
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے بدھ کے روز علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پر پارلیمنٹیرینز کو ان کیمرہ بریفنگ کے لیے مدعو کیا ہے۔ بریفنگ صبح 11:30 بجے منعقد ہوگی جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈرز کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پارلیمانی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو دعوت دی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بعض معاملات حساس نوعیت کے ہیں جن پر کھلے عام گفتگو ممکن نہیں، اسی لیے بریفنگ ان کیمرہ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، تاہم دیگر برادر ممالک کے ساتھ بھی دیرینہ روابط موجود ہیں، خصوصاً سعودی عرب جس کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون بھی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن اور حکومتی ارکان سے اپیل کی کہ وہ اس نازک مرحلے پر قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے متحد ہو کر فیصلے کریں۔
اسحاق ڈار کی توثیق، افغانستان کی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی
اس سے قبل نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سینیٹ میں خطاب کے دوران ان کیمرہ بریفنگ کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ایوانوں کے پارلیمانی لیڈرز، بشمول اپوزیشن کے معزز رہنما، تفصیلی بریفنگ میں شریک ہوں گے۔ ان کے مطابق بریفنگ میں ایران کی صورتحال کے علاوہ افغانستان سے متعلق کشیدگی بھی زیر بحث آئے گی۔
علاقائی کشیدگی کا پس منظر
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ تہران نے ان حملوں کے ردعمل میں خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطہ ایک نئے فوجی تصادم کے خدشات سے دوچار ہے۔
دوسری جانب افغانستان کے ساتھ بھی حالیہ دنوں میں کشیدگی بڑھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سرحد پار حملوں کے تناظر میں پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں، جس کے بعد افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں جوابی کارروائیاں کی گئیں۔ اس کے جواب میں پاکستان نے ’غضب للحق‘ آپریشن شروع کیا۔
پیپلز پارٹی کی وزیراعظم سے ملاقات
منگل کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا گیا۔
تحریک انصاف کی مشروط شرکت
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی حکومتی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی جب تک پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پارٹی نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بیان میں ایران اور خلیجی ریاستوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امریکہ و اسرائیل سے فوری طور پر کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
پی ٹی آئی نے افغانستان کے ساتھ موجودہ کشیدہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قومی سلامتی جیسے اہم معاملے پر مشاورت ضروری ہے، تاہم عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی نہ دینا آئینی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ پارٹی کے مطابق جب تک عدالت کے احکامات پر عمل درآمد اور بانی چیئرمین سے ملاقات کا انتظام نہیں کیا جاتا، وہ حکومتی اجلاسوں میں شرکت نہیں کرے گی۔
قومی مشاورت کی ضرورت
سیاسی مبصرین کے مطابق خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکومت کی جانب سے پارلیمانی رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کا اقدام اہم ہے۔ تاہم اپوزیشن کی مشروط شرکت کے باعث قومی سطح پر مکمل سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
بدھ کو ہونے والی ان کیمرہ بریفنگ میں علاقائی سکیورٹی، ایران و افغانستان کی صورتحال، اور پاکستان کی آئندہ سفارتی و دفاعی حکمت عملی پر اہم فیصلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



