
سید عاطف ندیم-پاکستان اسلام آباد سے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کی بینائی سے متعلق تشویش، اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی دھرنوں کے باعث وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجۂ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک جانب اپوزیشن جماعتیں ’تحریک تحفظِ آئین پاکستان‘ کے پلیٹ فارم سے احتجاج کر رہی ہیں، تو دوسری جانب حکومت نے عمران خان کے علاج سے متعلق اپنا مؤقف سامنے رکھا ہے۔
اپوزیشن کا احتجاج اور ’تحریک تحفظِ آئین پاکستان‘
اسلام آباد میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کے مطالبے کے ساتھ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کی کال دی۔ اس اعلان کے بعد پولیس نے پارلیمنٹ لاجز، خیبر پختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے راستے بند کر دیے، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے وہیں دھرنا دے دیا۔
’تحریک تحفظِ آئین پاکستان‘ کے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی نے بتایا کہ درجنوں افراد پارلیمنٹ ہاؤس میں محصور ہیں اور انہیں کھانا، پانی اور ادویات تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ سابق رکنِ پارلیمنٹ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے احتجاجی رہنماؤں کے لیے کھانا پہنچانے کی کوشش کی، تاہم انہیں ریڈ زون میں داخلے سے روک دیا گیا، جسے انہوں نے ’انتہائی بے حسی‘ قرار دیا۔
عوام پاکستان پارٹی کی شمولیت
احتجاج میں مزید شدت اس وقت آئی جب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جماعت عوام پاکستان پارٹی نے بھی احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر ظفر مرزا نے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ زون کو عملی طور پر ’جیل‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے، تاہم وہ آئین کی بالادستی کے لیے اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔
حکومت کا مؤقف: علاج قواعد کے مطابق ہوگا
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سنیچر کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومتی مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی آنکھوں کے جاری علاج کے سلسلے میں ان کا مزید معائنہ اور علاج ماہرینِ چشم کے ذریعے ایک خصوصی طبی مرکز میں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی جمع کرائی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے اپیل کی کہ اس معاملے پر قیاس آرائیوں اور مفروضوں سے گریز کیا جائے اور اسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
عدالتی احکامات اور اہلِ خانہ سے رابطہ
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے تصدیق کی کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں سابق وزیراعظم کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر یہ رابطہ ممکن ہوا اور عمران خان نے قریباً 20 منٹ تک اپنے بیٹوں سے بات کی۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان کے بیٹے طویل عرصے بعد اپنے والد کی آواز سن کر بے حد خوش تھے۔
بینائی سے متعلق خدشات اور فوری علاج کا مطالبہ
علیمہ خان نے عمران خان کی بینائی سے متعلق شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی فوری علاج کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت علاج فراہم کرنے میں دانستہ تاخیر کی وجہ سے بینائی کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے اور مزید تاخیر مستقل نقصان کا سبب بن سکتی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مجموعی صورتحال
عمران خان کی صحت اور بینائی کا معاملہ اس وقت عدالتِ عظمیٰ اور عوامی احتجاج—دونوں محاذوں پر زیرِ بحث ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ طبی معاملات قواعد و ضوابط کے مطابق دیکھے جا رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن کا اصرار ہے کہ بروقت اور شفاف علاج نہ ہونے سے ایک سنگین انسانی و آئینی مسئلہ جنم لے چکا ہے۔ اسلام آباد میں جاری سیاسی کشیدگی نے واضح کر دیا ہے کہ یہ معاملہ محض طبی نہیں رہا بلکہ قومی سیاسی منظرنامے پر ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔





