
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
گزشتہ چند برسوں میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں نوجوانوں کی کیرئیر سوچ کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ جہاں ماضی میں ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری ملازمت کو کامیابی کا واحد راستہ سمجھا جاتا تھا، وہیں آج کی نوجوان نسل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کے ذریعے اپنی راہیں خود متعین کر رہی ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد کامران کی کہانی اس بدلتی ہوئی سوچ کی واضح مثال ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میٹرک کے بعد ان کا ارادہ روایتی انداز میں میڈیکل کے شعبے میں جانے کا تھا، مگر وقت کے ساتھ بدلتی دنیا اور سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر نے ان کا رخ تبدیل کر دیا۔
“فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر میں نے دیکھا کہ لوگ چھوٹے چھوٹے کام کر کے بھی وائرل ہو رہے ہیں اور اچھی آمدن حاصل کر رہے ہیں۔ میں نے رسک لیا اور آج میں یوٹیوب کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پروڈکشن کا اپنا کامیاب کاروبار چلا رہا ہوں،” انہوں نے بتایا۔
اسی طرح لاہور ہی کی شفق رشید نے گیمنگ انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی۔ وہ ایک فری لانسر کے طور پر بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ گیم ڈیزائننگ کے مختلف منصوبوں پر کام کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق کورونا وبا کے دوران آن لائن مواقع نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
“میں نے ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ایک برطانوی کمپنی کے ساتھ کام شروع کیا، اور پھر اتنی آمدن ہوئی کہ اب میں اپنا گیمنگ کورس لانچ کرنے جا رہی ہوں تاکہ دوسرے نوجوان بھی اس تیزی سے بڑھتی انڈسٹری کا حصہ بن سکیں،” شفق نے کہا۔
ماہرین کے مطابق یہ دونوں کہانیاں دراصل ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں، جسے آج "ڈیجیٹل معیشت” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جو خاموشی سے پروان چڑھی مگر اب کھربوں ڈالر کی عالمی صنعت بن چکی ہے، اور پاکستان کے نوجوان بھی اس میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
یوٹیوب: تفریح سے معیشت تک کا سفر
پاکستان میں یوٹیوب نے گزشتہ دہائی میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ پلیٹ فارم صرف تفریح تک محدود تھا، مگر اب یہ ایک مکمل میڈیا ایکو سسٹم بن چکا ہے۔
آج یوٹیوب پر دو بڑے رجحانات نمایاں ہیں: ایک تفریحی مواد بنانے والے، جن میں ولاگرز اور کامیڈی کریئیٹرز شامل ہیں، جبکہ دوسرا خبروں اور تجزیے کا شعبہ ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ اب صحافت صرف روایتی میڈیا تک محدود نہیں رہی۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں کے افراد بھی اپنے یوٹیوب چینلز کے ذریعے مقامی خبریں خود رپورٹ اور نشر کر رہے ہیں۔ کئی مواقع پر یوٹیوب پر آنے والی خبریں بعد میں مرکزی ٹی وی چینلز کا حصہ بنتی ہیں۔
آمدن کے لحاظ سے یوٹیوب ایک طاقتور مگر غیر منظم شعبہ ہے۔ بڑے یوٹیوبرز ایک ویڈیو کے عوض لاکھوں روپے کما لیتے ہیں، جبکہ ہزاروں ایسے بھی ہیں جو محدود آمدن پر جدوجہد کر رہے ہیں۔
رزاق علی، جو یوٹیوبرز کو ایڈیٹنگ اور دیگر تکنیکی خدمات فراہم کرتے ہیں، کہتے ہیں:
“یہ ایک ایسی معیشت ہے جس میں داخل ہونا آسان ہے مگر کامیاب ہونا مشکل۔ اب بڑے یوٹیوبرز اپنی ٹیمیں رکھتے ہیں اور یہ ایک مکمل انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔”
فری لانسنگ: پاکستان کی ابھرتی برآمدی صنعت
ڈیجیٹل معیشت کا سب سے مضبوط ستون فری لانسنگ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پاکستانی فری لانسرز نے 557 ملین ڈالر کا زرِ مبادلہ ملک میں لایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اسی طرح آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
ماہر ثاقب اظہر کے مطابق:
“فری لانسنگ اب جز وقتی کام نہیں رہا بلکہ ایک مکمل برآمدی صنعت بن چکا ہے۔ لاکھوں نوجوان گرافک ڈیزائن، ویب ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مواد نویسی کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں خدمات فراہم کر رہے ہیں اور ڈالر میں کمائی کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس شعبے کے لیے تربیتی پروگرامز بھی موجود ہیں، مگر یہ اب بھی غیر منظم ہے۔
“زیادہ تر فری لانسرز کے پاس کوئی قانونی تحفظ نہیں، اور انٹرنیٹ کی رفتار اور پالیسی مسائل بھی ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں،” انہوں نے وضاحت کی۔
آن لائن کاروبار: کم سرمایہ، زیادہ مواقع
ڈیجیٹل معیشت کا تیسرا اہم پہلو آن لائن کاروبار ہے، جو تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہزاروں چھوٹے کاروبار چل رہے ہیں، جن میں کپڑوں، جیولری، خوراک اور دیگر مصنوعات کی فروخت شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اس شعبے کی سب سے بڑی کشش اس کی کم لاگت ہے۔
“ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوان اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے۔ نہ دکان کی ضرورت، نہ بڑے سرمائے کی،” ثاقب اظہر نے کہا۔
ڈراپ شپنگ جیسے جدید ماڈلز نے بھی اس شعبے کو مزید وسعت دی ہے، جہاں بیچنے والا بغیر اسٹاک رکھے صرف آرڈرز مینج کرتا ہے اور سپلائر براہ راست گاہک تک سامان پہنچاتا ہے۔
نوجوانوں کی ترجیحات میں بڑی تبدیلی
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت نوجوانوں کو تین بنیادی چیزیں فراہم کر رہی ہے: آمدن، آزادی اور اختیار۔ یہی وہ عوامل ہیں جو روایتی ملازمتوں میں اکثر دستیاب نہیں ہوتے، اور اسی وجہ سے کیرئیر کے انتخاب میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اگرچہ اس شعبے میں بے شمار مواقع موجود ہیں، مگر اس کے ساتھ چیلنجز بھی ہیں، جن میں عدم استحکام، غیر رسمی ڈھانچہ اور پالیسی مسائل شامل ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان کی نئی نسل ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ بنا رہی ہے اور ملک کی معیشت میں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مناسب حکومتی پالیسی، بہتر انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کر سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔



