یورپتازہ ترین

آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی: یورپی ممالک کثیرالقومی بحری مشن کی تیاری میں مصروف

ذرائع کے مطابق، یہ کثیرالقومی بحری مشن امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے بعد ہی تعینات کیا جائے گا۔ اس سے قبل خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By VOG Urdu News Team
مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کو درپیش خطرات کے پیش نظر یورپی طاقتیں ایک بڑے کثیرالقومی بحری مشن کے قیام کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہی ہیں۔ اس مشن کا مقصد عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانا اور تجارتی جہازوں کو ممکنہ حملوں سے بچانا ہے۔
اس سلسلے میں لندن میں اس ہفتے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تقریباً 30 ممالک کے فوجی منصوبہ سازوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر تفصیلی غور کیا گیا کہ یہ دفاعی کارروائی عملی طور پر کیسے کام کرے گی، اور کن اقدامات کے ذریعے تجارتی بحری جہازوں کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
یہ مجوزہ مشن بنیادی طور پر برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ تجویز ہے، جسے "دفاعی مشن” قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ صرف جہازرانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ کثیرالقومی بحری مشن امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے بعد ہی تعینات کیا جائے گا۔ اس سے قبل خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
منصوبے کے مطابق، اس بحری مشن میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے لیس جنگی جہاز شامل ہوں گے، جو میزائلوں، ڈرونز اور تیز رفتار حملہ آور کشتیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس کے علاوہ:
فضائی دفاعی نظام سے لیس بحری جہاز
بغیر عملے کے بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے نظام
مائن کلیئرنس آپریشنز کے لیے خصوصی آلات
یہ تمام اقدامات اس اہم آبی گزرگاہ میں محفوظ اور بلا رکاوٹ تجارتی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اس مشن میں E3 (یورپی تھری) یعنی جرمنی، فرانس اور برطانیہ مرکزی کردار ادا کریں گے۔
جرمنی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پارلیمانی منظوری کے بعد مائن کلیئرنس اور بحری نگرانی میں حصہ لے گا۔ جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے اس حوالے سے واضح قانونی مینڈیٹ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
فرانس پہلے ہی خطے میں مضبوط بحری موجودگی رکھتا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے مطابق، مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ احمر میں تعینات فرانسیسی افواج — جن میں طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈی گال بھی شامل ہے — کو اس مشن کے لیے جزوی طور پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں بحری اثاثوں کی تعیناتی یورپی ممالک کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس کی جانب سے بحیرہ بالٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یورپی ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے پہلے کی طرح امریکہ پر مکمل انحصار نہیں کر سکتے، جس کے باعث وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بحری مشن کو متعدد خطرات کا سامنا ہوگا، جن میں:
ڈرون حملے
اینٹی شپ میزائل
بحری بارودی سرنگیں
شامل ہیں، اور یہ حقیقت بھی تسلیم کی جا رہی ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظام بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ صرف فوجی اقدامات سے خطے میں پائیدار استحکام ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، دیرپا امن کے لیے سفارتی حل ناگزیر ہے، جس کے تحت ایران کو خودمختار طور پر حملے روکنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
اسی مقصد کے تحت یورپی ممالک بھارت اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستان، چین اور بھارت جیسے ممالک ایران کے ساتھ دوطرفہ انتظامات کے ذریعے اپنی بحری تجارت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ان اقدامات کا حجم تاحال محدود ہے۔
فی الحال یورپ ایک محدود دفاعی بحری مشن کی تیاری کے ساتھ ساتھ سیاسی حل پر بھی زور دے رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس حکمت عملی کو عالمی سطح پر کتنی حمایت حاصل ہو سکے گی۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایسے میں یہ مجوزہ بحری مشن نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button