کاروبارتازہ ترین

ایف پی سی سی آئی اور گوانگژو چیمبر کے درمیان تاریخی معاہدہ: پاک چین تجارت کے فروغ کی نئی راہیں کھل گئیں

کاروباری ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ دوطرفہ تجارت میں حائل قانونی و انتظامی رکاوٹیں بھی کم ہوں گی۔

سید عاطف ندیم ،پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) اور گوانگژو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔

یہ معاہدہ گوانگژو میں قائم پاکستانی قونصل خانے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران طے پایا، جس میں دونوں ممالک کے کاروباری اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔

اعلیٰ سطحی قیادت کی شرکت

معاہدے پر دستخط ثاقب فیاض مگوں، جو ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر اور چیئرمین بی ایم پی پروگریسیو ہیں، اور گوانگژو چیمبر کے چیئرمین رچرڈ وو نے کیے۔

تقریب میں پاکستان کے قونصل جنرل سردار محمد اور تجارتی اتاشی محمد عمران بھی موجود تھے، جنہوں نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔

آربیٹریشن ڈیسک کا قیام

معاہدے کی نمایاں شقوں میں دونوں اداروں کے تحت آربیٹریشن ڈیسک کا قیام شامل ہے، جس کا مقصد پاک چین کاروباری برادری کو درپیش تجارتی تنازعات کا فوری، شفاف اور مؤثر حل فراہم کرنا ہے۔

کاروباری ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ دوطرفہ تجارت میں حائل قانونی و انتظامی رکاوٹیں بھی کم ہوں گی۔

تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع

معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے، برآمدات و درآمدات کو آسان بنانے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اس موقع پر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اقتصادی شراکت دار ہے، اور پاکستان عالمی اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے چین کے وژن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

چینی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی

گوانگژو چیمبر کے چیئرمین رچرڈ وو نے کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر قابل تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کو مستقبل کے اہم شعبے قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ اسے چینی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل بناتی ہے۔

لاہور میں بی ٹو بی کانفرنس کا اعلان

اس پیش رفت کے ساتھ ہی ایک بڑی کاروباری سرگرمی کا بھی اعلان کیا گیا۔ رچرڈ وو کے مطابق 9 اور 10 مئی کو لاہور میں پہلی بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

اس کانفرنس میں:

  • ہوم اپلائنسز
  • برقی آلات
  • صنعتی مشینری
  • توانائی کے شعبے

سے تعلق رکھنے والے پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا تاکہ براہ راست کاروباری روابط قائم کیے جا سکیں۔

علاقائی و عالمی تناظر

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاہدہ نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دے گا بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاک چین اقتصادی تعلقات پہلے ہی مضبوط ہیں، اور ایسے اقدامات اس شراکت داری کو مزید گہرا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

مستقبل کی سمت

کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ آربیٹریشن ڈیسک، بی ٹو بی کانفرنسز اور باہمی تعاون کے دیگر اقدامات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

مجموعی طور پر، یہ معاہدہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے، کاروباری مواقع بڑھانے اور علاقائی اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button