اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر، الیکشن کمیشن کا صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت اظہارِ تشویش

حکومت کو وعدہ کردہ ٹائم لائنز کے تحت پنجاب لوکل گورنمنٹ (یونین کونسلز کی حد بندی) رولز کو گزشتہ سال 27 اکتوبر تک حتمی شکل دینی تھی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب میں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے مقررہ ڈیڈ لائنز پوری نہ کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے متعدد اہم انتظامی اور قانونی اقدامات مقررہ وقت میں مکمل نہیں کیے، جس کے باعث صوبے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات مزید تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کو وعدہ کردہ ٹائم لائنز کے تحت پنجاب لوکل گورنمنٹ (یونین کونسلز کی حد بندی) رولز کو گزشتہ سال 27 اکتوبر تک حتمی شکل دینی تھی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان قواعد کے لیے ضروری ان پٹ بھی فراہم کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود تاحال ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکا۔
اسی طرح پنجاب لوکل گورنمنٹ (کنڈکٹ آف الیکشنز) رولز کی فراہمی کی آخری تاریخ 15 نومبر 2025 مقرر کی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان قواعد کا مسودہ صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ شیئر کیا، جس پر ای سی پی نے اپنی تجاویز بھی دیں، مگر اس کے باوجود ان قواعد کا نوٹیفکیشن بھی تاحال جاری نہیں ہو سکا۔
الیکشن کمیشن کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ حد بندی اور درجہ بندی کا نوٹیفکیشن، جس میں مقامی علاقوں کی جغرافیائی حدود کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں، 22 دسمبر 2025 تک جاری ہونا تھا، لیکن ابھی تک اس حوالے سے بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح یونین کونسلوں کی تعداد کے نوٹیفکیشن کے لیے 31 دسمبر 2025 کی ڈیڈ لائن بھی پوری نہیں کی جا سکی۔
مزید برآں، 2023 کی مردم شماری کے مطابق مردم شماری کے چارجز، مردم شماری کے حلقوں اور مردم شماری بلاکس کی تفصیلات پر مشتمل مستند نقشے 10 جنوری تک فراہم کیے جانے تھے تاکہ حد بندی کا عمل شروع کیا جا سکے، لیکن الیکشن کمیشن کو اب تک یہ نقشے بھی موصول نہیں ہوئے۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے اس تمام صورتحال پر اپنی شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب کے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے۔ ڈان کی جانب سے دیکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر اعلیٰ سطح پر غور کیا گیا اور پنجاب حکومت کی جانب سے مقررہ ڈیڈ لائنز اور کمیشن کو دی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہ کرنے کو الیکشن کمیشن نے "سنجیدہ انداز میں” نوٹس لیا ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ سرگرمیوں کی تکمیل کے لیے کوئی نئی ٹائم لائن فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے التوا کا شکار ہو گیا ہے۔ خط کے مطابق، صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں پہلے ہی غیر معمولی تاخیر ہو چکی ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اس معاملے کو سماعت کے لیے مقرر کرنے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے تعین کا فیصلہ کیا ہے۔ سماعت کی تاریخ جلد جاری کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کئی برسوں سے لٹکا ہوا ہے اور اس کی تاریخ 2019 تک جاتی ہے، جب اپریل 2019 میں اُس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے مقامی حکومتوں کے ادارے تحلیل کر دیے تھے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ان اداروں کو بحال کر دیا، تاہم وہ 31 دسمبر 2021 کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد ختم ہو گئے۔
آئین کے آرٹیکل 140-A اور الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 219(4) کے تحت الیکشن کمیشن مقامی حکومتوں کے اداروں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ اس کے تحت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2022 کے اختتام تک ہونا لازم تھے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے لوکل گورنمنٹ قوانین میں بار بار ترامیم کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔
گزشتہ سال 8 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے حکم دیا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات دسمبر 2025 میں کرائے جائیں اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فوری طور پر حد بندی کا عمل شروع کرے اور دو ماہ کے اندر مکمل کرے۔ تاہم 21 اکتوبر 2025 کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب حکومت کی درخواست پر اس فیصلے میں تبدیلی کی گئی، کیونکہ اس دوران پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 نافذ کیا جا چکا تھا۔
اس کے بعد الیکشن کمیشن نے 2022 کے لوکل گورنمنٹ قانون کے تحت جاری کردہ حد بندی کا شیڈول واپس لے لیا اور صوبائی حکومت کو نئے قانون کے تحت حد بندی اور متعلقہ قواعد کو حتمی شکل دینے کے لیے چار ہفتے کی مہلت دی گئی۔ تاہم یہ شرائط 10 جنوری تک پوری نہ ہو سکیں، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے 31 اکتوبر 2025 کو واضح کیا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اگلے سال کی دوسری سہ ماہی سے قبل ممکن نہیں ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے مستقبل سے متعلق اہم قانونی اور آئینی نکات زیر بحث آئیں گے، جبکہ صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button