
لبنان کو اپنے سویلین انفراسٹرکچر پر اسرائیلی حملوں کا خطرہ
یوسف رجی نے صحافیوں کو بتایا، ''ایسے اشارے موجود ہیں کہ تہران کے ساتھ موجودہ تناؤ میں مزید شدت آئی، تو اسرائیل لبنان پر بھرپور حملے کر سکتا ہے
ڈی پی اے اور اے ایف پی کے ساتھ
لبنان کی سفارتی کوششوں کا مقصد
نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا جب مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے امریکہ خطے میں اپنی متنوع عسکری طاقت مسلسل جمع کرتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی واشنگٹن کی طرف سے یہ اشارے بھی دیے جا چکے ہیں کہ وہ تہران کے خلاف دیرپا حد تک جاری رہنے والی فوجی مہم کے لیے بھی تیار ہے۔
یوسف رجی نے صحافیوں کو بتایا، ”ایسے اشارے موجود ہیں کہ تہران کے ساتھ موجودہ تناؤ میں مزید شدت آئی، تو اسرائیل لبنان پر بھرپور حملے کر سکتا ہے، اور اس دوران اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر جیسے ہوائی اڈوں تک پر حملے بھی ممکن ہیں۔‘‘

ساتھ ہی یوسف رجی نے کہا، ”ہم اس وقت ایسی سفارتی کوششیں کر رہے ہیں کہ اگر کسی تصادم کی صورت میں جوابی حملے بھی ہوئے، تو بھی اسرائیل لبنانی سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنائے۔‘‘
اس کے علاوہ یوسف رجی نے یہ بھی کہا، ”لبنان کی قومی قیادت کا موقف یہ ہے کہ اس جنگ کا ہم سے کوئی تعلق ہی نہیں۔‘‘
لبنان سے امریکی سفارتی عملے کا انخلا
امریکہ نے ابھی کل پیر 23 فروری کے روز ہی بیروت میں اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ہنگامی عملے کو یہ ہدایت کر دی تھی کہ وہ لبنان سے نکل جائے۔ امریکی دفتر خارجہ نے لبنان میں امریکی سفارتی عملے کو یہ ہدایت اسی تناظر میں کی تھی کہ خطے میں موجودہ صورت حال بگڑ کر ممکنہ فوجی تصادم کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

لبنان کو خطرہ ہے کہ اسے اسرائیل اور ایران کے مابین کسی بھی عسکری تصادم کے نتائج کا سامنا ایسی صورت میں کرنا پڑ سکتا ہے کہ اس دوطرفہ تنازعے میں لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی شامل ہو جائے۔
اسرائیل نے ابھی گزشتہ جمعے کے روز بھی مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے مبینہ کمانڈ سینٹرز اور جنوبی لبنان میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے مبینہ ٹھکانوں پر ہلاکت خیز فضائی حملے کیے تھے۔
اسی دوران لبنانی حکومت نے ملک کی ایران نواز ملیشیا حزب اللہ سے واضح طور پر منگل کے روز یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے مابین کسی بھی مسلح تنازعے میں تہران کی حمایت کرتےہوئے شریک ہونے سے باز رہے۔



