مشرق وسطیٰاہم خبریں

تہران پر فضائی حملوں میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی ہلاکت کی تصدیق، ایران میں سیاسی ہلچل تیز

رپورٹ کے مطابق وہ مشرقی تہران میں اپنے گھر پر ہونے والے ایک حملے میں اپنے ایک محافظ سمیت جاں بحق ہوئے۔ ان کی عمر 69 برس تھی۔

تہران / عالمی ڈیسک:

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اتوار یکم مارچ کو تصدیق کی ہے کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ہفتہ 28 فروری کو تہران میں ہونے والے مبینہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق وہ مشرقی تہران میں اپنے گھر پر ہونے والے ایک حملے میں اپنے ایک محافظ سمیت جاں بحق ہوئے۔ ان کی عمر 69 برس تھی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران پہلے ہی اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد شدید سیاسی اور سکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کا ذمہ دار اسرائیل اور امریکہ کو قرار دیا ہے، تاہم ان ممالک کی جانب سے احمدی نژاد کی ہلاکت پر براہ راست کوئی تصدیق یا تبصرہ سامنے نہیں آیا۔


دو مرتبہ صدر، ایک متنازعہ سیاسی سفر

محمود احمدی نژاد 2005ء سے 2013ء تک دو مرتبہ ایران کے صدر رہے۔ اپنے پہلے دورِ اقتدار میں وہ قدامت پسند اور سخت گیر حلقوں کے پسندیدہ رہنما سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے خود کو ایک عوامی رہنما کے طور پر پیش کیا اور مغرب مخالف بیانات کے ذریعے داخلی حمایت حاصل کی۔

تاہم ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ملکی سیاسی منظرنامہ بدلنا شروع ہو گیا۔ اعلیٰ مذہبی قیادت کے ساتھ ان کے اختلافات سامنے آئے اور ان کی بعض پالیسیوں نے طاقت کے مراکز میں بے چینی پیدا کی۔ خاص طور پر ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق سخت مؤقف نے عالمی سطح پر ایران کو تنہائی اور سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کروایا، جس کے نتیجے میں ملک شدید معاشی دباؤ میں آیا۔

ان کے دور میں اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں نے ایرانی معیشت کو کمزور کیا، کرنسی کی قدر گری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ان کی خارجہ پالیسی نے ایران کو عالمی برادری سے مزید دور کر دیا، جبکہ حامیوں کے نزدیک وہ قومی خودمختاری کے مضبوط علمبردار تھے۔


سیاسی تنہائی اور بدلتی حیثیت

اقتدار چھوڑنے کے بعد احمدی نژاد کی سیاسی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی گئی۔ ان کے کچھ قریبی ساتھیوں کو قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ خود احمدی نژاد کو بھی قدامت پسند حلقوں میں مکمل حمایت حاصل نہ رہی۔ سخت گیر سیاسی دھڑوں نے بھی وقت کے ساتھ انہیں ایک متنازع اور غیر متوقع شخصیت کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔

کئی مواقع پر انہوں نے موجودہ سیاسی ڈھانچے پر تنقیدی بیانات دیے، جس کے باعث وہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک مشکل شخصیت سمجھے جانے لگے۔


حالیہ حملوں کا پس منظر

تہران پر حالیہ فضائی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق حملوں کا ہدف اہم سیاسی اور عسکری تنصیبات تھیں۔ احمدی نژاد کی رہائش گاہ پر حملہ آیا اتفاقی تھا یا مخصوص ہدف، اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

سپریم لیڈر خامنہ ای کی موت کے بعد ایرانی قیادت پہلے ہی دباؤ میں تھی، اور اب ایک سابق صدر کی ہلاکت نے داخلی عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایران کے طاقت کے توازن، جانشینی کے عمل اور خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔


عالمی ردِعمل اور خدشات

بین الاقوامی سطح پر ان حملوں نے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ متعدد ممالک نے براہ راست تبصرے سے گریز کیا ہے، مگر سفارتی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جا رہا ہے کہ اس نوعیت کی ٹارگٹڈ کارروائیاں خطے کو وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران نے ان ہلاکتوں کو براہ راست بیرونی جارحیت قرار دے کر سخت جوابی کارروائی کی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر داخلی سیاسی استحکام کو ترجیح دی گئی تو ایران سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔


آگے کا منظرنامہ

ایران اس وقت قیادت کے خلا، داخلی سیاسی صف بندی اور بیرونی دباؤ کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خامنہ ای اور احمدی نژاد جیسے نمایاں رہنماؤں کی ہلاکت نے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ:

  • کیا ایران اندرونی استحکام برقرار رکھ پائے گا؟

  • کیا خطہ وسیع تر جنگ کی طرف بڑھے گا؟

  • یا عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوں گی؟

آنے والے دن نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button