے اپنی طرف سے ان مبینہ فضائی حملوں کی تصدیق نہ کی جا سکی۔



