جنگ بحالی کے لیے واشنگٹن کی منظوری کے منتظر ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای پہلا ہدف ہوگا: اسرائیل
تہران کے رہنما سرنگوں کے اندر چھپے ہوئے، انہیں رابطوں اور فیصلے سازی میں مسائل کا سامنا ہے: یسرائیل کاٹز
By VOG Urdu News Team
واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹس نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکہ سے گرین سگنل ملنے کا انتظار کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج دفاعی اور جارحانہ طور پر تیار ہے
اسرائیل کاٹز نے ویڈیو بیانات میں کہا کہ ہم ایران کو اس کے بنیادی توانائی اور بجلی کے مراکز کو تباہ کر کے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو تہس نہس کر کے پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کے لیے متحدہ امریکہ کے سبز اشارے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے نئے دور کے آغاز کی صورت میں اپنے اہداف کا تعین کر لیا ہے ۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اسرائیل پہلے قدم کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران کے رہنما سرنگوں کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔ انہیں رابطوں اور فیصلے سازی میں مسائل کا سامنا ہے۔
اسرائیل کے ’’ چینل 13 ‘‘ نے ہفتے کے آخر میں ایران کے خلاف جنگ کی تجدید کے احتمال کے پیش نظر اسرائیل میں الرٹ کا انکشاف کیا ہے۔ ٹی وی چینل نے کہا امریکی فوج فضائی راستے کے ذریعے خطے میں ہتھیاروں کی کھیپ منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سیاق و سباق میں ’’ چینل 15 ‘‘ نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایندھن بھرنے والے طیارے تل ابیب پہنچ رہے ہیں۔
یہ صورتحال واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی سست روی کے ساتھ سامنے آئی ہے جہاں ایک پاکستانی سفارت کار نے کہا ہے کہ مذاکرات معطل ہیں اور ان میں پیش رفت انتہائی کمزور ہے۔ انہوں نے "العربیہ/الحدث” کو دیے گئے بیانات میں یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے راستے کو حقیقی جمود کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے اسلام آباد کو مطلع کیا ہے کہ ناکہ بندی مذاکرات میں اس کی موجودگی کے سامنے رکاوٹ ہے۔ واشنگٹن اب بھی ایران پر بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کے موقف پر قائم ہے۔
امریکی صدر نے دو دن قبل اس جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا جو آٹھ اپریل کی فجر کو شروع ہوئی تھی تاکہ سفارتی حل کی گنجائش پیدا کی جا سکے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ تہران کے پاس امریکی مطالبات کے حوالے سے ایک متفقہ جواب یا تجویز لانے کا یہ آخری موقع ہے۔ ایک امریکی ذریعے اور وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بدھ کو بتایا تھا کہ ٹرمپ سفارتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے موجودہ جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی مدت تک توسیع کے لیے تیار ہیں۔




