پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

برطانوی ٹیلی گراف کی رپورٹ،JF-17 تھنڈر خریدنے کے لیے ممالک قطار میں، کم قیمت اور اعلیٰ کارکردگی نے عالمی توجہ حاصل کر لی

JF-17 نے بھارت کے فرانسیسی ساختہ جدید لڑاکا طیاروں رافیل (Rafale) کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا

برطانوی ٹیلی گراف کی رپورٹ

برطانیہ کے معروف اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں پاکستانی لڑاکا طیارے JF-17 تھنڈر کو عالمی دفاعی منڈی کا ایک غیر معمولی اور کامیاب طیارہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے خریدنے کے لیے متعدد ممالک قطار میں کھڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کم لاگت، جدید ٹیکنالوجی اور جنگی میدان میں ثابت شدہ کارکردگی نے JF-17 کو جدید لڑاکا طیاروں کی عالمی دوڑ میں ایک مضبوط امیدوار بنا دیا ہے۔

ٹیلی گراف کے مطابق JF-17 تھنڈر کو حالیہ مہینوں میں حقیقی جنگی ماحول میں آزمایا گیا، جب مئی میں دو ایٹمی طاقتوں، پاکستان اور بھارت، کے درمیان شدید فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ اس دوران JF-17 نے بھارت کے فرانسیسی ساختہ جدید لڑاکا طیاروں رافیل (Rafale) کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد عالمی سطح پر اس طیارے کی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا۔

کم قیمت، زیادہ طاقت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ JF-17 تھنڈر اپنی کم قیمت کے باوجود ایسی صلاحیتیں رکھتا ہے جو عموماً مہنگے مغربی لڑاکا طیاروں میں پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر اور متوسط دفاعی بجٹ رکھنے والے ممالک کے لیے یہ ایک انتہائی پُرکشش انتخاب بن چکا ہے۔

JF-17 کا بلاک II اور بلاک III ویرینٹ 4.5 جنریشن کے لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جدید ریڈار سسٹمز، بصری حد سے باہر مار کرنے والے میزائلوں (BVR) اور ہوا سے ہوا اور ہوا سے زمین تک حملے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے ایک ہمہ جہت جنگی پلیٹ فارم بناتا ہے۔

جدید ایویونکس اور AESA ریڈار

ٹیلی گراف کے مطابق JF-17 میں جدید ایویونکس، ایکٹیو الیکٹرانکلی اسکینڈ ایرے (AESA) ریڈار اور مؤثر الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز نصب ہیں۔ یہ خصوصیات اسے امریکی F-16 اور روسی Su-27 جیسے پرانے مگر طاقتور طیاروں کے مقابلے میں ایک نمایاں اپ گریڈ بناتی ہیں، جو بنیادی طور پر رفتار اور ڈاگ فائٹنگ پر انحصار کرتے تھے۔

AESA ریڈار کی بدولت JF-17 بیک وقت متعدد اہداف کو ٹریک کرنے اور طویل فاصلے پر دشمن طیاروں کو زیادہ وضاحت کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ طیارہ مکمل اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل نہیں، تاہم اس حوالے سے یہ سویڈن کے گریپین، فرانس کے رافیل، یورو فائٹر ٹائفون اور چین کے J-10 جیسے طیاروں کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔

چالبازی، فائر پاور اور بقا کی صلاحیت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ JF-17 درمیانی اور کم اونچائی پر غیر معمولی چالبازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کی فائر پاور، تیز رفتاری، الیکٹرانک دفاعی نظام اور زندہ رہنے کی صلاحیت اسے جدید فضائی جنگ کے تقاضوں کے عین مطابق بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے “کسی بھی فضائیہ کے لیے ایک طاقتور اور قابل اعتماد پلیٹ فارم” قرار دے رہے ہیں۔

عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مانگ

ٹیلی گراف کے مطابق قابل استطاعت قیمت، جدید ٹیکنالوجی اور حقیقی جنگی تجربے کا یہ نایاب امتزاج JF-17 تھنڈر کو آج کی عالمی دفاعی منڈی میں سب سے زیادہ عملی اور پرکشش لڑاکا طیاروں میں شامل کر دیتا ہے۔ متعدد ممالک، خصوصاً ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے خطوں میں، اس طیارے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ JF-17 تھنڈر نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑی دفاعی کامیابی ہے بلکہ یہ ملک کی دفاعی صنعت اور برآمدات کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ کم لاگت میں اعلیٰ جنگی صلاحیتوں کا حامل یہ طیارہ مستقبل میں عالمی فضائی طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button