
پاکستان میں بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے، عائشہ رضا فاروق
عالمی شراکت داروں کے تعاون کے بغیر پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ ممکن نہیں,عائشہ رضا فاروق
جینوا: وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ پاکستان میں بچوں کو پولیو سمیت دیگر مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے عالمی سطح پر تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بات جنیوا میں ویکسینیشن کے عالمی اتحاد گاوی (GAVI) کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں پاکستان میں پولیو کی موجودہ صورتحال، انسدادِ پولیو پروگرام میں درپیش چیلنجز اور اس مرض کے مکمل خاتمے کے لیے جاری قومی و عالمی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عائشہ رضا فاروق نے پولیو کے خلاف پاکستان کی جدوجہد میں گاوی کی جانب سے فراہم کی جانے والی مسلسل مالی اور تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی شراکت داروں کے تعاون کے بغیر پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ ممکن نہیں۔
ملاقات کے دوران پولیو کے خاتمے کے لیے ایکسٹینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (EPI) اور پولیو ایراڈیکیشن انیشی ایٹو (PEI) کے مؤثر انضمام پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس حوالے سے اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں پروگراموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی سے ویکسینیشن کوریج میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور دور دراز و محروم علاقوں تک بچوں کی رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ انسدادِ پولیو مہم کو مربوط کرنے کے حالیہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، تاکہ سماجی تحفظ کے نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے والدین کو بچوں کی ویکسینیشن کی طرف مزید راغب کیا جا سکے۔
عائشہ رضا فاروق نے گاوی کی قیادت سے پاکستان کے لیے ہیگزاویلنٹ ویکسین کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی درخواست بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہیگزاویلنٹ ویکسین کے استعمال سے بچوں کو ایک ہی ویکسین کے ذریعے متعدد مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے، جو پاکستان کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے قومی اداروں، صوبائی حکومتوں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت کا تحفظ نہ صرف پاکستان کی ذمہ داری ہے بلکہ عالمی برادری کی مشترکہ ترجیح بھی ہونی چاہیے۔
یہ ملاقات آئندہ ماہ 2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم کے انعقاد سے قبل ہوئی، جو ملک بھر میں 2 فروری سے 8 فروری 2026 تک جاری رہے گی۔ اس قومی مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
عائشہ رضا فاروق نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو لازمی طور پر پولیو کے قطرے پلوائیں تاکہ پاکستان کو جلد از جلد پولیو فری ملک بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔



