
امریکہ۔اسرائیل۔ایران جنگ عالمی معیشت کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے: امتیاز عالم
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی دراصل ایک "وار آف چوائس" یعنی اپنی مرضی سے چھیڑی گئی جنگ ہے
شہباز انور خان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
معروف صحافی، تجزیہ کار اور سیکرٹری جنرل ساؤتھ ایشیاء فری میڈیا ایسوسی ایشن (سافما) امتیاز عالم نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سیاسی توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عالمی سطح پر شدید معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ خود امریکہ کو بھی سنگین مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وہ "امریکہ، اسرائیل۔ایران جنگ اور امنِ عالم” کے موضوع پر منعقدہ ایک خصوصی علمی نشست سے کلیدی خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام روسی مرکز برائے سائنس، تعلیم و ثقافت نے کیا تھا۔ اس تقریب میں ماہرین تعلیم، سفارت کاروں، دانشوروں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کی صدارت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے کی، جبکہ دیگر مقررین میں ایمبیسیڈر فار روسی سائنس اینڈ پاکستان اور چیئرمین روسی مرکز برائے سائنس، تعلیم و ثقافت ڈاکٹر شاہد حسن، جمہوریہ کرغزستان کے اعزازی قونصل کاشف یونس مہر اور صدر پاک۔روس فرینڈ شپ فورم ڈاکٹر افتخار بخاری شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے انجام دیے۔
اپنے خطاب میں امتیاز عالم نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی دراصل ایک "وار آف چوائس” یعنی اپنی مرضی سے چھیڑی گئی جنگ ہے، جبکہ ایران کے لیے یہ ایک "وار آف سروائیول” یعنی بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایران اس شدت کے ساتھ ردعمل دے گا اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ تاہم ایران نے یہ اقدام اس بنیاد پر کیا کہ انہی اڈوں سے اس کے خلاف حملے کیے جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے طول پکڑنے کی صورت میں عالمی سطح پر توانائی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی معیشتیں دباؤ کا شکار ہوں گی، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق عالمی منڈیوں میں عدم استحکام کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
امتیاز عالم نے مزید کہا کہ اس جنگ کے اثرات صرف توانائی کی منڈیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی مالیاتی نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ڈالر پر مبنی عالمی معاشی نظام کو بھی اس صورتحال سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملوں کے پس منظر میں اسرائیل کی سلامتی کے خدشات اور صہیونیت کی مخالفت کا عنصر بھی کارفرما ہے۔
عالمی طاقتوں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اور روس اس جنگ میں براہ راست مداخلت سے گریز کریں گے۔ ان کے مطابق چین ایک طویل مدتی عالمی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور وہ مستقبل میں عالمی طاقت بننے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جبکہ روس نے ایران کے ساتھ سیاسی اور سفارتی سطح پر اظہار یکجہتی ضرور کیا ہے لیکن وہ براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے محتاط ہے۔
پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امتیاز عالم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو سفارتی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی تعلقات ہیں جبکہ دوسری طرف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بھی پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو پاکستان کو توانائی کے بحران، معاشی دباؤ اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اثرات حکومت اور عوام دونوں پر پڑیں گے۔
تقریب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ کے لیے کسی طویل جنگ کو جاری رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ایران ایک مضبوط علاقائی طاقت ہے جس کے پاس دفاعی صلاحیت، وسائل اور عوامی حمایت موجود ہے، اس لیے اسے وینزویلا یا کسی کمزور ریاست کی طرح آسانی سے زیرِ اثر نہیں لایا جا سکتا۔
اعزازی قونصل جمہوریہ کرغزستان کاشف یونس مہر نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ خطے کے ممالک اس ممکنہ جنگ کے اثرات سے خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے علاقائی تعاون، مضبوط سفارت کاری اور اقتصادی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
صدر پاک روس فرینڈ شپ فورم ڈاکٹر افتخار بخاری نے کہا کہ اس جنگ کے امریکہ، اسرائیل اور ایران تینوں پر طویل المدتی اور خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اندر بھی بڑی تعداد میں عوام اس جنگ کے خلاف ہیں جبکہ اسلامی ممالک کے حکمران مختلف سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے کھل کر مؤقف اختیار نہیں کر پا رہے۔
تقریب کے میزبان اور چیئرمین روسی مرکز برائے سائنس، تعلیم و ثقافت ڈاکٹر شاہد حسن نے مہمان مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ قومی اور بین الاقوامی امور پر علمی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے ایسے سیمینار اور تقریبات کا انعقاد آئندہ بھی جاری رکھے گا۔
تقریب کی نظامت کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی تباہی اور معاشی بربادی کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج بھی دنیا کے کئی خطے جنگوں اور تنازعات کا شکار ہیں اور عالمی ادارے ان تنازعات کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا خصوصی سیشن بھی منعقد ہوا جس میں شرکاء نے عالمی سیاست، خطے کی بدلتی صورتحال، عالمی طاقتوں کے کردار اور ممکنہ سفارتی حل کے حوالے سے سوالات کیے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی امن کے قیام کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔




